حدیث نمبر: 1775
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهَا فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: ((اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قنوتِ وتر میں پڑھنے کے لیے ان کلمات کی تعلیم دی: اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ، وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ، فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ، اِنَّہٗلَایَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ،تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت دی اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرماجنہیں تو نے عافیت بخشی اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا اور جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت ڈال دے اور جس شر کا تو نے فیصلہ کیا ہے مجھے اس سے محفوظ رکھ۔ بیشک تو ہی فیصلہ صادر کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جاتا اور جس کا تو والی بنا وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا ،اے ہمار ے ربّ! تو برکت والا اور بلند و بالا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کی روایت میں آخری جملے سے پہلے وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ (اور وہ شخص عزت نہیں پا سکتا جس سے تو دشمنی کرے۔)کے الفاظ کا بھی ذکر ہے، عام لوگوں کو ان الفاظ سمیتیہ دعا یاد ہے۔ قنوت وتر میں اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ … … پڑھنا کیسا ہے؟ کسی صحیح اور مرفوع روایت سے اس دعا کو قنوتِ وتر میں پڑھنا ثابت نہیں ہوتا، سنن بیہقی کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دعا کو قنوت نازلہ میں پڑھنے کی تعلیم دی گئی، لیکنیہ حدیث مرسل ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ دعا ثابت ہے، لیکن وہ بھی اس کو رکوع کے بعد والی قنوت نازلہ میں پڑھتے تھے، یہ بھی سنن بیہقی کی روایت ہے۔ رکوع سے پہلے قنوت وتر پڑھنی چاہیے: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں سورۂ اعلی، دوسری میں سورۂ کافرون اور تیسری میں سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے اور رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔ (نسائی: ۱۶۹۹) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یُوْتِرُ فَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ۔ یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر پڑھتے تھے اور رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے تھے۔(ابن ماجہ: ۱۱۸۲)