کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1698
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرَأَ الرَّجُلُ وَهُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی رکوع یا سجدے میں تلاوت کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1698
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناده ضعيف لضعف الحارث بن عبد الله الاعور۔ أخرجه البزار: 843۔ وأخرج مسلم بلفظ مطول منه: 2078 وفيه: نھاني رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم عن التختم بالذھب وعن القراء ة في الركوع و السجود۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 619، 924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 619»
حدیث نمبر: 1699
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ: أَأَقْرَأُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَإِذَا رَكَعْتُمْ فَعَظِّمُوا اللَّهَ، وَإِذَا سَجَدْتُمْ فَاجْتَهِدُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عمان بن سعد کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا میں رکوع و سجود میں تلاوت کر سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے رکوع و سجود میں قراءت کرنے سے منع کیا گیا ہے، جب تم رکوع کرو تو اللہ کی عظمت بیان کیا کرو اور جب سجدہ کرو تو دعا کرنے کی کوشش کرو، پس زیادہ لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1699
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن اسحاق، ولجھالة النعمان بن سعد۔ أخرجه ابويعلي: 297، والبزار: 697، وابن ابي شيبة: 1/ 249 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1330، 1338) وفي الباب حديث ابن عباس الآتي ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1337»
حدیث نمبر: 1700
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبر دار! یقینا مجھے رکوع وسجود میں تلاوت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے، لہٰذا تم رکوع میں ربّ تعالیٰ کی تعظیم بیان کیا کرو اور سجدہ میں دعا کرنے میں کوشش کیا کرو، بہت لائق ہے کہ تمہارے لیے قبول کیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سجدہ یا رکوع میں قرآن مجید کا تلاوت کرنا منع ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رکوع و سجود کی مختلف دعائیں منقول ہیں، رکوع کی دعاؤں کا ذکر ہو چکا ہے، سجدے کی دعائیں اگلے ابواب میں آئیں گی، اس باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ میں کوئی بھی دعا کی جا سکتی ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کرنے کا عام حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1700
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 479 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1900»