کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے اور اس میں جو پڑھا جاتا ہے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 1751
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے سے سر اٹھاتے تودوسرا سجدہ اس وقت تک نہ کر تے جب تک برابر ہو کر بیٹھ نہ جاتے۔
حدیث نمبر: 1752
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَا أَخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَا أَخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عَظْمٍ مَا أَخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز بیان کرتے ہوئے نماز پڑھی تو سجدہ کیا (اور اتنی دیر ٹھہرے رہے کہ)ہر عضو اپنے مقام پر ٹھہر گیا، پھر اٹھے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر گئی، پھر دوسرا سجدہ کیا حتی کہ ہر ہڈی نے اپنی جگہ کو پکڑلیا، پھر اٹھے اوردوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیاتھا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اس طرح کی تھی۔
حدیث نمبر: 1753
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
وضاحت:
فوائد: … اسی حدیث کے ایک طریق میں اس دعا میں وَاجْبُرْنِیْ کے الفاظ کا اضافہ بھی مروی ہے، دیکھیں حدیث نمبر: ۶۳۹، اس طرح پوری دعا اس طرح بنتی ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
فوائد: … جلسہ میں درج ذیل دعا تکرار کے ساتھ پڑنا بھی ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ (ابوداود: ۸۷۴، نسائی: ۱۰۷۰، ۱۱۴۶، ابن ماجہ: ۸۹۷) اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ ایک دو دفعہ پڑھنا بھی ان شاء اللہ درست ہے۔ اس جلسہ میں بیٹھنے کی کم از کم مقدار تو یہ ہے کہ نمازی کے اعضاء اپنی جگہ پرٹھہر جائیں، زیادہ سے زیادہ مقدارکا انحصار نمازی کی مرضی پر ہے، سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنی
یہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، جیسا کہ نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کییہ صورتحال ہے کہ روایتی جلد بازی اور دین کے بارے میں عدم سنجیدگی کی وجہ سے وہ دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانے سے بھی عاجز آ چکے ہیں، بلکہ بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زمین سے آٹھ نو انچ کے بقدر سر اٹھانے کے بعد دوسرے سجدے کے لیے گر پڑتے ہیں، جبکہ ان کی تربیت کرنے والے لوگ بھی خاموش رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔
فوائد: … جلسہ میں درج ذیل دعا تکرار کے ساتھ پڑنا بھی ثابت ہے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ، رَبِّ اغْفِرْلِیْ (ابوداود: ۸۷۴، نسائی: ۱۰۷۰، ۱۱۴۶، ابن ماجہ: ۸۹۷) اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ ایک دو دفعہ پڑھنا بھی ان شاء اللہ درست ہے۔ اس جلسہ میں بیٹھنے کی کم از کم مقدار تو یہ ہے کہ نمازی کے اعضاء اپنی جگہ پرٹھہر جائیں، زیادہ سے زیادہ مقدارکا انحصار نمازی کی مرضی پر ہے، سیدنابراء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱) صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنی
یہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، جیسا کہ نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ لیکن اکثر لوگوں کییہ صورتحال ہے کہ روایتی جلد بازی اور دین کے بارے میں عدم سنجیدگی کی وجہ سے وہ دو سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھ جانے سے بھی عاجز آ چکے ہیں، بلکہ بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ زمین سے آٹھ نو انچ کے بقدر سر اٹھانے کے بعد دوسرے سجدے کے لیے گر پڑتے ہیں، جبکہ ان کی تربیت کرنے والے لوگ بھی خاموش رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ۔