حدیث نمبر: 1821
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، قَالَ: ((قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا (وَفِي رِوَايَةٍ كَبِيرًا بَدَلَ كَثِيرًا) وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے کسی دعا کی تعلیم دیں تاکہ اسے نماز میں پڑھ سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کرو: اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّلاَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں نے اپنے نفس پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اورتیرے علاوہ گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ہے، سو تو مجھے بخش دے اپنی طرف سے بخش دینا اور مجھ پر رحم کر بلاشبہ تو ہی بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے)۔
حدیث نمبر: 1822
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: أَلَمْ أُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَمَا إِنِّي دَعَوْتُ فِيهَا بِدُعَاءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ: ((اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبِ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَاعَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي، أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَكَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَلَذَّةَ النَّظْرِ إِلَى وَجْهِكَ وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ ضَرَاءَ مُضِرَّةٍ وَمِنْ فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مَهْدِيِّينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، انھوں نے اس میں اختصار کیا، اس لیے لوگوں نے اس چیز کا انکار کیا،لیکن انھوں نے کہا: کیا میں نے رکوع وسجود کو پوری طرح ادا نہیں کیا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پھر انھوں نے کہا: میں نے تو اس نماز میں ایسی دعا کی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے، وہ دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَیْبِ وَقُدْرَتِکَ … … وَالشَّہَادَۃِ وَکَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَالْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنٰیَ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْہِکَ وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَمِنْ فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، اَللّٰہُمَّ زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الإِْ یْمَانِ وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مَھْدِیِّیْنَ۔ (اے اللہ! میں تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کی وجہ سے تجھ (سے سوال کرتا ہوں کہ) جب تک تو میرے لئے زندگی کو بہتر سمجھے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہو تو مجھے فوت کر دینا، میں تجھ سے خلوت اور جلوت (دونوں حالتوں میں) میں تیری خشیت کا، غصے اور خوشی میں کلمۂ حق کہنے کا، فقیری اورمالداری میں میانہ روی اختیار کرنے کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کا شوق رکھنے کا سوال کرتا ہوں۔ اور میں نقصان پہنچانے والی مصیبت سے اور گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ ہمیں ایمان کی زینت سے مزین کر دے اور ایسے رہنما بنا دے جو خود بھی ہدایت یافتہ ہوں)۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے ابتدائی حصے پر غور کریں، اگر رکوع و سجود مکمل ہوں تو قیام میں تخفیف کر لینے میں کوئی حرج نہیں، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے واضح کیا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے لمبا قیام تو نہیں کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ایسی دعا بھی تو کی ہے، جو بڑی خیر پر مشتمل ہے۔
حدیث نمبر: 1823
عَنْ زَاذَانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَهُوَ يَقُولُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي)) قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ)) مِائَةَ مَرَّةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک انصاری صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا بخشنے والا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سو دفعہ یہ دعا پڑھی۔
وضاحت:
فوائد: … ہمیں بھی اپنی نمازوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہماری جلد بازی اور دین میں عدم دلچسپی نے ہمیں بہت نقصان دیا ہے۔
حدیث نمبر: 1824
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَوَجْهُهُ إِلَى الْبَيْتِ، قَالَتْ فَحَفِظَتُ مِنْهُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَجَهْلِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو نمیر کی ایک بڑھیا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کا چہرہ بیت اللہ کی طرف تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ دعا یاد کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطَایَایَ وَجَہْلِیْ۔ (اے میرے رب! میرے لیے میری خطائیں اور میرے جہالت والے امور معاف کردے۔)
حدیث نمبر: 1825
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((يَا مُعَاذُ! إِنِّي لَأُحِبُّكَ)) فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَأَنَا وَاللَّهِ أُحِبُّكَ، قَالَ: ((فَإِنِّي أُوصِيكَ بِكَلِمَاتٍ تَقُولُهُنَّ فِي كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: اے معاذ! بلاشبہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے جواباًکہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے چند کلمات کی وصیت کرتا ہوں، تو نے ہر نماز میں ان کو پڑھنا ہے، وہ یہ ہیں: اَللّٰہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔ (اے اللہ! اپنا ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔)
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر چھوٹے کتابچوں میں اس دعا کو نماز کے بعد والے اذکار میں ذکر کیا جاتا ہے، لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس کے بعض طرق سے ثابت ہوتا ہے کہ سلام سے پہلے کی دعا ہے، جیسا کہ اس حدیث کے الفاظ سے بھی ثابت ہو رہا ہے۔ جن روایات میں صرف دبر الصلوۃ کے الفاظ ہیں، صرف ان کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ یہ دعا سلام کے بعد پڑھی جائے اور دوسرے طرق والے فی کل صلاۃ کے واضح الفاظ نہیں دیکھے گئے، جن سے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ دعا سلام سے پہلے پڑھی جائے۔ جبکہ دبر الصلاۃ کے الفاظ میں بھییہ احتمال پایا جاتا ہے کہ اس سے مراد نماز سے خارج ہونے سے پہلے کہنا ہے۔ یہ مسنون دعائیں ہیں، دیگر احادیث سے بھی بعض دعائیں ثابت ہیں، ان کے علاوہ نمازی کوئی پسندیدہ دعا بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ پہلے اس کا بیان ہو چکا ہے۔