حدیث نمبر: 1707
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے تھے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَماَ بَیْنَہُمَا وَمِلْ ئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَیْ ئٍ بَعْدُ۔ ( اللہ نے اس کو سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان والے خلا کے بھرنے کے بقدر اور اس چیز کے بھراؤ کے برابر، جو تو چاہے۔
حدیث نمبر: 1708
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسِبُهُ رَفَعَهُ قَالَ: إِذَا كَانَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ انھوں نے مرفوعاً بیان کیا تھا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے: سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ۔ (اللہ نے اس کو سن لیا،جس نے اس کی تعریف کی،اے اللہ! اے ہمارے رب!تیرے ہی لئے تعریف ہے، آسمان کے بھراؤ اور زمین کے بھراؤ کے بقدر اور اس چیز کے بھرنے کے بقدر، جسے تو چاہے۔)
حدیث نمبر: 1709
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
حدیث نمبر: 1710
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ (وَفِي لَفْظٍ يَدْعُو إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ): ((اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَنَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْوَسَخِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَائِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، اللَّہُمَّ طَہِّرْنِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدَ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، اَللّٰہُمَّ طَہِّرْنِیْمِنَ الذُّنُوْبِ وَنَـقِّنِیْ مِنْہَا کَمَایُنَـقَّی الثَّوْبُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْوَسَخِ۔ )) (اے اللہ! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمان کے بھرنے اور زمین کے بھرنے کے بقدر اوراس چیز کے بھراؤ کے بقدر، جو تو چاہے، اے اللہ! مجھے برف،اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ پاک کردے، اے اللہ! مجھے گناہوں سے پاک کردے اور ان سے اس طرح صاف کردے جیسے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔)
حدیث نمبر: 1711
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَالَ الْقَارِئُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتا ہے اور اس کے بعد اس کے پیچھے والا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہتا ہے تواس کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1712
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا قَالَ الْإِمَامُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّ مَنْ وَافَقَ قَوْلَهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہے تو تم اَللّٰہُمَّ رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ کہو، پس جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ مقتدی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہیں کہنا چاہئے، کیونکہیہاں مقتدی کو یہ کلمہ کہنے سے منع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے لیے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہنے کے وقت کا تعین کیا گیا ہے۔ درج ذیل دلائل کی بنا پر ہر کسی کو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہناچاہئے: سَمِعَاللّٰہُلِمَنْحَمِدَہٗ نمازنبوی کی ترتیب میں شامل ہے اور امام کی اقتدا میں اس کے نہ پڑھنے پر دلالت کرنے والی کوئی واضح دلیل نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہااورفرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) (بخاری) … تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ سیّدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَتِمُّ صَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی … یُکَبِّرَ … ثُمَّ یَرْکَعَ … ثُمَّ یَقُوْلَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗحَتّٰییَسْتَوِیَ قَائِمًا۔)) … کسی آدمی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ تکبیر نہ کہے … رکوع نہ کرے … اور پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ نہکہے … (ابوداود،حاکم) یہ حدیث واضح نص ہے کہ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کےبغیر نماز مکمل نہیں ہوتی، لہٰذا اس کلمہ سے مقتدیوں کو روکنے کے لیے واضح دلیل کی ضرورت ہے۔یہی معاملہ وَلَا الضَّالِّیْنَ اور آمِیْن کا ہے، کہ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت دوسری نصوص سے ثابت ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1713
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي يَوْمًا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ وَقَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو آپ کے پیچھے ایک آدمی نے یہ کلمہ کہا: رَبَّنَالَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَ کًا فِیْہِ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: ابھی ابھی کلمات کہنے والا کون تھا؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے چونتیس پینتیس فرشتے دیکھے، وہ ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کو سب سے پہلے لکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اتنی بڑی فضیلت کے باوجود نمازی لوگوں کی اکثریت جلد بازی اور اپنی عادت کے سامنے عاجز ہو کر یہ کلمہ دوہرانے سے غافل ہے۔
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث میں ثلاثین (تیس) کے ساتھ بِضْعَۃٌ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق تین سے نو تک کے کسی بھی عدد پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہماری زبان میں بضعۃ کا مفہوم ادا کرنے کے لیے چند کا لفظ مناسب رہے گا یعنی تیس سے چند زائد فرشتے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 1714
عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) قَالَ ((اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ)) قَالَ وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے، سجدے سے کھڑے ہوتے اور دو سجدوں سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 1715
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ)) قَالَ ((اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کے بعد یہ کہتے تھے: اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمٰوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَاشِئْتَ مِنْ شَیْئٍ بَعْدُ، أَھْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَ کُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَامَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اے اللہ! اے ہمارے رب! تیرے لئے ہی تعریف ہے، آسمانوں کے بھراؤ جتنی، زمین کے بھراؤ جتنی اور ان کے بعد اس چیز کے بھراؤ جتنی جو تو خود چاہے۔ تعریف اور بزرگی والے! جو کچھ بندہ کہتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور سب تیرے بندے ہیں، جو تو دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اورکسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے کوئی فائدہ نہیں دیتی۔)
وضاحت:
فوائد: … عام طور پر لوگ رکوع کے بعد قومہ میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور عرصۂ دراز سے ان کییہی روٹین بھی ہے، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عدمِ رغبت کی علامت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے بہترین انداز میں اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ہے، لیکن ہمارا نفس ہمیں ایسا کرنے پر آمادہ ہی نہیں کرتا۔