کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رکوع و سجدے سے اٹھنے اور ان کے بعد اطمینان اختیار کرنے کے وجوب¤اور اسے ترک کرنے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 1701
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى صَلَاةِ رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ بَيْنَ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کا اس کی نماز کی طرف نہ دیکھنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی نماز کو قبولیت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اس کی نماز کو باطل اور مردود قرار دے کر اس پر لوٹا دی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1701
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، ويشھد لھذا الحديث ما في قصة المسيء صلاته: ((ثم اركع حتي تطمئن راكعا، ثم ارفع حتي تعتدل قائما، ثُمَّ اسْجُدْ حتي تطمئن ساجدا)) رواه البخاري ومسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10812»
حدیث نمبر: 1702
عَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ الْحَنْفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طلق بن علی حنفی رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1702
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، لكن يشهد له ما قبله۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 8261 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14005»
حدیث نمبر: 1703
عَنْ عَلَيِّ بْنِ شَيْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَحَ بِمُؤْخَرِ عَيْنَيْهِ إِلَى رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ! إِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، پس ہم نے نبی کریم کی اقتدا میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیح گوشۂ چشم سے ایک ایسے آدمی کی طرف دیکھا، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کر رہا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! بیشک اس آدمی کی کوئی نماز نہیں ہے، جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1703
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابن ماجه: 871، 1003، وابن خزيمة: 593، 667، 872، 1569، وابن ابي شيبة: 2/ 193، 14/ 156 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16406»
حدیث نمبر: 1704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ يَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِهِ؟ قَالَ: ((لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا أَوْ قَالَ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چوری کے لحاظ سے سب سے برا شخص وہ ہے جو اپنی نماز سے چوری کرتا ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ نماز سے کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ رکوع و سجود پورا نہیں کرتا، یا فرمایا کہ وہ رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 1888، والحاكم: 1/ 292، والبيھقي: 2/ 386 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23019»
حدیث نمبر: 1705
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1705
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد ضيعف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 288، وابو يعلي: 1311، والبزار: 536 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11553»
حدیث نمبر: 1706
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ أَوِ الرَّكْعَةِ فَيَمْكُثُ بَيْنَهُمَا حَتَّى نَقُولَ: أَنَسِيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ یا رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت اتنی دیر تک ٹھہرتے کہ ہم یہ کہتے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھول گئے ہیں؟
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لاتجزیء صلاۃ لا یقیم فیھا الرجل صلبہ فی الرکوع والسجود۔)) (سنن اربعہ) یعنی: اس آدمی کی نماز اسے کفایت نہیں کرتی جو رکوع و سجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔ اگر عوام الناس کی عادت کو دیکھا جائے تو درج بالا احادیث انتہائی قابلِ غور ہیں، کیونکہ اکثر لوگ بالخصوص احناف بہت جلد بازی سے نماز ادا کرنے کے مستقل عادی بن چکے ہیں،یوں لگتا ہے کہ رکوع کے بعد قومہ میں اور پہلے سجدے کے بعد جلسہ میں اعتدال کے ساتھ کمر کو سیدھا کرنا ان لوگوں کو گوارا ہی نہیں ہے۔ مجھے اس بات پر حیرانی اور تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ رکوع و سجود میں تین دفعہ تسبیحات کہنے کا دعوی کرتے ہیں، لیکن کوے کی طرح ٹھونگ لگانے کی مقدار مین یہ عمل پورا کر لیا جاتا ہے۔ درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ رکوع، قومہ، سجدہ اور جلسہ میں اطمینان کرنا ضروری ہے۔ امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور کثیر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ قومہ اور جلسہ وغیرہ میں اطمینان اختیار کرناواجب ہے اور اس کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق نے کہا ہے کہ جو نمازیرکوع و سجود میں کمر کو سیدھا نہیں کرتا، اس کی نماز فاسد ہے۔ کثیر احناف کا مشہور قول یہی ہے کہ یہ اطمینان اور اعتدال سنت ہے، واجب نہیں ہے، ان کے اکثر عوام میں عملی طور پر اس سنت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، بہرحال اس معاملے میں شرعی دلائل کا فیصلہ احناف کے حق میں نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1706
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 800، ومسلم: 472 9، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12760، 13369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12682»