حدیث نمبر: 1861
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ، ثُمَّ قَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر نماز کے بعدتینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا، یہ ننانوے (کلمات) ہو گئے، پھر اس نے سو(۱۰۰) کو پورا کرنے کے لئے کہا: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ تو اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں۔
حدیث نمبر: 1862
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالِهِمْ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا، وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَاتٍ إِذَا عَمِلْتَ بِهِنَّ أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ وَلَا يَلْحَقُكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟)) قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((تُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (وَفِي لَفْظٍ:) تُسَبِّحُ اللَّهَ خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! صاحب ِ مال لوگ تو سارا اجر لے گئے ہیں، (وہ اس طرح کہ) وہ نماز پڑھتے ہیں، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ روزہ رکھتے ہیں، ہم بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس زائد مال ہیں جن کا وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاساتنا مال نہیں ہے کہ ہم بھی صدقہ کر سکیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں ایسے کلمات کی طرف تیری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تو ان پر عمل کرے گا تو تو سبقت لے جانے والوں کو پا لے گا اور تیرے (مقام) کو کوئی بھی نہیں پا سکے گا، مگر وہ جو تیرے عمل کی طرح کا عمل کرے گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ اللہ اکبر، تینتیس مرتبہ سبحان اللہ اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ کہنا ہے اور اس دعا کے ساتھ اس کو ختم کرنا ہے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ایک روایت میں ہے: تو نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہے۔
حدیث نمبر: 1863
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي الْمَنَامِ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ فِي مَنَامِهِ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَافْعَلُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہمیں حکم تو یہ دیا گیا کہ ہر نماز کے بعد ہم تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہیں، لیکن ایک انصاری کو خواب آیا اور اس سے خواب میں پوچھا گیا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اتنی اتنی دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ (اور دوسرے اذکار) کہو؟اس نے خواب میں جواب دیا: جی ہاں، تو خواب میں آنے والے نے کہا: تم پچیس پچیس مرتبہ کر لو اور پچیس مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا اضافہ کر لو۔ جب صبح ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس خواب کی خبر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے ہی کر لو۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے ان تسبیحات کییہ تعداد ثابت ہوئی: پچیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، پچیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، پچیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور پچیس مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔عام طور پر لوگوں کو اس عمل کا علم نہیں ہے، اگر کسی کو معلوم ہے تو شاید وہ عمل نہ کر سکا ہو، ہمیں اپنی زندگیوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام سنتوں پر عمل کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 1864
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((خَلَّتَانِ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِمَا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ وَهُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ)) قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ((أَنْ تَحْمَدَ اللَّهَ وَتُكَبِّرَهُ وَتُسَبِّحَهُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ عَشْرًا عَشْرًا وَإِذَا أَتَيْتَ إِلَى مَضْجَعِكَ تُسَبِّحُ اللَّهَ وَتُكَبِّرُهُ وَتَحْمَدُهُ مِائَةَ مَرَّةٍ، فَتِلْكَ خَمْسُونَ وَمِائَتَانِ بِاللِّسَانِ وَأَلْفَانِ وَخَمْسُمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ أَلْفَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ سَيِّئَةٍ؟)) قَالُوا: كَيْفَ مَنْ يَعْمَلُ بِهَا قَلِيلٌ؟ قَالَ: ((يَجِيءُ أَحَدُكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةَ كَذَا وَكَذَا فَلَا يَقُولُهَا وَيَأْتِيهِ عِنْدَ مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ فَلَا يَقُولُهَا)) قَالَ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهُنَّ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو خصلیتں ہیں، جو ان پر محافظت کرے گا، وہ اسے جنت میں داخل کردیں گی، وہ دو آسان تو ہیں لیکن عمل کرنے والے تھوڑے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ دو ہیں کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر فرض نماز کے بعد دس دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور سُبْحَانَ اللّٰہِ کہنا، پھر جب تو اپنے بستر پر آئے تو سو مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے،یہ زبان پر تو کل دو سو پچاس کلمات ہوں گے، لیکن ترازو میں دو ہزار پانچ سو ہوں گے، (اب ذرا یہ تو بتاؤ کہ) تم میں سے کون ہے جو ایک دن رات میں دو ہزار پانچ سو برائیاں کرتا ہو؟ صحابہ نے کہا: تو پھر عمل کرنے والے کم کیسے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نماز میں ہی تمہارے پاس آ جاتا ہے اور ضروریات یاد کروانا شروع کر دیتا ہے، پس وہ (سلام کے بعد فوراً کھڑا ہو جاتا ہے اور) یہ کلمات کہہ نہیں پاتا، اسی طرح وہ (رات کو) سوتے وقت بھی آجاتا ہے اور اس ذکر سے پہلے ہی اسے سلا دیتا ہے، پس وہ یہ کلمات نہیں کہہ پاتا۔ راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے ان کو شمار کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین کرام! آپ کو اس ذکر کی عظمت کا اندازہ تو ہو چکا ہو گا کہ یہ انتہائی آسان عمل روزانہ ڈھائی ہزار نیکیوں کا سبب بنتا ہے، لیکن آپ مانیںیا نہ مانیں، نمازیوں کی بھاری اکثریت اس کا اہتمام کرنے سے عاجز ہے، اب ہم ایسی قوم بن چکے ہیں کہ چائے کی ایک ایک مجلس میں ڈیڑھ دو دو گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے بارے میں ہمارے آلودہ ذہنوں میں ایک ہی قانون رچ بس چکا ہے کہ مسجد میں آنے میں دیر کی جائے اور جلدی جلدی وہاں سے نکل جایا جائے، اگر کسی مسجد میں فرضی نماز کے بعد کوئی اجتماعی دعا یا پانچ چھ منٹوں کا درس ہو جائے تو سارے نمازی اس ذکر سے محروم ہو جاتے ہیں، سلام پھیرنے کے بعد اکثر نمازیوں کی مسجد سے نکلنے کییہ کیفیت ہوتی ہے کہ اگر مسجد میں زیادہ دیر لگ گئی تو کوئی آفت آ دبوچے گی۔ رہا مسئلہ سوتے وقت یہ تسبیحات کہنے کا تو وہ تو شیطان نے جو ٹھیکہ لیا تھا، وہ اس میں کامیاب ہو گیا ہے، ہم عام طور پر عشاء کی نماز کے بعد اپنے گھروں میں دو تین چار گھنٹوں تک جاگتے رہتے ہیں، کوئی کھانے میں مصروف، کوئی گپ شپ کی محفل میں مگن، کوئی کسی گیم اور کھیل میں مشغول اور کوئی کسی ڈرامے کو دیکھنے سننے میںیا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر پر اتنا مگن کہ کسی کے لیے کوئی فرصت نہیں، … … علی ہذا القیاس۔ لیکن جب سونے کی باری آئے گی اور ہم اپنا سر نرم سے تکیے پر رکھیں گے تو زبان موٹی ہو کر گنگ ہو جائے اور بہت جلدی آنکھیں پھڑپھڑانا شروع ہو جائیں گی اور بالآخر اللہ کا ذکر کا کوئی کلمہ کہنے سے پہلے مجازی موت مر جائیں گی۔ یہ کوئی جذباتی الفاظ یا تقریر نہیں ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس کو حقیقت سمجھے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہے، جس کی وجہ اللہ تعالیٰ سے قلت ِ معرفت اور دینی اور اخروی امور میں عدم دلچسپی ہے۔
حدیث نمبر: 1865
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَدْ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَطْلُبَانِ خَادِمًا مِنَ السَّبْيِ يَخْفِّفُ عَنْهُمَا بَعْضَ الْعَمَلِ فَأَبَى عَلَيْهِمَا ذَلِكَ فَذَكَرَ قِصَّةً قَالَ: ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا: ((أَلَا أُخْبِرُكُمَا بِخَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَانِي؟)) قَالَا: بَلَى، فَقَالَ: ((كَلِمَاتٌ عَلَّمَنِيهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ تُسَبِّحَانِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتَحْمَدَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، وَإِذَا أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ)) قَالَ: فَوَ اللَّهِ مَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ ابْنُ الْكَوَّاءِ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ؟ فَقَالَ: قَاتَلَكُمُ اللَّهُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، نَعَمْ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا قیدیوں میں سے ایک خادم کا سوال کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، تاکہ بعض کام وہ کر دے اور اس طرح ان پر ذرا تخفیف ہو جائے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خادم دینے سے انکار کر دیا، … سارا قصہ ذکر کیا … ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دے دوں جو اس چیز سے بہتر ہے، جس کا تم نے سوال کیا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چند کلمات ہیں، جبریل علیہ السلام نے مجھے ان کی تعلیم دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور دس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو، پھر جب تم اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے، تب سے میں نے ان کو ترک نہیں کیا۔ ابن کوا نے کہا: کیا صفین والی رات بھی نہیں چھوڑے تھے ؟ انہوں نے کہا: اے اہل عراق! تمہیں اللہ تباہ کرے، ہاں ہاں میں نے صفین والی رات کو بھی ان کو ترک نہیں کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … قصہ سے مراد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شکایات کی تفصیل ہے، نیز اس میں اس سازو سامان کا بھی ذکر ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کو ان کی شادی کے موقع پر دیا تھا۔ صفین والی رات سے مراد وہ لڑائی ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل شام کے درمیان لڑی گئی تھی، ویسے فرات کے قریب ایک جگہ کا نام صفین ہے، جس مین یہ جنگ ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 1866
عَنْ أَبِي عُمَرَ الصِّينِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا نَزَلَ بِهِ ضَيْفٌ قَالَ: يَقُولُ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مُقِيمٌ فَنُسَرِّحُ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: فَإِنْ قَالَ لَهُ ظَاعِنٌ قَالَ لَهُ: مَا أَجِدُ لَكَ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ شَيْءٍ أَمَرَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأُجُورِ، يَحُجُّونَ وَلَا نَحُجُّ، وَيُجَاهِدُونَ وَلَا نُجَاهِدُ، وَكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ جِئْتُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا يَجِيءُ بِهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ، أَنْ تُكَبِّرُوا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدُوهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمر صینی کہتے ہیں: سیدناابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی مہمان آتا تو وہ اسے کہتے: کیا آپ ٹھہریں گے کہ ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں چرائیں یا آپ جائیں گے کہ ہم یہیں اس کو چارہ ڈال دیں۔ جب وہ مہمان کہتا کہ وہ تو جانے والا ہے تو سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اسے کہتے: میں تیرے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا کہ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا، بات یہ ہے کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! سارا اجر تو مالدار لوگ لیے جا رہے ہیں، وہ حج کرتے ہیں اور ہم حج نہیں کر سکتے، وہ جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کر سکتے اور وہ فلاں فلاں عمل بھی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف رہنمائی نہ کر دوں کہ اگر تم نے اس کو تھامے رکھا تو تم ایسا افضل عمل کرو گے کہ ان میں سے کوئی ایک ایسا عمل کرتا ہے، تم ہر نماز کے بعد چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ، تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہا کرو۔
حدیث نمبر: 1867
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَزَلَ بِأَبِي الدَّرْدَاءِ رَجُلٌ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مُقِيمٌ فَنُسَرِّحُ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفُ؟ قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّي سَأُزَوِّدُكَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهُ لَزَوَّدْتُكَ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، نُصَلِّي وَيُصَلُّونَ وَنَصُومُ وَيَصُومُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَهُ لَمْ يَسْبِقْكَ أَحَدٌ كَانَ قَبْلَكَ وَلَمْ يُدْرِكْكَ أَحَدٌ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِي نَفْعَلُ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی بطور مہمان آیا، انھوں نے اس سے پوچھا: کیا تم ٹھہرو گے کہ ہم سواری کو چراگاہ میں لے جائیں یا چلے جاؤ گے کہ ہم اس کو یہیں چارہ ڈال دیں؟ اس نے کہا: جی، میں تو جانے والا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے کہا: تو پھرمیں تجھے زاد راہ دیتا ہے اور وہ ایسا زادِ راہ ہے کہ اگر کوئی چیز اس سے بہتر ہوتی تو میں تجھے وہ دے دیتا، (تفصیل یہ ہے) کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مالدار لوگ تو دنیا و آخرت لیے جا رہے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، وہ بھی نماز پڑھتے ہیں، ہم روزہ رکھتے ہیں، وہ بھی روزہ رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیامیں تیری رہنمائی ایسی چیز کی طرف کر دوں کہ اگر تو نے اس پر عمل کیا تو تجھ سے پہلے والے بھی تجھ سے سبقت نہیں لے جا سکیں گے اور تیرے بعد والے بھی (تیرے مقام) کو نہیں پہنچ پائیں گے، مگر وہ جو تیرے والا ہی عمل کرے گا۔ ہر نماز کے بعدتینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ ِاور چونتیس مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہنا۔
حدیث نمبر: 1868
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز سے سلام پھیرتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللَّہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْ کْرَامِ۔ (اے اللہ! تو سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے تو بابرکت ہے اے شان و عزت والے۔)
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں إِذَا أَرَادَ أَنْ یَنْصَرِفَ کی بجائے إِذَا اِنْصَرَفَ کے الفاظ ہیں اور اس مقام پر انصراف کے معانی سلام کے ہیں۔ علمائے اسلام کا اتفاق ہے کہ سلام کے بعد درج بالا اور دیگر مسنون اذکار مستحب ہیں، فرض نہیں ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ کا ذکر بڑی اہمیت کا حامل ہے، خصوصاً ہم جیسے لوگوں کے لیے جن کی نمازوں میں بڑا نقص موجود ہیَ۔