کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز کے بعد امام کے ٹھہرنے کی مقدار کا اور اس کے دائیںیا بائیں طرف پھرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 1839
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ صَلَاتِهِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز کے بعد یہ دعا پڑھنے کے بقدر ٹھہرتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلَالِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ! تو السلام ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے، اے جلال و اکرام والے تو بڑا ہی بابرکت ہے۔)
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے دو مفہوم ممکن ہیں: (۱) بیٹھنے سے مراد قبلہ رخ ہو کر بیٹھنا ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہی رہ کر یہ دعا پڑھتے، پھر دائیں، بائیںیا لوگوں کی طرف پھر جاتے اور دوسرے اذکار کرتے اور (۲) یہ معنی بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسااوقات نماز کے بعد اتنی دیر ہی بیٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہوں۔ بہرحال فرضی نماز کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام انتہائی اہم عمل ہے، اگرچہ ان کے لیے اسی مقام پر بیٹھارہنا شرط نہیں ہے، بلکہ کھڑے ہو کر سنتوں یا کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جانا بھی درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1839
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 592 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24338، 25979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26506»
حدیث نمبر: 1840
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخْعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَنِ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَنْ يَمِينِهِ كَانَ يَنْصَرِفُ أَوْ عَنْ يَسَارِهِ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ حَيْثُ أَرَادَ، كَانَ أَكْثَرُ انْصِرَافِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ إِلَى حُجْرَتِهِ (وَفِي لَفْظٍ) كَانَ عَامَّةَ مَا يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى يَسَارِهِ إِلَى الْحُجُرَاتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود نخعی کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنی نماز سے پھرنے کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا کہ آپ دائیں طرف پھرتے تھے یا بائیں طرف؟ انھوں نے جواباً کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جدھر چاہتے پھرجاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا اپنی بائیں طرف اپنے حجرے کی طرف ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے: عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز سے پھرنا بائیں طرف حجروں کی طرف ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1840
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 1999 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3872) وانظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4383»
حدیث نمبر: 1841
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ مِنْ نَفْسِهِ جُزْءًا لَا يَرَى إِلَّا أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ أَكْثَرَ انْصِرَافِهِ لَعَلَى يَسَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کوئی آدمی شیطان کے لئے اپنے نفس میں سے کوئی حصہ نہ بنائے کہ وہ یہ خیال کرنے لگے کہ اس پر حق ہے کہ وہ نماز سے صرف دائیں جانب پھرے گا، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اکثر پھرنا بائیں جانب ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول سے پتہ چل رہا ہے کہ اگر کسی مسئلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سے زیادہ طریقے منقول ہوں تو کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی ایک کو اپنے اوپر لازم کر دے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1841
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 707 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3631»
حدیث نمبر: 1842
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا وَحَافِيًا وَمُنْتَعِلًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَيَسَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر، بیٹھ کر، ننگے پاؤں اور جوتا پہن کرتمام طریقوں سے نماز پڑھتے تھے، ایک روایت میں ہے:اور نماز کے بعد دائیں بائیں دونوں طرف پھرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر نماز پڑھنا اس صورت کو نفلی نماز پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیٹھ کر نفلی نماز ادا کرنے پر بھی پورا ثواب ملتا تھا۔ اگر فرضی نماز کو اس حدیث کا مصداق بنائیں تو بیٹھنا عذر کی بنا پر ہو گا، جیسا کہ دوسری احادیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عذر کی بنا پر فرضی نماز بھی بیٹھ کر پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1842
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الحميدي: 997، والبيھقي: 2/ 295 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7378»
حدیث نمبر: 1843
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا، وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں اور بائیں دونوں طرف پھرتے تھے، اور میں نے دیکھا کہ آپ جوتے پہن کر بھی اور ننگے پاؤں بھی نماز پڑھتے تھے، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے ہوئے دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1843
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ ھذا الحديث ھو ثلاثة احاديث: أما الحديث الاول وھو: رايت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يصليينفتل عن يمينه وعن شماله۔ فأخرجه ابن ماجه: 931۔ والحديث الثاني وھو قوله: روايتهيصلي حافيا ومنتعلا۔ فأخرجه ابوداود: 653، وابن ماجه: 1038۔ والحديث الثالث وھو: رايتهيشرب قائما وقاعدا۔ فأخرجه الترمذي: 1883 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6627، 7021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6627»
حدیث نمبر: 1844
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ عَنْ يَمِينِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے اپنی دائیں طرف پھرے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سدی کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد کس سمت کی طرف پھروں۔ انھوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر دائیں جانب پھرتے تھے۔ جبکہ اوپر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گزرا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر بائیں جانب پھرتے تھے۔ جمع و تطبیق کییہ صورت ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی دائیں جانب پھرتے اور کبھی بائیں جانب، ہر ایک راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق جس عمل کو زیادہ پایا، اسے بیان کر دیا، ان میں سرے سے کوئی تضاد نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1844
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 708 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12384»