کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1785
عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَنِ افْتِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا وَقُعُودِهِ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَنَصْبِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَنَصْبِهِ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِي صَلَاتِي افْتَرَشْتُ فَخِذِي الْيُسْرَى وَنَصَبْتُ السَّبَّابَةَ، قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي، قَالَ لِي: أَيْ بُنَيَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَكَ هَٰكَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْكِرُ رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَإِنَّكَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ إِنَّمَا يَصْنَعُ هَٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِهِ يَسْحَرُ بِهَا وَكَذَبُوا، إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن خفاف بن ايمائ۔ أخرجه البيھقي: 2/ 133 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16688»
حدیث نمبر: 1786
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهَا جَفَاءً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طاووس کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم نے کہا: ہم تو اس کو آدمی کی اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1786
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 536 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2853»
حدیث نمبر: 1787
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ طَاوُسٍ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْثُو عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ: هَٰذَا يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ، قَالَ هُوَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)طاووس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ وہ پاؤں کو کھڑا کر کے ان پر بیٹھ جاتے۔ میں نے کہا: لوگ تو اس کیفیت کو اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں دراصل جلسۂ استراحت کی ایک کیفیت بیان کی گئی ہے، اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں،یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت جائز اور مسنون ہے اور دوسری ناجائز اور غیر مسنون۔ جائز صورت: جلسۂ استراحت میں دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا۔ ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مِنَ السَّنُّۃِ فِی الصَّلاَۃِ أَنْ تَضَعَ اِلْیَتَیْکَ عَلٰی عَقِبَیْکَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ۳/۱۰۶/۱، الصحیحۃ:۳۸۳)
یعنی: یہ سنت ہے کہ تو نماز میں دو سجدوں کے درمیان (جلسہ میں)اپنے سرینوں (چوتڑوں) کو اپنی ایڑیوں پر رکھے۔ نیز معاویہ بن خدیج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے طاوس کو اقعاء کرتے ہوئے دیکھا اور کہا: آپ نماز میں اقعاء کر
رہے تھے، کیوں؟ انھوں نے کہا: تو نے صرف مجھے اقعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ یہ تو نماز کا ایک طریقہ ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کو یہ اقعاء کرتے ہوئے دیکھا۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث اور ان آثار سے معلوم ہوا کہ اقعائ کی مذکورہ قسم مشروع ہے، یہ سنت ہے اور ایسا کرنا عبادت ہے۔ یہ کسی عذر کی بنا پر نہیں تھا، جیسا کہ بعض متعصّب لوگوں کا خیال ہے۔ ان کی بات کیسے درست ہو گی؟ جبکہ تین صحابہ نے سنت سمجھ کر اس پر عمل کیا اور جلیل القدر فقیہ تابعی طاوس نے ان کی پیروی کی اور امام احمد نے (مسائل المروزی: ۱۹) میں کہا: اہل مکہ بھی اقعائ کرتے تھے۔ پس جو آدمی اس سنت پر عمل کر کے اس کا احیاء کرنا چاہتا ہے، اس کے لیےیہی سلف کافی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ سجدوں کے درمیان بیٹھنے کے دو طریقے ہیں: (۱) دائیاں پاؤں کھڑا رکھنا اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور
(۲) دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا، جسے اقعاء کہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپناتے ہوئے مختلف اوقات میں دونوں طریقوں پر عمل کیا کریں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی سنت رہ نہ جائے۔(صحیحہ: ۳۸۳
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1787
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2855»
حدیث نمبر: 1788
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازؤں کو درندے کی طرح بچھائیں، آپ بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور آپ نمازکو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ناجائز صورت ہے، گزشتہ حدیث میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1788
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 498 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26135»
حدیث نمبر: 1789
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فِخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً (وَفِي رِوَايَةٍ حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یہ مکمل حدیث صحیح ہے، مذکورہ الفاظ کو شاذ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ ثقہ کی ایسی زیادتی نہیں ہے، جس سے ثقات کی روایت کی نفی ہو رہی ہو،ثقات کی روایت کے الفاظ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ اور زائدہ بن قدامہ کی روایت کے الفاظ ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُ یُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا میں سرے سے کوئی تضاد ہی نہیں ہے، امام البانی نے بھی اس کو صحیح کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1789
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: فرأيتهيحركھايدعو بھا فھو شاذ انفرد به زائدة بن قدامة من بين اصحاب عاصم بن كليب ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19075»
حدیث نمبر: 1790
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِهِ يَعْنِي هَٰكَذَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ ذَٰكَ الْإِخْلَاصُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ بیٹھے،بایاں پاؤں بچھا دیا، بائیں ہتھیلی ران اور بائیں گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کو بائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر أپنی انگلیاں بند کرکے حلقہ بنایا۔ اور ایک روایت میں ہے: انگوٹھے اور درمیانی (انگلی) کا حلقہ بنایا اورسبابہ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ کو دیکھا آپ اسے ہلا کر اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سَبَّابہ کے معانی برا بھلا کہنے والی اور سَبَّاحہ کے معانی پاکی بیان کرنے والی کے ہیں۔یہ دونوں انگشت ِ شہادت کے اوصاف ہیں، کیونکہ کسی کو گالی دیتے وقت یا اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے وقت عام طور پر اسی انگلی سے اشارہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے قارئین کی آسانی کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ انگشت ِ شہادت کیا، کیونکہ ہمارے ہاں اس انگلی کو یہی نام دیا جاتا ہے، بہرحال بعض مقامات پر لفظ سَبَّابہ کا ذکر بھی آئے گا۔ دورانِ تشہد اشارے والی احادیث میں دعا کرنے سے مراد پورا تشہد، دعائیں اور درود ہوتا ہے۔
بنو تمیم کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے آدمی کا نماز میں انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا: یہ اخلاص ہے۔
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا اخلاص اور توحید پر دلیل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1790
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الرجل الذي من بني تميم، واسمه اربدة التميمي البصري۔ أخرجه البيھقي: 2/ 133 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3152»
حدیث نمبر: 1791
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَهَا أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ)) يَعْنِي الْسَّبَّابَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اسی کے پیچھے لگاتے، پھر یہ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نمازی انگشت ِ شہادت سے اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے لیے عبادت میں اخلاص کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز شیطان کے لیے سب سے زیادہ باعث ِ تکلیف ہے، اس لیے اسے اس سے لوہے کی ضرب سے بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے شرّ سے محفوظ رکھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1791
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، كثير بن زيد الاسلمي متكلم فيه۔ أخرجه البزار: 563 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6000»
حدیث نمبر: 1792
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَلَمْ يُجَاوِزْ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اورسبابہ کے ساتھ اشارہ کرتے اور آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ گزرتی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1792
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 579 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16100/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16199»
حدیث نمبر: 1793
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ أَنَّهُ قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علی بن عبد الرحمن معاوی کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ لیا، جب وہ فارغ ہوئے تو مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: تم اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1793
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 580 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5331»
حدیث نمبر: 1794
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بِمَسْطَحَتِهَا عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی دائیں انگلی کو اٹھا کر اس کے ساتھ دعا کرتے اوراپنا بایاں ہاتھ گھٹنے پر پھیلا کر رکھتے۔
وضاحت:
فوائد: … تشہد کے دوران شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا: مکمل تشہد، وہ پہلا ہو یا دوسرا، کے دوران انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا جاری رکھا جائے گا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أِذَا قَعَدَ فِیْ التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی وَعَقَدَ ثَلاثَۃً وَّ خَمْسِیْنَ وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَدْعُوْ بِھَا)۔ (صحیح مسلم: ۵۸۰) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشہد کے لئے بیٹھتے تو بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پررکھتے اور (دائیں ہاتھ کی) ترپن کی گرہ بنا کر شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس کے ساتھ دعا مانگتے۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أِذَا قَعَدَ یَدْعُوْ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَاَشَارَ بِأِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ …۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز میں) تشہد پڑھنے کے لئے بیٹھ جاتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔
تنبیہ: مذکورہ بالا دو احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تشہد کے دوران ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا اور رانوں پر رکھنا دونوں طرح درست ہے۔
تنبیہ: تشہد میں صرف اَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے کے وقت انگلی اٹھانا اور پھر رکھ دینا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
اشارہ کرنے کے طریقے: (۱)دوانگلیوں کو بند کر کے درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا لینا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا۔ (ابوداود: ۹۵۷، نسائی: ۱۲۶۵، ابن ماجہ: ۹۱۲)
(۲)تین انگلیوں کو بند کرکے انگوٹھے کو درمیانی انگلی پر رکھنا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹)
(۳) ترپن کی گرہ لگانا(یعنی: تین انگلیوں کو ہتھیلی کے قریب ترین حصے کے ساتھ بند کرکے انگوٹھے کو شہادت والی
انگلی کی آخری گرہ کے نیچے رکھنا)۔ (صحیح مسلم: ۵۸۰)
تنبیہ: اشارے کے دوران انگلی کو حرکت دینا درست ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۷۸۹)سے ثابت ہو رہا ہے
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1794
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 580 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6348»
حدیث نمبر: 1795
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا سَاقِطًا يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: ((لَا تَجْلِسْ هَٰكَذَا، إِنَّمَا هَٰذِهِ جِلْسَةُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں اپنا ہاتھ گرایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اس طرح نہ بیٹھ،یہ ان لوگوں کے بیٹھنے کی کیفیت ہے، جن کو عذاب دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1795
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ھشام بن سعد المدني، وقد روي موقوفا، وھو الصحيح۔ أخرج بنحوه ابوداود: 994 موقوفا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5972»
حدیث نمبر: 1796
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ يَعْتَمِدُ عَلَى يَدَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگا کر بیٹھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1796
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 992 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6347»
حدیث نمبر: 1797
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ (يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ، قَالَ: حَتَّى يَقُومَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں(کے تشہد میں اس طرح ہوتے کہ) گویا کہ آپ گرم پتھر پر ہیں، میں نے کہا: یہاں تک کہ کھڑے ہو جاتے؟ انھوں نے کہا: حتی کہ آپ کھڑے ہوجاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1797
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود۔ أخرجه ابوداود: 995، والترمذي: 366 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3656»
حدیث نمبر: 1798
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَأَنَّمَا كَانَ جُلُوسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ عَلَى الرَّضْفِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا:گویا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دو رکعتوں میں بیٹھنا گرم پتھر پر ہوتاتھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، گزشتہ احادیث مین یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ درمیانے تشہد میں عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ پراکتفاکرنابھی درست ہے اور اس کے پسندیدہ دعائیں اور درود ملانا بھی درست ہے۔
تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ: درمیانے تشہد میں دایاں پاؤں کھڑا رکھیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔ جن احادیث ِ مبارکہ میں تشہد
میں اس طریقہ سے بیٹھنے کا عام ذکر ہے، ان کو پہلے تشہد پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ تورک والی احادیث مقید ہیں۔ آخری تشہد میں تورک کریں۔
تورک کا بیان
تورک کی دو صورتیں ہیں: مسنون اور جائز صورت:نمازی کا آخری تشہد میں سرین پر اس طرح بیٹھنا کہ دائیناں پائوں کھڑا ہو اور اس کی انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، اور بائیں پیر کو پھیلا کردائیں پنڈلی کے نیچے سے دائیں طرف نکالنا۔ تورّک کی ناجائز صورت: نماز میںکھڑے ہو کر دونوں ہاتھوںکو دونوں کولھوں کے برابر رکھنا، یہ ممنوع ہے۔ پہلی صورت مسنون ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱)محمد بن عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ میں موجود تھے، ان میں ایک سیدنا ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے، سیدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ لیکن انھوں نے کہا:تم نہ تو ہماری بہ نسبت قدیم صحبت والے ہو اور نہ ہم سے زیادہ آپ کے پیروی کرنے والے ہو۔ توانہوں نے کہا: کیوں نہیں، (یہ تمہاری بات تو ٹھیک ہے)۔ بہرحال ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اچھا بیان کرو۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے … … جب وہ آخری رکعت ہوتی جس میں نماز کا اختتام ہوتا تو اپنا بائیاں پاؤں (نیچے سے دائیں طرف) نکالتے اور اپنی سرین پر تورک کی حالت میں بیٹھ جاتے پھر سلام پھیرتے۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸ابوداود: ۷۳۰، ۹۶۳، وابن ماجہ: ۸۶۲، والترمذی: ۳۰۴، والنسائی: ۲/ ۱۸۷) یہ حدیث أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ (نماز کے طریقہ کے آداب) کے پہلے باب کے آخر میں گزر چکی ہے۔
(۲)سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو بائیں پاؤں کو ران اور پنڈلی کے درمیان میں کر لیتے اور داہنا پاؤں بچھا لیتے۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹)
(۳) بَابُ مَاجَائَ فِیْ الصَّلاَۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَقِبَ التَّشَہُّدِ الْاَخِیْرِ وَکَذَا آلِہٖ
آخری تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیجنے کا بیان
تنبیہ: قارئین سے گزارش ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درود کے مختلف الفاظ اور صیغے منقول ہیں، چونکہ عام آدمی کے لیے ان سب کا یاد کرنا مشکل ہے، اس لیے مختصر الفاظ والا کوئی ایک طریقہ بھییاد ہونا چاہیے، تاکہ جلدی کی صورت میں اس کا سہارا لے لیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1798
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4074»
حدیث نمبر: 1799
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُ قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمَّا السَّلَامُ عَلَيْكَ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ إِذَا نَحْنُ صَلَّيْنَا فِي صَلَاتِنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْبَبْنَا أَنَّ الرَّجُلَ لَمْ يَسْأَلْهُ قَالَ: ((إِذَا أَنْتُمْ صَلَّيْتُمْ عَلَيَّ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، جبکہ ہم بھی آپ کے پاس موجود تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو ہم پہچان چکے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجنا ہے، (اب سوال یہ ہے کہ) جب ہم نماز ادا کریں تو آپ پر درود پڑھنے کا کیا طریقہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش ہو گئے (اور اتنی دیر خاموش رہے کہ ہم یہ چاہنے لگے کہ کاش اس آدمی نے سوال نہ کیا ہوتا، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر درود بھیجو تو اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّ وَعَلیَ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْأُمِّیِّکَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاہِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔ ترجمہ : اے اللہ ! تو اُمّی نبی محمد پر رحمت کر اور محمد کی آل پر ، جیسے تو نے رحمت کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر اور برکت نازل فرما اُمّی نبی محمد پر ، جیسے تو نے برکت نازل کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر ، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1799
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 981، والنسائي: 3/ 47 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17072 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17200»
حدیث نمبر: 1800
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: آپ سے پوچھا گیا کہ ا ے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا باَرَکْتَ عَلٰی إِبْرَاہِیْمَ فِی الْعَالَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
وضاحت:
فوائد: … اُمِّی سے مراد وہ شخص ہے جس نے کسی انسان سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا،یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ اعلی درجے کا دانا، حکیم، فیصل، فصیح، بلیغ بلکہ رسول ہو، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا دین و دنیا کے بارے میں کچھ نہ جانتا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1800
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17194»
حدیث نمبر: 1801
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَالسَّلَامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سعد بن عبادہ کی مجلس میں تشریف لائے، سیدنا بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ پر درودبھیجیں ، پس ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے حتی کہ ہم یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ کیا ہوتا، اتنے میں آپ نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ فِی الْعَاَلَمِیْنَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اور سلام کے بارے میں تو تم جان چکے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کا درود کا حکم دینا، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اس درود سے پہلے صحابہ کرام کو تشہد میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ … کے الفاظ سے سلام بھیجنے کا طریقہ سکھایا جا چکا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1801
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 405 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22709»
حدیث نمبر: 1802
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجُنْبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَجَّلَ هَٰذَا)) ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ وَلِغَيْرِهِ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَحْمِيدِ رَبِّهِ وَثَنَاءٍ عَلَيْهِ ثُمَّ لِيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لِيَدْعُ بَعْدُ بِمَا شَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صحابی رسول سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا، جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا، اور فرمایا: اس بندے نے جلدی کی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے اور دوسرے لوگوں سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے ساتھ ابتدا کرے، پھر نبی پر درود بھیجے، پھر جو چاہے دعا کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1802
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1481، والترمذي: 3477، والنسائي: 3/ 44 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24434»
حدیث نمبر: 1803
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ عَلِمْنَا السَّلَامَ عَلَيْكَ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ معرفت تو ہم حاصل کر چکے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب سوال یہ ہے کہ درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1803
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3370، ومسلم: 406 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18283»
حدیث نمبر: 1804
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِينِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: قَالَ: أَلَا أَهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ عَلِمْنَا أَوْ عَرَفْنَا كَيْفَ السَّلَامُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: مجھے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: کیا میں تجھے ایک ہدیہ نہ دوں؟ (اور وہ یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہم نے یہ تو پہچان لیا ہے کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب درود پڑھنے کا کیاطریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1804
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6357، ومسلم: 406 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18285»
حدیث نمبر: 1805
عَنْ يَزِيدِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ} قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)) قَالَ وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ، قَالَ يَزِيدُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ زَادَهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ، أَوْ شَيْءٌ رَوَاهُ كَعْبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:: جب یہ آیت {إِنَّ اللَّہَ وَمَلاَئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ} نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا:اے اللہ کے نبی! ہم آپ کیسے درود بھیجا کریں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ وہ کہتے ہیں: ہم یہ درود پڑھتے وقت یہ الفاظ بھی کہہ دیتے تھے: وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ (اور ہم پر بھی ہو) ۔ یزید راوی کہتا ہے: میں اس چیز کو نہ سمجھ سکا کہ یہ آخری الفاظ ابن ابی لیلی نے اپنی طرف سے زیادہ کیے ہیں یا سیدنا کعب نے ان کو باقاعدہ روایت کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وَعَلَیْنَا مَعَھْمْ کے الفاظ ابن ابی لیلی کی طرف سے کہے گئے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1805
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث: 729، 730 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18313»
حدیث نمبر: 1806
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم یہ تو جانتے ہیں کہ آپ پر سلام کیسے بھیجا جائے، اب آپ پر درود بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُوْلِکَ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّآلِ مَحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَآلِ أَبْرَاھِیْمَ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1806
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4798، 6358 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11453»
حدیث نمبر: 1807
عَنْ بُرَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ عَلِمْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ! بلاشبہ ہم نے جان لیا ہے کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، اب ہم آپ پر درود کیسے پڑھا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس طرح پڑھا کرو: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوَاتِکَ وَرَحْمَتَکَ وَبَرَکَاتِکَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا جَعَلْتَہَا عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔))
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1807
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدّا، ابوداود نفيع بن الحارث الاعمي متروك الحديث، وكذبه ابن معين۔ أخرجه أحمد بن منيع في مسنده كما في أِتحاف الخيرة : 8446، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد : 8/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23376»
حدیث نمبر: 1808
عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: ((قُلْ: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر درود کیسے بھیجا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1808
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 48 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1396»
حدیث نمبر: 1809
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَفْسِي كَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: ((صَلُّوا وَاجْتَهِدُوا، ثُمَّ قُولُوا: اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ پر درود کیسے بھیجا جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مجھ پر) درود پڑھو اورکوشش کرو، پھرکہو: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مَحُمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی (۱۲۹۲)میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: صَلُّوْا عَلَیَّ وَاجْتَھِدُوْا فِیْ الدُّعَائِ، وقولوا: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔ یعنی: مجھ پر درود بھیجو اور دعا میں کوشش کرو اور کہو: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ۔ دونوں روایات کو جمع کر کے درود کو مکمل کیا جائے، یعنی درود والے الفاظ نسائی کی روایت سے اور برکت والے الفاظ مسند احمد کی روایت سے لیے جائیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗیُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّط ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} (سورۂ احزاب: ۵۶)
یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔ اگرچہ جمہور اہل علم نماز میں درود کے وجوب کے قائل نہیں ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں درود و سلام کا حکم دیاہے، جس کا کم از کم مصداق نماز ہے، جیسا کہ صحابہ کرام کے سوال سے بھی پتہ چلتا ہے، اس لیے محتاط بات یہ ہے کہ نماز میں درود پڑھنا واجب ہے، جبکہ اس حقیقت پر علمائے امت کا اجماع ہے کہ نماز کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دورد بھیجنا واجب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1809
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 3/ 48، والبخاري في التاريخ الكبير : 3/ 383 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1714 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1714»
حدیث نمبر: 1810
عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ)) قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: وَكَانَ أَبِي يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزْوَاجِہِ وَذُرِّیِّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی أَھْلِ بَیْتِہِ وَعَلٰی أَزَوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں: میرا باپ بھی اسی طرح کہا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1810
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه عبد الرزاق في مصنفه : 3103، والطحاوي في شرح مشكل الآثار : 2239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23173 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23560»
حدیث نمبر: 1811
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ، وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی آلِ إِبْرَاھِیْمَ إِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
وضاحت:
فوائد: … درود کے الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سے مراد کون لوگ ہیں؟ اس کے بارے میں درج ذیل تین اقوال پیش کیے جاتے ہیں: (۱)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پوری امت (۲) بنو ہاشم اور بنو مطلب
(۳)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت اور اولاد
جس نے جس معنی کو راجح سمجھا، اس نے اس کے حق میں مختلف دلائل تو پیش کیے، لیکن ہمارا نظریہیہ ہے کہ لفظ آل کا پہلا اطلاق تیسرے معنی پر ہی ہوتا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جن روایات میں وَآلِہٍ کی بجائے بخاری اور مسلم میں وَأَزْوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کے الفاظ ہیں، ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کے افراد کی وضاحت ہو رہی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ اسی معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کی خاصیت اور امتیاز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1811
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3369، 6360، ومسلم: 407 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23998»