کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: تکبیرات الانتقال کا بیان
حدیث نمبر: 1663
عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ كُلَّمَا وَضَعَ رَأْسَهُ وَكُلَّمَا رَفَعَهُ وَذَكَرَ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
واسع بن حبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسی تھی؟ انہوں نے (جواب میں) یہ چیز بھی ذکر کی کہ آپ جب بھی اپنا سر جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر انھوں نے دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہ ِاور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہنامسنونہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1663
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه النسائي: 3/ 63 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5402»
حدیث نمبر: 1664
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ فَيَكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا أَوْ خَفَضُوا كَبَّرُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما جب سجدہ کرتے اور جب اٹھتے اور جھکتے تھے تو تکبیر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1664
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابو يعلي: 4281، والطحاوي: 1/ 221، والبيھقي: 1/ 68 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12259، 12349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12374»
حدیث نمبر: 1665
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَمَعَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: هَلُمَّ أُصَلِّي صَلَاةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، قَالَ فَدَعَا بِجَفْنَةٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأُذُنَيْهِ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے کہا: آؤ میں تمہیں اللہ کے نبی کی نماز پڑھاتا ہوں، وہ اشعری قبیلے کے آدمی تھے، پھر انھوں نے ایک ٹب منگوایا، اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر تین بار دونوں بازو دھوئے اور اس کے بعد اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور پھر اپنے پاؤں دھوئے، پھر نماز ِ ظہر پڑھائی، اس میں سورۂ فاتحہ پڑھی اور بائیس دفعہ اللہ اکبر کہا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1665
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف من اجل شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ماجه: 417، والطبراني في الكبير : 3412 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23281»
حدیث نمبر: 1666
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اور انہوں نے اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کیا، پھر ان کو نماز پڑھائی اور بائیس تکبیریں کہیں، جب وہ سجدہ کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، انھوں نے دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور (اپنی آواز کو ہلکا بلند کرکے) اپنے قریب والوں کو سنائی۔
وضاحت:
فوائد: … چار رکعت نماز میں کل بائیس تکبیرات کہی جاتی ہیں، ہر رکعت کی پانچ اور تکبیر تحریمہ اور تیسری رکعت والی تکبیر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1666
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23286»
حدیث نمبر: 1667
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاروں رکعتوں کی قراءت اور قیام برابر برابر ہوتے تھے، البتہ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہنچ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو بچوں کے آگے ، بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی سجدہ کرتے اور اس سے اٹھتے تو تکبیر کہتے ، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ کر (تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکعات کی طوالت کی مقدار مذکورہ بالا کمیت سے مختلف بھی رہی ہے، مثلا ظہر کی پہلی دو رکعتیں تیس تیس آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتیں پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتی تھیں، اسی طرح نماز عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتیں اس سے بھی نصف کے برابر ہوتی تھیں، جہری نمازوں میں بھییہ فرق نظر آتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1667
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 3436، وأخرجه ابوداود بذكر صف الرجال والغلمان فقط: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22896، 22911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23299»
حدیث نمبر: 1668
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے بطحاء میں ایک شیخ کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی ہے، اس بیوقوف نے تو بائیس تکبیریں کہہ دی ہیں، جب وہ سجدہ کرتا اور اس سے سر اٹھاتا تو تکبیر کہتا تھا۔ (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1668
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 787 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1886»
حدیث نمبر: 1669
عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ، أَوْ خَدِّهِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1669
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه النسائي: 2/ 205، والترمذي: 253 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3660»
حدیث نمبر: 1670
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُصَلِّي بِنَا فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي صَلَاتَهُ، مَا زَالَتْ هَٰذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے، جب سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دوبارہ سجدہ کرتے ، جب بیٹھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، دوسری دو رکعتوں میں بھی اسی طرح تکبیریں کہتے، جب سلام پھیرتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں تم سب کی بہ نسبت زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی یہی کیفیت رہی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے جدا ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1670
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 803، وأخرج بنحوه مسلم: 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7657، 7658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7644»
حدیث نمبر: 1671
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو صالح کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں تکبیر کہتے تھے اور پھر بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1671
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 785، و مسلم: 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7220، 9402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9391»
حدیث نمبر: 1672
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے اٹھتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے، پھر کھڑے کھڑے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے،پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے کے لیے گرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر آپ ساری نماز میں اسی طرح کا (تکبیرات کہنے کا) عمل کرتے، یہاں تک کہ اسے پورا کر لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1672
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 789، ومسلم: 392 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9850»
حدیث نمبر: 1673
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى، قِيلَ لَهُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي، اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1673
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 825 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11157»
حدیث نمبر: 1674
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِمَّا نَسِينَاهَا وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمَدًا يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا سَجَدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تو ہمیں وہ نماز یاد کرا دی ہے، جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، یا تو ہم اسے بھول گئے ہیں یا جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب رکوع کرتے،(رکوع سے) اٹھتے اور سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1674
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 535، والطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 221 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19723»
حدیث نمبر: 1675
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً ذَكَّرَنِي صَلَاةً صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْخَلِيفَتَيْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُوَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ تَرَكَهُ؟ قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ كَبُرَ وَضَعُفَ صَوْتُهُ تَرَكَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ایک نماز پڑھی، انہوں نے تو مجھے وہ نماز یاد دلا دی، جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دو خلیفوں کے ساتھ پڑھا تھا۔ مطرف کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں چلا گیا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی، (میں نے دیکھا کہ) جب وہ سجدہ کرتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر میں نے پوچھا: اے ابو نجید! سب سے پہلے کس نے اس طریقے کو ترک کیا؟ انھوں نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بوڑھے ہوئے اور ان کی آواز کمزور ہو گئی تو انھوں نے اس کو ترک کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوع (اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے)۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ درست الفاظ مِنَ السُّجُوْد کے ہیں، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عذر تھا، پھر بھی کئی اہل علم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مخفی انداز میں کہتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان تکبیرات کو ترک کرنا جائز سمجھتے ہوں، بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان تکبیرات کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یا زیاد نے ترک کیا تھا، ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں اور زیاد نے ان کی اقتدا میں ترک کر دی ہوں۔ بہرحال مسئلہ اپنی جگہ پر واضح ہے اور متواتراحادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان تکبیرات والا عمل ثابت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1675
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581، وأخرج البخاري: 826، 786 ومسلم: 393 بلفظ متقارب منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19881، 19952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20122»
حدیث نمبر: 1676
عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، يَعْنِي إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ تکبیر نہیں کہتے تھے، یعنی جب جھکتے اور اٹھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … امام ابوداود نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو اللہ اکبر نہیں کہتے تھے اور اسی طرح جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ امام بیہقی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی ہو، لیکن اس حدیث کے راوی نے نہ سنی ہو، اور اس امر کا امکان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواز کے لیے تکبیر نہ کہی ہو۔ (انظر: ۱۵۳۵۲) بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے اور کئی احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تکبیرات الانتقال منقول ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1676
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث ضعيف، أعله الأئمة لنكارته، فقد تفرد به الحسن بن عمران وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه ابوداود: 837، والطيالسي: 1287 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15426»