کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سلام کے بعد امام کا لوگوں کی طرف رخ کرنااور صحابہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے برکت حاصل کرنا
حدیث نمبر: 1845
عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوِ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا وَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ فَذَكَرَ قِصَّتَهُمَا قَالَ وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجَلَدُهُمْ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُّ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع والا حج ادا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے ہی پھرے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگوں کے پیچھے دو ایسے آدمی ہیں، جنھوں نے نماز نہیں پڑھی، راوی نے ان کا سارا قصہ بیان کیا، لوگ اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آنے لگے، میں بھی ان کے ساتھ اٹھ پڑا، جبکہ میں اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ جوان اور طاقتور تھا، اس لیے میں لوگوں میں گھستا چلا گیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے چہرے یا سینے پر رکھ لیا، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو سب سے زیادہ عمدگی اور ٹھنڈک والی ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ کی بہ نسبت، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1845
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 575، 576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17476، 17477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17615»
حدیث نمبر: 1846
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي فَوَجَدْتُهَا أَبْرَدَ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبَ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: پھر لوگ اٹھ پڑے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں پر ملنے لگے، میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے سے لگایا اور محسوس کیا کہ وہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1846
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الدارمي: 1367، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17617»
حدیث نمبر: 1847
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَاجِرَةِ إِلَى الْبَطْحَاءِ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ وَكَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ثُمَّ قَامَ النَّاسُ فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَ يَدَهُ فَيَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ يَدَهُ فَوَضَعْتُهَا عَلَى وَجْهِي فَإِذَا هِيَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے،وضو کیا اور دو رکعت نمازِظہر اور دو رکعت نمازِ عصر ادا کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک برچھی (بطورِ سترہ) تھی اور اس کے پیچھے سے عورتیں اور گدھے گزرتے رہے، پھر لوگ کھڑے ہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہروں سے ملنے لگے۔ میں نے بھی آپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے چہرے پر رکھا (اور محسوس کیا کہ) وہ تو برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو کے لحاظ سے کستوری سے زیادہ عمدہ تھا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دوابواب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز سے فراغت کے بعد امام کے پھرنے کے تین طریقے مشروع ہیں، دائیں طرف، بائیں طرف اور لوگوں کی طرف۔ آج کل کئی لوگوں کو نہ صرف ایک طریقے پر پابندپایا گیا ہے، بلکہ وہ دوسرے طریقوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1847
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3553، ومسلم: 503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18974»