کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سجدے کی دعاؤں اور اذکار کا بیان، ان کے علاوہ جو رکوع میں گزر چکے ہیں
حدیث نمبر: 1746
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ يَقُولُ: ((اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُّ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَلَکَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ فَصَوَّرَہُ فَأَحْسَنَ صُوَرَہُ فَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (اے اللہ! میں نے تیرے لئے ہی سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے فرمانبردار ہوا، میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا، جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کی شکل بنائی اورخوبصورت شکل بنائی اور اس کے کان اور آنکھ کو کھولا، اللہ بہت با برکت ہے، جو سب سے اچھا بنانے والا ہے۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1746
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 771 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 729»
حدیث نمبر: 1747
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي التَّهَجُّدِ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ: ((اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اجْعَلْ لِي نُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ تہجد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلے اور نماز پڑھی اور نماز میں یا سجدے میں یہ دعا کرنے لگے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَعَنْیَمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَسَارِیْ نُوْرًا، وَأَمَامِیْ نُوْرًا، وَخَلْفِیْ نُوْرًا، وَفَوْقِیْ نُوْرًا، وَتَحْتِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْنِیْ نُوْرًا۔ شعبہ کہتے ہیں:یاآخری جملہ اس طرح ہے: اِجْعَلْ لِیْ نُوْرًا (اے اللہ! میرے دل میں نور کردے،میرے کان میں نور،میری نظر میں نور، میری دائیں طرف نور۔ میری بائیں نور، میرے آگے نور، میرے پیچھے نور، میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور بنا دے اور مجھے نور ہی بنا دے۔)
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد مین یہ ایک لمبی حدیث ہے۔ اس حدیث میں نور سے مراد کیا ہے؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (۱) یہ حقیقی نور ہی ہے، جو قیامت کے اندھیروں میں روشنی پیدا کرے گا اور (۲) اس سے مراد علم، ہدایت، حق کی وضاحت اور اس کی روشنی مراد ہے، تاکہ کہیں سے بھیضلالت نہ گھسنے پائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1747
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2567»
حدیث نمبر: 1748
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا فَقَدَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ وَهُوَ يَقُولُ: ((رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر سے گم پایا، اس لیے ہاتھ کے ساتھ آپ کو تلاش کیا، جب ان کا ہاتھ آپ کو لگا تو (ان کو پتا چلتا ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں ہیں اور یہ دعا کر رہے ہیں: رَبِّ أَعْطِ نَفْسِیْ تَقْوَاھَا، زَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاھَا، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلاَ ھَا۔ (اے میرے رب! میرے نفس کو اس کا تقوی دے دے ، اسے پاک کردے تو سب سے بہتر ذات ہے، جو اسے پاک کرنے والی ہے، توہی اس کا ولی ہے اورمولی ہے۔)
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا ایک سیاق درج ذیل ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بستر پر گم پایا، (چونکہ اندھیرا تھا، اس لیے) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہاتھ سے تلاش کیا، جب میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کے تلووں پر پڑا تو میں نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں گڑھے ہوئے ہیں اور آپ اپنی مسجد میں ہیں اور یہ دعا پڑھ رہے ہیں: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (مسلم: ۴۸۶، مسند احمد: ۲۵۶۵۵) البتہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث میں جس دعا رَبِّ اَعْطِنِیْ تَقْوَاھَا … کا ذکر ہے، یہ الفاظ زید بن ارقم کی حدیث سے ثابت ایک دعا میں موجود ہیں۔ (دیکھیں: مسلم: ۲۷۲۲، مسند احمد: ۱۹۳۰۸)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1748
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين غير صالح بن سعيد، فقد روي عنه نافع بن عمر الجمحي، وذكره ابن حبان في الثقات ۔ وانظر الشرح ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26276»
حدیث نمبر: 1749
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: افْتَقَدْتُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَتَحَسَّسْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَطَلَبْتُهُ) ثُمَّ رَجَعْتُ فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: ((سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ)) (وَفِي رِوَايَةٍ فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ)) فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّكَ لَفِي شَأْنٍ وَأَنَا فِي شَأْنٍ آخَرَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، مجھے یہ خیال آیا کہ آپ کسی دوسری بیوی کی طرف چلے گئے ہیں، پس میں نے ٹوہ لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا۔لیکن جب واپس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع یا سجدے کی حالت میں یہ دعا پڑھ رہے ہیں: سُبْحَانَکَ وَبِحَمْدِکَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ (تو پاک ہے اور اپنی حمد کے ساتھ ہے، تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے۔) اورایک روایت میں ہے: آپ سجدے میں یہ دعا پڑھ رہے تھے: رَبِّ اغْفِرْلِیْ مَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ (اے میرے رب! میرے لیے میرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دے۔) یہ دیکھ کر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں،بیشک میں کسی اور وہم و گمان میں تھی اور آپ کسی اور کام میں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1749
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 485 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25178، 25180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25693»
حدیث نمبر: 1750
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے اس لیے تم اس میں کثرت سے دعا کیا کرو۔
وضاحت:
فوائد: … سجدہ کے بعض اذکار کا ذکر پیچھے رکوع میں ذکر کا بیان کے باب میں ہو چکا ہے، اس وقت عوام و خواص کییہ صورتحال ہے کہ وہ سجدہ میں صرف سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہنے کو کافی سمجھتے ہیں اور وہ بھی جلدی جلدی اور اس کے معنی پر غور کیے بغیر۔ جواز کی حد تک تو یہ ذکر کرنا درست ہے، لیکن ہماری صورتحال کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عدم رغبت کی علامت ہے اور لوگوں نے عبادات کے سلسلے میں گزارا کرنے کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدوں میں مختلف اذکار اور دعاؤں کی تعلیم دی ہے تو اس میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ ہے نمازی اس کے معانی کو سمجھے، اس میں زیادہ عاجزی و انکساری پیدا ہو اور نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1750
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9442»