کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 1772
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) (1) قَالَ: رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِلَى أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ، اللَّهُ أَكْبَرُ)) ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں رکوع کیا، پھر سر اٹھا یا اور یہ دعا کی:اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا … … اے اللہ! اس کو ان پر یوسف علیہ السلام والا قحط بنا دے۔
حدیث نمبر: 1773
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ! إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَٰهُنَا بِالْكُوفَةِ قَرِيبًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدناعمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔
حدیث نمبر: 1774
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: لَا، أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ( کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔
وضاحت:
فوائد: … کئی احادیث ِ مبارکہ میں قنوت نازلہ کا ثبوت ملتا ہے، بعض کا ذکر اس باب سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔ تو پھر اس روایت میں صحابی کا اس عمل کو بدعت یا نیا عمل کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جوابات ہی زیادہ مناسب ہیں: (۱)صحابی کا مقصد دوام اور ہمیشگی کو ردّ کرنا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حادثات و واقعات کے مطابق کبھی کبھار قنوتِ نازلہ فرماتے تھے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔