کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1852
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ بَعْدَ الصَّلَاةِ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، وَصَلَاتُهُمْ عَلَيْهِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ بندہ جب نماز کے بعد اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھارہتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور ان کی رحمت کی دعا یہ ہوتی ہے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔ (اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1852
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وانظر الحديث بالطريق الثاني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1219»
حدیث نمبر: 1853
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَقَدْ صَلَّى الْفَجْرَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَجْلِسِ فَقُلْتُ: لَوْ قُمْتَ إِلَى فِرَاشِكَ كَانَ أَوْطَأَ لَكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ … )) (وَذَكَرَ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْمُتَقَدِّمِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)عطا بن سائب کہتے ہیں: میں ابو عبد الرحمن سُلَمی کے پاس گیا، جبکہ وہ نماز فجر پڑھ کر اپنی جائے نماز میں ہی بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا: اگر آپ اٹھ کر اپنے بستر پر چلے جائیں تو یہ آپ کے لیے زیادہ موافق ہو گا۔ انھوں نے جواباً کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نمازِ فجر ادا کر کے اپنی جائے نماز میں بیٹھ جائے تو فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، … ۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فضیلت نمازِ فجر کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر فرضی نماز سے متعلقہ ہے، نیز اس کی دو شرطیں بھی ہیں، درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِیْ صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ تَحْبِسُہٗوَالْمَلَائِکَۃُیُصَلُّوْنَ عَلٰی اَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِیْ صَلّٰی فِیْہِیَقُوْلُوْنَ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ،اَللّٰھُمَّارْحَمْہُ، اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ، مَا لَمْیُحْدِثْ فِیْہِ مَا لَمْ یُؤْذِ فِیْہِ)) … جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، وہ نمازمیں ہی رہتا ہے، اور جب تک تم میں سے کوئی آدمی (نماز کے بعد) اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیےیوں دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس پر رجوع کر، (یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک) وہ بے وضو نہ ہو جائے اور یا کسی کو تکلیف نہ دے دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1853
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 596 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1251»