کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لِحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمُ الْقُرَّاءَ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَٰذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لِحْيَانَ قَالَ قَتَادَةَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَأُوا بِهِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ أَوْ رُفِعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہ یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1756
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3064، 4088، 4090 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12087»
حدیث نمبر: 1757
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، كَانُوا يُسَمُّونَ الْقُرَّاءَ، قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِي مَنْ نَزَلَتْ؟ قَالَ: فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی دستے پر اتنا غم محسوس نہیں کیا جتنا ان لوگوں پر محسوس کیا، ان کو قراء کہا جاتا تھا،سفیان کہتے ہیں: ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا} یعنی: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم (اپنے رب سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ کسی نے امام سفیان سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: بئر معونہ والوں کے بارے میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 677، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»
حدیث نمبر: 1758
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَقَالَ: ((عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک دعائے قنوت کی، اس میں آپ رعل اور ذکوان قبیلوں پر بد دعا کرتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1758
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1003، 4094، ومسلم: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12176»
حدیث نمبر: 1759
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو بَعْدَ الرُّكُوعِ عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعائے قنوت کی، اس میں آپ عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ پر بددعا کرتے تھے، پھر اسے ترک کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1759
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4089، ومسلم: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13788»
حدیث نمبر: 1760
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: ((رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ)) فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ قَالَ: ((اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا … )) دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ یہ آخری رکعت کی بات تھی، پھر یہ بد دعا کرنے لگے: اے اللہ! تو فلاں پر لعنت کر، … ۔ منافق لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد: ۵۶۷۴ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ کا نام لے کر ان پر لعنت کی ہے۔ امام بخاری (۴۰۷۰) نے اس کو مرسلاً ذکر کیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1760
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4069، 4559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6349»
حدیث نمبر: 1761
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ (وَفِي رِوَايَةٍ الْفَجْرِ) قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ) ابْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ ابْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطَأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دعا کی: اے اللہ: ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی ساری تعریف ہے، تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اورمکہ کے کمزوروں کو نجات دے دے، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کردے اوراسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط کر دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1761
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6200، ومسلم: 675 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7259»
حدیث نمبر: 1762
عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَالَ: ((لَعَنَ اللَّهُ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَلَّمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَى النَّاسِ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي أَنَا لَسْتُ قُلْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی قوم کے لیے دعا کرنا اور کسی کے لیے بددعا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی روشنی میں ہوتا تھا، غفار قبیلہ قدیم اسلام والا تھا اور اسلم قبیلے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1762
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 679 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16687»
حدیث نمبر: 1763
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:ہاں رکوع کے بعد کی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دفعہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی، رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1763
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1001، ومسلم: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12141»
حدیث نمبر: 1764
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: كَذَبُوا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم احول کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق سوال کیا کہ آیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟ انہوں نے جواب دیا: رکوع سے پہلے ہے۔ میں نے کہا: لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی تھی،یہ سن کرانہوں نے کہا: لوگوں سے غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک مہینہ قنوت کی ہے جس میں آپ ان لوگوں پربد دعا کرتے تھے جنہوں نے آپ کے ان صحابہ کو قتل کر دیا تھا، جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1764
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1002، 3170، ومسلم: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12735»
حدیث نمبر: 1765
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر میں ہمیشہ قنوت کرتے رہے حتی کہ آپ دنیا سے جدا ہوگئے۔
وضاحت:
فوائد: … قنوت نازلہ کا تعلق خاص اسباب سے ہے، جیسا کہ اس باب کے شروع میں اس کی مشروعیت کی وضاحت کی گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1765
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو جعفر عيسي بن ماھان الرازي سيء الحفظ، وقد خالف رواية الثقات لھذا الحديث عن انس، فالرواية الصحيحة عنه: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم قنت شھرا يدعو علي أحياء من أحياء العرب: عصية وذكوان ورعل ولحيان۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12064)۔ أخرجه عبد الرزاق: 4964، وأخرج بنحوه ابن ابي شيبة: 2/ 312، والطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 244، والدارقطني: 2/ 39، والبيھقي: 2/ 201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12686»