کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بعد تعوذ اور دعا کا بیان
حدیث نمبر: 1812
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تووہ ان چار چیزوں سے پناہ مانگا کرے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنہ سے اورمسیح دجال کے شر سے۔
وضاحت:
فوائد: … مَسِیْح کے مختلف معانییہ ہیں:(۱)اس سے مراد مَمْسْوْحُ الْعَیْن ہے، یعنی جس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہو گی۔ (۲) یہ فعیل بمعنی فاعل ہے، یعنی زمین کا سروے کرنے والا۔ (۳) اس سے مراد بھینگا ہے۔ دَجَّال کا مادہ دجل ہے، جس کے معانی ڈھانپنے کے ہیں، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ دجال اپنے باطل کے ذریعے حق پر پردہ ڈال دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1812
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 588 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7236»
حدیث نمبر: 1813
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ كَلِمَاتٍ كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ جِدًّا، يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، قَالَ: كَانَ يُعَظِّمُهُنَّ وَيَذْكُرُهُنَّ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب طاؤوس نمازِ عشاء میں آخری تشہد کے بعد یہ کلمات پڑھتے تھے اور ان کو بہت عظیم سمجھتے تھے: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ جَہَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَاوَ الْمَمَاتِ۔ (میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اور میں زندگی و موت کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔) وہ ان کو عظیم سمجھتے تھے اور ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1813
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، ليكن عشاء كي نماز كي قيد لگانا صحيح نهيں هے۔ لم يسمع ابن جريج من ابن طاووس الا حديثا في محرم اصاب ذرات۔ أخرجه عبد الرزاق: 3086، وابن خزيمة: 722 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26167»
حدیث نمبر: 1814
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ)) قَالَتْ: فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتَ، اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ۔ (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنے سے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں گناہ اور قرض سے)۔ کسی آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ قرض سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے لیکن جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے لیکن اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1814
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بتمامه و مختصرا البخاري: 832، 2397، ومسلم: 589 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24578 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25085»
حدیث نمبر: 1815
عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: ((كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟)) قَالَ: أَتَشَهَّدُ ثُمَّ أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((حَوْلَهُمَا دَنْدَنُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تو نماز میں کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا: میں پہلے تشہد پڑھتا ہوں پھر اس طرح دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھ سے آپ اور معاذ کے گنگنانے کی طرح نہیں گنگنایا جا سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … دَنْدَنَہ (گنگنانا) ایسے کلام کو کہتے ہیں، جس کو سمجھا نہ جا سکے، اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی دعاؤںکو دندنہ اس بنا پر کہا کہ وہ یا تو بدو ہونے کی وجہ سے ان کو نہ سمجھ سکا یا پھرنہ سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ سرّی آواز میں ان کو پڑھا جاتا تھا، معلوم ایسے ہوتا تھا کہ یہ صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے مقتدیوںمیں سے تھا، تبھی تو ان کا بطورِ خاص ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری دعاؤں کا لب لباب بھییہی ہوتا ہے کہ اچھی چیز کی طلب کا اور بری چیز سے بچنے کا سوال کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1815
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 792، وابن ماجه: 910، 3847 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15993»
حدیث نمبر: 1816
عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدْ قَضَى صَلَاتَهُ وَهُوَ يَتَشَهَّدُ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، قَالَ: فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ، قَدْ غُفِرَ لَهُ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی اپنی نماز پوری کر کے تشہد میں یہ دعا کر رہا ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ یَا اللَّہُ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِی لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْیَکُنْ لَّہُ کُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اے اللہ! جو یکتا و یگانہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں ہے، یہ کہ تو میرے لیے میرے گناہ بخش دے، بیشک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے ، بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ بلاشبہ اسے بخش دیا گیا ہے۔ یعنی تین مرتبہ فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری دو احادیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں کوئی بھی پسندیدہ دعا کی جا سکتی ہے، سابقہ ابواب میں بھی اس مسئلہ کی توضیح موجود ہے، مزید دعاؤں کا ذکر آنے والے دوسرے باب میں آئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود 985 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18974 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19183»
حدیث نمبر: 1817
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ فَدَعَا وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ كَانَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی ران پر رکھتے پھر انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1817
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، وله شواھد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15368، 15370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15444»
حدیث نمبر: 1818
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّاحَةِ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں انگشت ِ شہادت کے ساتھ اشارہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1818
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15442»
حدیث نمبر: 1819
عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَاعِدٌ فِي الصَّلَاةِ قَدْ وَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى رَافِعًا بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ قَدْ حَنَأَهَا شَيْئًا وَهُوَ يَدْعُو
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے ہوئے تھے اور دایاں بازو دائیں ران پر رکھا ہوا تھا اور انگشت ِ شہادت کو اٹھا کر دعا کر رہے تھے، جبکہ اس انگلی کو کچھ جھکایا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1819
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، دون قوله: قد حناھا شيئا، وھذا اسناد ضعيف۔ مالك بن نمير الخزاعي البصري، قال الدارقطني: يعتبر به، وقال يحييٰ القطان: لايعرف حاله، وقال الذھبي: لا يعرف۔ أخرجه ابوداود: 991، و النسائي: 3/ 39 ، وابن ماجه: 911 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15960»
حدیث نمبر: 1820
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَدْعُو بِإِصْبَعَيْنِ فَقَالَ: ((أَحِّدْ يَا سَعْدُ!))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ دو انگلیوں کے ساتھ دعا کر رہے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! ایک کے ساتھ دعا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … باب تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان کے آخر میں دوران تشہد انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کے بارے میں مکمل تفصیل کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1820
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا الاسناد ضعيف لابھام الراوي عن انس ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12901 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12932»