حدیث نمبر: 1716
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكْبَتَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ پہلے اپنے ہاتھوں کو رکھے اور پھر گھٹنوں کو۔
وضاحت:
فوائد: … شرح میں سنن کی وائل بن حجرکی سند کو حسن لغیرہ کہا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل پہلے گھٹنے رکھنا ہے۔
ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔
ترمذی نے کہا یہ روایت شریک کے واسطہ سے مروی ہے۔ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: شریک حافظہ کے لحاظ سے یہ ضعیف ہے۔ دارقطنی نے کہا: شریک اس کے ساتھ منفرد ہے اور شریک کی متفرد روایت قوی نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 1717
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَفَعَهُ قَالَ: إِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ فَإِذَا وَضَعَ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ فَلْيَضَعْ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَهُ فَلْيَرْفَعْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ہاتھ بھی چہرے کی طرح سجدہ کرتے ہیں، لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص سجدہ کے لیے اپنا چہرہ رکھے تو اپنے ہاتھ بھی رکھ دے اور جب اسے اٹھائے تو ان کو بھی اٹھا لے۔
حدیث نمبر: 1718
عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو بازو پہلو سے اتنا دور رکھتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔
حدیث نمبر: 1719
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سے مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو بازو پہلو سے الگ کرتے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو جاتی۔
حدیث نمبر: 1720
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ ((اللَّهُ أَكْبَرُ)) ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو حمیدساعدی رضی اللہ عنہ رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز(کا طریقہ) بیان کرتے ہیں فرمایا:پھر آپ سجد ہ کرتے ہوئے نیچے جھکے اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہاپھر کشادگی ا ختیارکی اور اپنے بازو اپنے پیٹ سے کھول کر رکھے اور اپنے پاؤں کی انگلیاں موڑ کر (قبلے کی طرف) رکھیں، (پھر اٹھے اور)اپنا (بایاں) پاؤں موڑ کر رکھا اور اس پر بیٹھ گئے اور برا بر ہوگئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ آئی، … ۔
حدیث نمبر: 1721
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اعْتَدِلُوا فِي سُجُودِكُمْ وَلَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ، أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي أَوْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال اختیار کرو،کوئی آدمی اپنے بازو کتے کی طرح مت بچھائے، رکوع وسجود کو پورا کرو، اللہ کی قسم! جب تم رکوع اور سجدہ کرتے ہو تومیں تمہیں اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 1722
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی سجدہ کرے تو وہ اعتدال کرے اور کتے کی طرح اپنے بازو مت بچھائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس مقام پر اعتدال کا مفہوم یہ ہے کہ سجدے میں اپنے بازوؤں کو نہ زمین پر بچھائے اور نہ اپنے جسم کے ساتھ بند کر لے، بلکہ درمیان میں رکھے اور ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے اور کہنیوں کو زمین اور پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، کیونکہ اس صورت میں زیادہ عاجزی ہے اور بندہ سستی سے دور رہتا ہے اور پیشانی اچھی طرح زمین پر ٹک جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 1723
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَحَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ؟ قَالَ: التَّوَاضُعُ، قَالَ: هَٰكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شعبہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: آپ کا غلام جب سجدہ کرتا ہے تو اپنی پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر لگا دیتا ہے۔ انھوں نے اس سے پوچھا: کون سی چیز تجھے اس طرح کرنے پر ابھارتی ہے؟ اس نے کہا: تواضع (کی خاطر ایسا کرتا ہوں)۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو کتے کی ہیئت ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی
وضاحت:
فوائد: … سجدہ کی حالت میں سینے کو زمین پر نہیں رکھا جا سکتا ہے، اس حدیث کے شروع والے حصے میں جو کیفیت بیان کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب آدمی پیشانی اور بازوؤں کو زمین پر رکھتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کا اگلا حصہ زمین پر پڑا ہے۔
حدیث نمبر: 1724
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو غور سے دیکھا،پس میں نے دیکھا کہ آپ زمین سے پیٹ کو اٹھا کر رکھتے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی بھی دیکھی۔
حدیث نمبر: 1725
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ كَشْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوکھ کی سفیدی دیکھی، جب کہ آپ سجدہ کررہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی بازوؤں کو پیٹ سے دور رکھنے کی وجہ سے کوکھ کی سفیدی نظر آنے لگی۔
حدیث نمبر: 1726
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ أَوْ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
حدیث نمبر: 1727
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي أَقْرَمَ بِالْقَاعِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ) قَالَ: فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ فَأَنَاخُوا بِنَاحِيَةِ الطَّرِيقِ فَقَالَ لِي أَبِي: أَيْ بُنَيَّ! كُنْ فِي بَهْمِكَ حَتَّى آتِيَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَأُسَائِلَهُمْ، قَالَ: فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَيْ إِبْطَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا سَجَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن اقرم کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا، ہمارے پاس سے ایک قافلہ گزرا ، پھر انہوں نے راستہ کی ایک طرف اونٹ بٹھا دیئے، میرے باپ نے مجھ سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اپنے جانوروں میں ہی رہ، میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے سوال جواب کرتا ہوں، سو وہ چلے گئے اور میں بھی ان کے پیچھے نکل پڑا، وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیااور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی غیر خالص سفیدی کو دیکھتا تھا۔
حدیث نمبر: 1728
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَصَفَ السُّجُودَ قَالَ: فَبَسَطَ كَفَّيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَخَوَّى وَقَالَ هَٰكَذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے (سجدہ کیا اور) اپنی ہتھیلیوں کو بچھایا، پچھلے حصے کو اٹھایا اور اپنے پیٹ کو بھی زمین سے بلند رکھا اور پھر کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح سجدہ کیا تھا۔
حدیث نمبر: 1729
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى مَنْ خَلْفَهُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اتنی کشادگی کرتے کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔
حدیث نمبر: 1730
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو سجدہ کرے تو اپنی ہتھیلیوں کونیچے رکھ دے اورکہنیوں کو اٹھا لے۔
حدیث نمبر: 1731
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَنْفِهِ مَعَ جَبْهَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی پیشانی سمیت ناک پر سجدہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1732
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ أَنْفَهُ عَلَى الْأَرْضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنی ناک زمین پر لگاتے۔
حدیث نمبر: 1733
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ بَيْنَ كَفَّيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَيَدَاهُ قَرِيبَتَانِ مِنْ أُذُنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاآپ اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کرتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے قریب ہوتے تھے ۔
حدیث نمبر: 1734
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ((وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جب تو سجدہ کرے توزمین پر اپنے ماتھے کو اس طرح جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۱۶۸۱)میں اِس حدیث کے آخری جملے کا مفہوم بیان کیا جا چکا ہے۔ ان تمام احادیث کا تعلق سجدہ کی کیفیت اور ہیئت کے ساتھ ہے، اِن اور دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے، مسند احمد کا حوالہ نہیں دیا گیا: (۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)