کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیّدنا ابی رضی اللہ عنہ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان¤جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
حدیث نمبر: 1659
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا (وَفِي رِوَايَةٍ غَضًّا) كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ قرآن کو اس طرح تروتازہ پڑھے، جس طرح یہ نازل ہوا تو وہ وہ ام عبد کے بیٹے کی قراءت پر تلاوت کیا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سابقین میں سے ہیں، بلکہ یہ چھٹے مسلمان تھے، ان کا باپ دورِ جاہلیت میں ہی فوت ہو گیا تھا، البتہ ان کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا اور مشرف باسلام ہو کر صحابیہ قرار پائیں، اس لیے ان کو کبھی کبھی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے ابن ام عبد کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 1660
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ حَجَّاجٌ: حِينَ أُنْزِلَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} وَقَالَا جَمِيعًا: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ {لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا} قَالَ: وَقَدْ سَمَّانِي؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَبَكَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} یعنی سورۂ بینہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر اس سورت {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} کی تلاوت کروں۔ انھوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ رونے لگ گئے۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کی عظیم منقبت کا بیان ہے، جس کو سن کر وہ خود بھی خوشی کے آنسو رونے لگ گئے۔
حدیث نمبر: 1661
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي يَعْلَى ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ أَبَدًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((خُذُوا الْقُرْآنَ عَنْ أَرْبَعَةٍ عَنِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ، وَعَنْ مُعَاذٍ، وَعَنْ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، قَالَ يَعْلَى: وَنَسِيتُ الرَّابِعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو نے سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور پھر کہا: یہ ایسا آدمی ہے، جس سے میں ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا، (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: چار آدمیوں سے قرآن کی تعلیم حاصل کرو:ام عبد کے بیٹے، معاذ اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے اِن کا ذکر کیا۔ یعلی راوی کہتے ہیں: میں چوتھے شخص کا نام بھول گیا۔
حدیث نمبر: 1662
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار آدمیوں سے قرآن مجید پڑھو: عبد اللہ بن مسعود، مولائے ابی حذیفہ سالم، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب سے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث اِن چار صحابہ کی فضیلت پر اور نماز وغیرہ میں ان کی قراء ت کے حجت ہونے پر دلالت کرتی ہیں، بشرطیکہ وہ قراء ت صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو جائے۔