کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امام پر طاری ہونے والے (امور) اور اس کو لقمہ دینے کا حکم
حدیث نمبر: 1656
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْفَجْرِ فَتَرَكَ آيَةً فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((أَفِي الْقَوْمِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ؟)) قَالَ أُبَيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نُسِخَتْ آيَةُ كَذَا أَوْ نَسِيتَهَا؟ قَالَ: ((نَسِيتُهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی اور ایک آیت چھوڑ گئے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: کیا لوگوں میں ابی بن کعب ہیں؟ سیدنا ابی نے کہا: اے اللہ کے رسول!فلاں آیت منسوخ ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اسے بھول گیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1656
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي في الكبري : 8240، والبخاري في القراء ة خلف الامام : 193 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15439»
حدیث نمبر: 1657
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فِي الْفَجْرِ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا بَلَغَ ذِكْرَ مُوسَى وَهَارُونَ أَصَابَتْهُ سَعْلَةٌ فَرَكَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن نمازِ فجرمیں سورۂ مومنون کی تلاوت شروع کی، جب موسی اور ہارونm کے تذکرے تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانسی آ گئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں رکوع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ مومنون کی (۴۴) آیتوں کے بعد ان دو انبیاء کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی لاحق ہونے والی مجبوری کی وجہ سے امام مزید قیام کا ارادہ ترک کر کے رکوع کر سکتا ہے اور ایسے ہی کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1657
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 455 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15393، 15394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15468»
حدیث نمبر: 1658
عَنْ مُسَوَّرِ بْنِ يَزِيدَ الْأَسَدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَ آيَةً، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: ((فَهَلَّا ذَكَّرْتَنِيهَا؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مسوّر بن یزید اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (تلاوت کرتے ہوئے) ایک آیت چھوڑ دی۔ (جب فارغ ہوئے تو)ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فلاں فلاں آیت کو چھوڑ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو نے مجھے یاد کیوں نہیں کروا دیا تھا؟!
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، پس اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قراء ت کی، لیکن قراء ت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خلط ملط ہونے لگی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا: ((اَصَلَّیْتَ مَعَنَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَمَا مَنَعَکَ؟)) … کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تجھے کس چیز نے اس سے روکا (کہ تو مجھے لقمہ دے)؟ (ابوداود: ۹۰۸) صحیح ابن حبان کے الفاظ یوں ہیں: ((فَمَا مَنَعَکَ اَنْ تَفْتَحَ عَلَیَّ؟)) احناف کا مسلک: لقمہ دینے سے نماز باطل ہو جائے گی، الّا یہ کہ لقمہ دینے والا تلاوت کا ارادہ کر لے۔ یہ فرق کرنا خواہ مخواہ کا تکلف ہے، جس نبی نے نماز میں جان بوجھ کر دوسرے سے کلام کرنے سے منع قرار دیا، اسی نے امام کو لقمہ دینے کو مشروع قرار دیا۔ امام شوکانی نے کہا: دلائل کا تقاضایہ ہے کہ امام کی جہری قراء ت میں بھولنے کی صورت میں اس کو لقمہ دینا مشروع ہے، تاکہ اسے وہ آیتیاد آ جائے اور جب وہ ارکان وغیرہ میں بھول جائے تو مرد سبحان اللہ کہہ کر اور عورت تالی بجا کر اس کو متنبہ کریں۔ واللہ اعلم۔ (نیل الاوطار: ۲/ ۳۷۳) شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک امام کو لقمہ دینا درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1658
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يحييٰ بن كثير الكاھلي2222۔ أخرجه ابوداود: 907، وابن حبان: 2240، وابن خزيمة: 1648 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16812»