کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رکوع میں ذکر کا بیان
حدیث نمبر: 1690
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ قَدَمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تھے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ وَمَا اسْتَقَلَّتْ بِہِ قَدَمِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ (اے اللہ! تیرے لئے ہی میں نے رکوع کیا،تجھ پر ہی میں ایمان لایا اور تیرے لئے ہی میں مطیع ہوا ، تو میرا رب ہے، میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈی، میرا پٹھا اور جس کے ساتھ میرا قدم ٹھہرا ہو اہے، سب اللہ رب العالمین کے لئے جھکے ہیں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1690
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم مطولا: 771 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 729، 960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 960»
حدیث نمبر: 1691
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ} قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ)) فَلَمَّا نَزَلَتْ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} قَالَ: ((اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے رکوع میں اپنا لو۔ جب {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی} نازل ہوئی تو فرمایا: اس (کے مصداق کو) اپنے سجدے میں اپنا لو۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں جو حکم دیا ہے، رکوع و سجود میں اس پر عمل کرو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1691
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 869، وابن ماجه: 887 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17414 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17549»
حدیث نمبر: 1692
عَنْ حُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ ((سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ)) وَفِي سُجُودِهِ ((سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى)) قَالَ: وَمَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ وَلَا آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعَلٰی کہتے تھے، نیز جب آپ رحمت والی آیت کے پاس سے گزرتے تو ٹھہرتے اور رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب والی آیت کے پاس سے گزرتے تواس سے پناہ مانگتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … رحمت کا سوال کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے کے لیے عربی زبان میں کوئی جملہ کہا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1692
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 772 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23629»
حدیث نمبر: 1693
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ((سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں یہ دعا پڑھتے تھے: سُبُّوْحٌ قُدُّ وْسٌرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔ (وہ پاک اور مقدس ذات، جو فرشتوں اور روح (یعنی جبریل) کا ربّ ہے۔)
وضاحت:
فوائد: … سُبُّوحٌ اور قُدُّوْسٌ کے معانی مُسَبَّح اور مُقَدَّس کے ہیں، اردو میں ان کے معانییہ بنتے ہیں: سُبُّوحٌ وہ ذات جو نقائص، شریک اور ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کی الوہیت کے شایان شان نہیں ہوتی۔ قُدُّوْسٌ:وہ ذات جو ہر اس چیز سے طاہر ہو جو خالق کو زیب نہیں دیتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1693
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 487 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24564»
حدیث نمبر: 1694
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ((سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اغْفِرْ لِي)) يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اِغْفِرْلِیْ (اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ،تو مجھے بخش دے۔) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید پر عمل کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن مجید پر عمل کرنے کا کیا مفہوم ہے، اس کی وضاحت اگلی روایت میں آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1694
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4968، ومسلم: 784 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24664»
حدیث نمبر: 1695
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ: ((سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي)) قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} قَالَ: ((سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے یہ دعا کرتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ (اے ہمارے رب! تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے)۔ پھر جب یہ سورت {إِذَاجَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو آپ یہ دعا کرتے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحَیْمُ۔ (اے ہمارے ربّ!تو پاک ہے اور تیری تعریف کے ساتھ، اے اللہ مجھے بخش دے، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1695
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود۔ أخرجه الطيالسي: 339، والحاكم: 2/ 538 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3719»
حدیث نمبر: 1696
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: مُنْذُ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولُ إِذَا قَرَأَهَا ثُمَّ رَكَعَ بِهَا أَنْ يَقُولُ: ((سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ)) ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ} نازل ہوئی تو جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی تلاوت کرتے تو زیادہ تر اس کے بعد والے رکوع میں تین دفعہ یہ دعا پڑھتے تھے: سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1696
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد منقطع۔ أخرجه ابويعلي: 5230، والبزار 544 وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3745»
حدیث نمبر: 1697
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ قَالَ فِي رُكُوعِهِ ((سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ ((سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى))، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: ((رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدارہوئے، پھر مکمل حدیث ذکر کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیارکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کہا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی، جب تک اس نے چاہا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی)) کہا، پھر سر اٹھایا اور دو سجدوں کے درمیان یہ دعا کی: رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاجْبُرْنِیْ وَارْفَعْنِیْ وَارْزُقْنِیْ وَاھْدِنِیْ۔ (اے میرے رب! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما، میرا نقصان پورا کر، مجھے رزق دے اور مجھے ہدایت دے۔)
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع میں مختلف اذکار کا اہتمام کرتے تھے، ہمیں بھی اس ورائٹی کا خیال رکھنا چاہیے، اس سے نماز کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1697
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه الطبراني: 12679، وأخرجه ابوداود: 850، وابن ماجه: 898، والترمذي: 284 بذكر الدعاء بين السجدتين فقط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2895، 3514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3514»