حدیث نمبر: 1770
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، يَدْعُو عَلَيْهِمْ، عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَيَوْمٍ مِنْ مَنْ خَلْفَهُ، أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَتَلُوهُمْ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَقَالَ عِكْرِمَةُ هَٰذَا كَانَ مِفْتَاحَ الْقُنُوتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلسل ایک ماہ ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں قنوت کی، جب آپ آخری رکعت میں سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تویہ قنوت کرتے، جس میں بنو سلیم کے ایک قبیلے رِعل، ذکوان اور عصیہ پر بددعا کرتے اور پیچھے والے مقتدی آمین کہتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ صحابہ کو ان لوگوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، لیکن انہوں نے انہیں قتل کردیا۔ عفان نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ عکرمہ کہتے تھے کہ یہ قنوت شروع ہونے کا سبب تھا۔
وضاحت:
فوائد: … احناف نے قنوت ِ نازلہ کو نمازِ فجر کے ساتھ خاص کر دیا ہے، لیکن دوسری نمازوں پہ مشتمل روایات ان کے اس نظریے کا ردّ کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 1771
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ أَوْ يَدْعُو لِأَحَدٍ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَرُبَّمَا قَالَ: إِذَا قَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ)) قَالَ يَجْهَرُ بِذَلِكَ، وَيَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا حَيَّيْنِ مِنَ الْعَرَبِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کے خلاف بد دعا کرنے یا کسی کے حق میں دعا کرنے کا ارادہ کرتے تو رکوع کے بعد قنوت کرتے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہہ لیتے تو اس طرح دعا کرتے: اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مؤمنوں کو نجات عطا فرما، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کر دے اور اس کو ان پر یوسف علیہ السلام کے قحط کی طرح قحط بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا جہری آواز کے ساتھ کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز میں تو یہ بددعا کرتے تھے: اے اللہ! فلاں فلاں (عرب کے دو قبیلوں) پر لعنت کر، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کر دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔