کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان¤فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ¤فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد
حدیث نمبر: 1776
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا، فَكُنَّا نَحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أَخْبَرَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ إِيَّاهُ، فَكَانَ يَقُولُ إِذَا جَلَسَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى ((التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) قَالَ: ثُمَّ إِنْ كَانَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ نَهَضَ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ تَشَهُّدِهِ، وَإِنْ كَانَ فِي آخِرِهَا دَعَا بَعْدَ تَشَهُّدِهِ بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں تشہد سکھایا،اسود بن یزید کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یادکرتے تھے جب انہوں نے ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تشہد کی تعلیم دی تھی، پس وہ کہتے تھے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے درمیان میں اور اس کے آخر میں بائیں سرین پر بیٹھتے تو پڑھتے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ،أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہُ۔ پھراگرنمازکےدرمیان میں ہوتے تو تشہد سے فارغ ہونے کے بعد (تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوجاتے اور اگر نماز کے آخر میں ہوتے تو اتنی دعائیں کرتے، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پھر سلام پھیر دیتے۔ تشہد کا ترجمہ:تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … تشہد کے پہلے تین کلمات التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ کاایک ایک معنی ترجمہ میں بیان کر دیا ہے، ان الفاظ کے مزید معانی درج ذیل ہیں: اَلتَّحِیَّاتُ: سلامتی، بقا، عظمت، آفات اور نقائص سے سلامتی، بادشاہت
الصَّلَوَاتُ: پانچ نمازیں، ہر نماز، تمام عبادات، دعائیں، رحمت
الطَّیِّبَاتُ: پاکیزہ کلام، اللہ کا ذکر، اعمالِ صالحہ
الصَّلَوَاتُ: پانچ نمازیں، ہر نماز، تمام عبادات، دعائیں، رحمت
الطَّیِّبَاتُ: پاکیزہ کلام، اللہ کا ذکر، اعمالِ صالحہ
حدیث نمبر: 1777
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ قَالَ: أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي وَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: ((قُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ (كَمَا تَقَدَّمَ إِلَى قَوْلِهِ) وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) قَالَ: فَإِذَا قَضَيْتَ هَٰذَا أَوْ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ هَٰذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کاہاتھ پکڑا اور نماز میں (پڑھا جانے والے) تشہد کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: کہو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … … أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہُ (سابقہ حدیث والا تشہد بیان کیا)۔ پھر فرمایا: جب تو یہ پورا کرلے توتونے اپنی نماز پوری کرلی، اگر کھڑا ہونا چاہے توکھڑا ہوجا اور اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھا رہ۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی عدمِ فرضیت پر دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، یعنی نماز سے نکلنے کے لیے سلام کہنا فرض نہیں، بلکہ کوئی خلافِ نماز حرکت کی جا سکتی ہے اور سلام کی فرضیت کے قائل اس حدیث کییوں تاویل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ تیری نماز مکمل ہو چکی ہے کا معنییہ ہے کہ تو تکمیلِ نماز کے قریب پہنچ چکا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ اگر تو جانا چاہتا ہے تو چلا جا کے معنییہ ہیں کہ نماز سے خارج ہونے کا جو شرعی طریقہ ہے، اس کے ذریعے نماز سے خارج ہو جا۔ ہم آئندہ آنے والے سلام کے ابواب مین یہ واضح کریں گے کہ سلام کے بغیر نماز سے خارج ہونا درست نہیں ہے، رہا مسئلہ اس حدیث کا تو سب سے پہلی گزارش یہ ہے کہ سرے سے اس حدیث ِ مبارکہ کے عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہُ کےبعدوالےالفاظکےبارےمیں اختلاف ہے کہ آیا ان کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے ہے یا سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کلام سے۔ میں اس مقام پر صرف علامہ عظیم آبادی کا کلام پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں، وہ کہتے ہیں: خطابی نے معالم میں کہا کہ اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کا حصہ ہیںیا عبد اللہ بن مسعود کے کلام کا، … …۔ ابو بکر خطیب نے کہا: یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ یہ تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو حدیث میں مدرج ہو گیا، شبابہ بن سوار نے زہیر بن معاویہ سے بیان کردہ روایت میں اس کی وضاحت کی ہے اور ابن مسعود کے کلام کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا ہے، اسی طرح عبد الرحمن بن ثابت نے بھی حسین بن ابی حسین سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کلام کو علیحدہ کر کے روایت کیا ہے۔ جبکہ ابو الحسن سندھی نے شرح شرح النخبۃ میں کہا: خطابی نے معالم میں اس کے بارے میں جو کچھ کہا، اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ اس کے وصل یا فصل کے بارے میں راویوں کا اختلاف ہے، پس بیشک حفاظ تو اس بات پر متفق ہیں کہ یہ مدرج کلام ہے۔ (عون المعبود: ۱/ ۴۸۴) ہمارا نظریہیہ ہے کہ اگر ہم اس جملے کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کا حصہ مان بھی لیں تو اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دوسری احادیث کی روشنی میں سمجھا جائے گا کہ اس کا معنییہ ہے کہ وہ نمازی تکمیلِ نماز کے قریب پہنچ چکا ہے، اس تاویل کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ سلام کے ساتھ نماز کو ختم کیا اور قولی احادیث کے ذریعے بھی اسی کی تعلیم دی، ان کی تفصیل سلام کے باب میں آئے گی۔ درود کے پڑھنے کا مسئلہ بھی آگے بیان ہو گا۔واللہ اعلم بالصواب۔
حدیث نمبر: 1778
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُهُ فِي صَلَاتِنَا حَتَّى عَلَّمَنَا) فَقَالَ: ((إِذَا قَعَدْتُّمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ (فَذَكَرَ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ إِلَى قَوْلِهِ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) قَالَ ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی، جبکہ ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم نماز کے (تشہد) میں کیا کہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس چیز کی تعلیم دی اور فرمایا: جب تم دو رکعتوں کے بعد بیٹھو تو پڑھو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ … … عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا کا انتخاب کرے اور اس کے ساتھ اپنے ربّ کو پکارے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درمیانے تشہد میں بھی خیر و بھلائی پر مشتمل کوئی دعا کی جا سکتی ہے، بعض مقتدی عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تک پڑھ کر امام کی انتظار میں خاموش بیٹھے رہتے ہیں،یہ تعلیم کی کمی کے نتائج ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خیر و بھلائی کی ابتدائی، جامع اور اختتامی چیزوں کی تعلیم دی گئی تھی۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھے، سمندر کو کوزے میں بند کر دینا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا وصف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گفتگو فصاحت و بلاغت کی شاہکار ہوتی تھی۔
ابتدائی اور اختتامی کلمات دئیے جانے کا مطلب ہے کہ آپ کو خیر و بھلائی کی ہر قسم کی باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
ابتدائی اور اختتامی کلمات دئیے جانے کا مطلب ہے کہ آپ کو خیر و بھلائی کی ہر قسم کی باتوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 1779
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ وَأَمَرَهُ أَنْ يُعَلِّمَ النَّاسَ: ((التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تشہد کی تعلیم دی اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ لوگوں کو بھی یہ سکھائے: ((اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔))
حدیث نمبر: 1780
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: ((التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ)) وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا فَلَمَّا قُبِضَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قرآن کی سورت کی طرح اس تشہدکی تعلیم دی، جبکہ میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو ہتھیلیوں میں تھی: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ جب آپ ہمارے درمیان موجود تھے (تو ہم اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کہتے تھے)، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوگئے تو ہم اس طرح کہتے تھے: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سمیت بعض صحابہ کا یہ نظریہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد خطاب والا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ نہ کہا جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود نہیں ہیں، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہنا زیادہ مناسب سمجھا۔ آج کل جو لوگ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ کے الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سننے اور حاضر ہونے کا مفہوم کشید کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو سب سے پہلے صحابہ کرام کے عقیدے پر غور کرنا چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سننے یا نہ سننے کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے تھے اور کس نظریہ کی بنا پر وہ خطاب والے الفاظ کہنے کو تیار نہ تھے؟ صحابہ کی ایک جماعت کے مطابق ہمارا نظریہیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن الفاظ کی تعلیم دی، انہی الفاظ کو نقل کر کے تشہد پڑھا جائے، کیونکہ خطاب والے الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موجود ہونا یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنانا یا سننا تو لازم نہیں آتا۔
حدیث نمبر: 1781
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَلْيَدْعُ بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں بیٹھتے تو ہم کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ مِنْ عِبَادِہِ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی فُلاَنٍ وَفُلاَنٍ (اللہ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو اور فلاں اور فلاں پر سلامتی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ نہ کہا کرو کہ اللہ تعالیٰ پر سلامتی ہو، کیونکہ اللہ تو خود سلام ہے، (آئندہ) جب تم میں سے کوئی شخص بیٹھے تو وہ یہ کہا کرے: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ أَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، جب تم یہ (دعا) کرو گے تو وہ زمین و آسمان کے مابین ہر عبادت گزار کو پہنچ جائے گی، أَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ پھر تم میں سے ہر کوئی اپنی پسندیدہ دعا منتخب کر لے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارے۔
حدیث نمبر: 1782
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنْحْوِهِ وَفِيهِ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قِبَلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرِيلَ، السَّلَامُ عَلَى مِيكَائِيلَ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، الْحَدِيثُ كَمَا تَقَدَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازمیں بیٹھتے تو کہتے: اَلسَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ، اَلسَّلَامُ عَلٰی جِبْرِیْلَ، اَلسَّلاَمُ عَلٰی مِیْکَائِیلَ، اَلسَّلَامُ عَلَی فُلاَنٍ۔ (اللہ پر سلام ہو اس کے بندوں کی طرف سے، جبریل پر سلام ہو، میکائیل پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو، … … ۔ آگے پہلی حدیث کی طرح۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعور رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد ہی عام لوگوں کو یاد ہے، قارئین کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب لوگوں کو اس تشہد کی تعلیم دی جا رہی تھی، اس وقت نماز میں درود شریف پڑھنے کا مسئلہ پیدا نہیں ہوا تھا، اس لیے ان روایات میں صرف تشہد اور دعاؤں کا ذکر ہے، درود کے مسئلے کی وضاحت آگے آ رہی ہے۔ اس مقام پر یہ تنبیہ بھی ضروری ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد کی طرح دوسرے صحابہ سے بھی اس تشہد کی احادیث مروی ہیں، جن کے الفاظ اِس تشہد سے مختلف ہیں، تو یہ ورائٹی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، اس لیے جو تشہد بھی پڑھ لیا جائے وہ کفایت کرے گا۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ پہلے اور درمیانے تشہد میں بھی نمازی کو مختلف اور پسندیدہ دعائیں کرنے کا اختیار ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اِس تشہد میں درود پڑھنا بھی درست ہے، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نو رکعت (اکٹھی) نمازِ وتر ادا کرتے، مسلسل آٹھ رکعات ادا کرنے کے بعد (درمیانے تشہد) کیلئے بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے اور نبی پر درود بھیجتے اور سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو کر نویں رکعت ادا کرنے کے بعد بیٹھتے، اللہ کی حمد بیان کرتے، نبی پر درود بھیجتے، دعا کرتے اورسلام پھیر دیتے۔(نسائی: ۱۷۲۱)
حدیث نمبر: 1783
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ، فَكَانَ يَقُولُ: ((التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ حُجَيْرٌ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، سَلَامٌ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کی طرح ہمیں تشہد کی تعلیم دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: اَلتَّحِیَّاتُ الْمُبَاَرَکَاتَ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ، سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، سَلَامٌ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ وَأَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ۔ تشہد کا ترجمہ:تمام برکت والی قولی، بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ کیلئے ہیں، اے نبی: آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر (بھی) سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں سَلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ کی بجائے السَّلَامٌ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 1784
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُمْ الصَّلَاةَ (إِلَى أَنْ قَالَ:) ((فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی حدیث نقل کرتے ہیں، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو نماز کی تعلیم دی،یہاں تک کہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی قعدے میں ہو تو سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔