کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: رکوع کی مقدار، اس کے طریقہ اور اس میں اور تمام ارکان میں برابر کا اطمینان رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1682
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّفَاوِيُّ ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ قَدْرِ رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ، فَقَالَ: قَدْرَ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو تمیم کا ایک آدمی اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی، (یہ سن کر) ہم نے ان سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رکوع و سجود کی مقدار کے بارے میں پوچھا۔ انھوں نے کہا: اتنا ہوتا تھا کہ کوئی آدمی تین دفعہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1682
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضيعف لجھالة الرجل التميمي۔ أخرجه البھيقي: 2/ 111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20059 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20318»
حدیث نمبر: 1683
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ثَنَا خَالِدٌ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنِ السَّعْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَكَانَ يَمْكُثُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)ان کا باپ ان کے چچے سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں بغور دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع وسجود میں اتنی دیر ٹھہرتے تھے، جیسے کوئی آدمی تین دفعہ یہ کلمہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1683
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة السعدي ومن فوقه۔ أخرجه ابوداود: 885 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22685»
حدیث نمبر: 1684
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَٰذَا الْغُلَامِ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا فِي الرُّكُوعِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ وَفِي السُّجُودِ عَشْرَ تَسْبِيحَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اس نوجوان (یعنی عمر بن عبد العزیز) کی بہ نسبت کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا، جو نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: ہم نے اس نوجوان کے رکوع و سجود میں دس دس دفعہ تسبیحات کا اندازہ لگایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1684
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، وھب بن مانوس في عداد المجھولين۔ أخرجه ابوداود: 888، والنسائي: 2/ 224 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12661 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12690»
حدیث نمبر: 1685
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى فَرَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَإِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رکوع، رکوع سے سر اٹھا کر کھڑا ہونا، سجدہ اور سجدوں سے سر اٹھا کر بیٹھنایعنی دو سجدوں کے درمیان والا جلسہ تقریباًبرابر برابر ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۹۲، صحیح مسلم: ۴۷۱)
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں ان امور کے ساتھ قیام اور تشہد کا بھی ذکر ہے، یعنییہ تمام چیزیں برابر برابر ہوتی تھیں، بہرحال اس صورت کو بعض حالات پر محمول کریں گے، کیونکہ زیادہ تر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، اسی طرح تشہد بھی رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کی بہ نسبت لمبا ہوا کرتا تھا، جیسا نمازوں کی قراء ت والے ابواب مین یہ تفصیل گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1685
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 792، ومسلم: 471 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18661»
حدیث نمبر: 1686
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ ثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ (وَفِي رِوَايَةٍ أَعْطُوا كُلَّ سُورَةٍ حَظَّهَا مِنَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ))) قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ بِالسُّوَرِ، فَتَعْرِفُ مَنْ حَدَّثَكَ هَٰذَا الْحَدِيثَ؟ قَالَ: إِنِّي لَا أَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مُنْذُ كَمْ حَدَّثَنِيهِ، حَدَّثَنِي مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر سورت کے لئے رکوع و سجود سے اس کا حصہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ہر سورت کو رکوع وسجود سے اس کا حصہ دے دو۔ عاصم کہتے ہیں: میں بعد میں ابو العالیہ کو ملا اور اسے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو ایک رکعت میں کئی سورتوں کی تلاوت کر جاتے ہیں، کیا تو یہ جانتا ہے کہ کس نے تجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: کوئی شک نہیں کہ میں اسے جانتا ہوں اور میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ کتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ اس نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، اس نے پچاس برس پہلے یہ حدیث بیان کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابن ابی شیبہ نے اس حدیث کو کتاب الصلاۃ کے باب من کان لا یجمع بین السورتین فی رکعۃ میں ذکر کیا۔ امام ابن ابی شیبہیہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ایک رکعت میں صرف ایک سورت کی تلاوت کرنی چاہیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث میں ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیں پڑھنا ثابت ہیں، جیسا کہ اسی کتاب میں احادیث نمبر۵۵۲، ۵۵۳، ۵۵۴ میں اس مسئلہ کو واضح کیا گیا ہے۔ اس لیے مذکورہ بالا حدیث کا مصداق وہ شخص ہے جو عمدگی ٔ حروف اور وضاحت کے اعتبار سے نماز میں قرآن مجید کا تلاوت کا حق ادانہیں کرتا، بلکہ اسے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھ جاتا ہے۔ یا اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اگر قراء ت لمبی ہو تو رکوع و سجود بھی لمبے ہونے چاہئیں اور اگر قراء ت مختصر ہو تو رکوع و سجود بھی مختصر ہونے چاہئیں، جیسا کہ حدیث نمبر (۶۲۸) سے ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1686
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 369 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20590، 20651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20927»
حدیث نمبر: 1687
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ لَوْ وَضِعَ قَدْحٌ مِنْ مَاءٍ عَلَى ظَهْرِهِ لَمْ يُهْرَقْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو (ایسے برا برہوتے تھے) کہ اگر پانی کا پیالہ آپ کی پیٹھ پر رکھا جائے تو وہ بھی نہ بہتا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس حدیث کا معنی ثابت ہو جاتا ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رکوع کرتے تو سر کو نیچے کرتے نہ اوپر، بلکہ ان کیفیتوں کے درمیان میں رکھتے تھے۔ نیز درج حدیث بھی قابل توجہ ہے: سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتُجْزِیئُ صَلَاۃُ الرَّجُلِ حَتّٰی یُقِیْمَ ظَھْرَہٗفِیْ الرُّکُوْعِ وَالسُّجُوْدِ۔)) … ایسی نماز کفایت نہیں کرتی جس کے رکوع و سجدہ میں آدمی اپنی پیٹھ (بالکل) سیدھی نہ کرے۔ اس سنت لازمہ پرعمل کرنا صرف اس وقت ممکن ہے جب آدمی اعتدال اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھے گا۔ (ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1687
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن انظر سلسلة الاحاديث الصحيحة: 3331۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 997»