کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امام کا مردوں کے ساتھ تھوڑی دیر تک ٹھہرنا تاکہ عورتیں نکل جائیں اور فرضی اور نفلی نمازوں کے درمیان باہر جانے یا کلام کرنے یا جگہ بدلنے کے ساتھ فاصلہ کرنا
حدیث نمبر: 1848
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَتِ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ وَيَمْكُثُ فِي مَكَانِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں اٹھ کر چلی جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھنے سے پہلے اپنی جگہ میں تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1848
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 837، 849، 870 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27076»
حدیث نمبر: 1849
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) عہدِ نبوی میں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں کھڑی ہو کر چلی جاتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے والے مرد بیٹھے رہتے،جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی اٹھ جاتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1849
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 866، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27223»
حدیث نمبر: 1850
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمْعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمْعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، لَا تُوْصِلْ صَلَاةً بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سائب بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز جمعہ مقصورہ میں ادا کی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ میں ہی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ (اپنی منزل میں)داخل ہوئے تو مجھے بلا بھیجا، جب میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا: تو نے جو کچھ آج کیا، آئندہ اس طرح نہ کرنا، جب تو جمعہ کی نماز ادا کر لے تو اس کے ساتھ یعنی اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ، جب تک تو کلام کر لے یا وہاں سے نکل جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے کہ تو کسی (فرض) نماز کے ساتھ کوئی نماز نہ ملا، حتی کہ تو وہاں سے نکل جائے یا کلام کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1850
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16991»
حدیث نمبر: 1851
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم اس سے عاجز آگئے ہو کہ (فرض) نماز پڑھنے کے بعد آگے یا پیچھےیا دائیں یا بائیں ہو جاؤ (اور پھر اگلی نماز پڑھو)۔
وضاحت:
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ فَرَآہُ عُمَرُ، فَقَالَ لَہُ: اِجْلِسْ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ أَھْلُ الْکِتَابِ أَنَّہُ لَمْ یَکُن لِصَلاَتِھِمْ فَصْلٌ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَحْسَنَ ابْنُ الْخَطَّابِ۔)) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، (سلام کے بعد) ایک آدمی نے فورًا نماز پڑھنا شروع کر دی، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوںمیں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا۔ (مسند أحمد: ۵/۳۶۸، الصحیحۃ: ۲۵۴۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلّٰی الْعَصْرَ، فَقَامَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ بَعْدَھَا فَرَآہُ عُمَرُ فَأَخَذَ بِرِدَائِہٖأَوْبِثَوْبِہٖفَقَالَ لَہُ: اِجْلِسْ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ أَھْلُ الْکِتَابِ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ لِصَلاَتِھِمْ فَصْلٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَحْسَنَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: صَدَقَ) ابْنُ الْخَطَّابِ۔)) یعنی:عبداللہ بن رباح رضی اللہ عنہ ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، ایک آدمی مزید نماز پڑھنے کے لئے اُس نماز کے بعد فوراًکھڑا ہو ا، عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور اس کی چادر یا کپڑے کوپکڑ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میںوقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: (ابن خطاب نے) سچ کہا ہے۔ (مسند أحمد: ۵/۳۶۸، وابو یعلی فی مسندہ: ۱۳/ ۱۰۷/ ۳۱۶۶، الصحیحۃ: ۳۱۷۳) امام البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اس امر پر واضح نص ہے کہ فرضی نماز کے متصل بعد نفلی نماز ادا کرنا حرام ہے، الایہ کہ وہ نمازی خارجی کلام کر لے یا آگے پیچھے ہو جائے۔ اکثر عجمیوں اور بالخصوص ترکوں کییہ عادت ہے کہ وہ فرض نماز کے فوراً بعد اسی مقام پر سنتوں کی ادائیگی شروع کر دیتے ہیں۔ حرمین شریفین میں بھی ان کا یہی انداز ہوتا ہے کہ جونہی امام سلام پھیرتا ہے، یہ لوگ اسی مقام پر سنت رکعات کی ادائیگی کے لیے فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۵۴۹) معلو م ہوا کہ فرض نماز اور اس کے بعد ادا کی جانے والی نفلی نماز کے درمیان کچھ وقفہ ہونا چاہئے، اگرچہ وہ آگے پیچھے ہو جانے یا خارجی کلام کر لینے کی صورت میں ہو۔ لیکن اس وقت یہ سنت چھوڑی جاچکی ہے، شاذ و نادر لوگ ہیں جو اس کا خیال رکھتے ہیں۔ اصل مصیبتیہ ہے کہ عوام و خواص کے ہاں کسی سنت کے زیادہ اہم یا کم اہم ہونے یا اس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں معیار ان کا اپنا ذہن یا اپنا مسلک ہے، جس سنت کو ہمارے بڑوں نے اہمیت دیئے رکھی، وہ ہمارے نزدیک بھی اہم ہو گی اور جس سنت پر ہم سے پہلے عمل نہیں کیا گیا، اس کے بارے میں ہم بھی خیال نہیں ہوتے۔ یہاںیہ مثال ذکر کر دینا بھی مناسب ہے کہ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ جب لوگوں سے ان کی نماز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو بے نمازییوں جواب دیتے ہیں: جھوٹ کیوں بولیں جی، نماز کے بارے میں ہم سے غفلت ہو جاتی ہے۔ قارئین کرام! آپ خود سوچیں کہ ایک آدمی نماز کے بارے میں قطعاً سنجیدہ نہیں ہے اور وہ نماز چھوڑ کر کفر اور بغاوت کا اظہار کرتا ہے، لیکن جھوٹ بولتے ہوئے اسے ڈر لگنے لگتا ہے، جو تقوی جھوٹ بولنے کے سامنے روڑے اٹکاتا ہے، وہ نماز ترک کرنے کے سامنے حائل کیوں نہیں ہوتا؟ دراصل بات یہ ہے کہ ہم اسلام کے ایک دو امور کا اہتمام کر لینے کے بعد اپنے آپ کو کامل مسلمان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح اپنے حق میں بڑے دھوکے باز ثابت ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1851
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا، ابراهيم بن اسماعيل و حجاج بن عبيد مجھولان، وليث بن ابي سليم ضعيف، واسانيد الحديث فيھا اضطراب ليكن حقيقت ِ حال يه هے كه يه روايت شواهد كي بنا پر صحيح هے، جيسا كه امام الباني كا نظريه هے۔ أخرجه ابوداود: 1006 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9492»