حدیث نمبر: 1638
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُ صَلَّى خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَ {يٰسٓ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مدینہ منورہ کا ایک باشندہ کہتا ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازِ فجر میں سورۂ ق اور سورۂ یس کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ تکویر کی آیات کی تعداد (۲۹) ہے
حدیث نمبر: 1639
عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نمازِ فجر میں سورۂ تکویر کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت بھی پڑھی: {وَاللَّیْلِ إِذَاعَسْعَسَ}
حدیث نمبر: 1640
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ {لَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ، الْجَوَارِ الْكُنَّسِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)انھوں ے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ آیات پڑھتے ہوئے سنا: {لاَ أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ۔ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ}
وضاحت:
فوائد: … یہ سورۂ تکویر کی ہی آیات ہیں۔
حدیث نمبر: 1641
عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فجر کی نماز میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ}۔
وضاحت:
(۱۶۳۸) تخریج: حدیث صحیح دون قولہ: ((یسن والقرآن الحکیم)) لتفرد سماک بن حرب بہ، وھو ممن لا یحتمل تفردہ لسوء حفظہ۔ ولقراء ۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۃ {ق} فی الفجر شاھد من حدیث قطبۃ بن مالک عند مسلم: ۴۵۷ (انظر: ۱۶۳۹۶)۔ (۱۶۳۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۵۶ (انظر: ۱۸۷۳۳)
حدیث نمبر: 1642
عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} إِلَّا مِنْ وَرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ر ضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سورۂ ق کو یاد نہیں کیا، مگر اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہوتی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں اس کی تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس مضمون کے ساتھ سیدہ ام ہشام رضی اللہ عنہا کییہ حدیث ضعیف ہے، اس کے مقابلے میں ثقات کی محفوظ اور مقبول روایتیہ ہے: سیدہ ام ہشام کہتی ہیں: میں نے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِیْدِ} سن کر یاد کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر جمعہ کو خطبہ میں اس سورت کی تلاوت کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲۸، مسلم: ۸۷۲) یہ علیحدہ بات ہے کہ صحیح مسلم (۴۵۷) میں سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز فجر میں سورۂ ق کی تلاوت کرنا ثابت ہے، یہ روایت ابھی ابھی گزری ہے۔
حدیث نمبر: 1643
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَأَبِي بَكْرٍ حَتَّى كَانَ عُمَرُ فَمَدَّ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی ، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بھی اسی طرح رہی، حتی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے، انھوں نے نماز فجر میں قیام لمبا کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلیفۂ اول کی نمازیں مختصر ہوتی تھیں، جیسا کہ اس باب کی دیگر احادیث اور آخر میں دیئے گئے خلاصۂ کلام سے پتہ چلے گا۔ بہرحال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز فجر میں قراء ت کی مقدار کو مزید بڑھا دیا تھا۔
حدیث نمبر: 1644
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُخَفِّفُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ هَؤُلَاءِ، قَالَ وَنَبَّأَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ بِـ {قٓ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ} وَنَحْوِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سماک بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدناجابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تخفیف کرتے تھے اور اِن موجودہ لوگوں کی نماز کی طرح نماز نہیں پڑھتے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں سورۂ ق اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1645
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ كَنَحْوٍ مِنْ صَلَاتِكُمُ الَّتِي تُصَلُّونَ الْيَوْمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يُخَفِّفُ، كَانَتْ صَلَاتُهُ أَخَفَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ الْوَاقِعَةَ وَنَحْوَهَا مِنَ السُّوَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آج تم لوگ جو نماز ادا کر رہے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح ہی نمازیں پڑھتے تھے، البتہ آپ تخفیف کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تمہاری نماز کی بہ نسبت تخفیف والی ہوتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر میں سورۂ واقعہ اور اس جیسی سورتیں تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ واقعہ تین رکوعات اور (۹۶) آیات پر مشتمل ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اِن بعد والے لوگوں نے نمازوں کو اس قدر طویل کر دیا تھا کہ اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سورۂ واقعہ کی تلاوت بھی مختصر نظر آتی تھی۔
حدیث نمبر: 1646
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1647
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ {الٓم تَنْزِيلُ} وَ {هَلْ أَتَى}، وَفِي الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَ {إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کے دن نمازِ فجر میں سورۂ سجدہ اور سورۂ دہر کی اور نماز جمعہ میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کی تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان سورتوں کی کمیت درج ذیل ہے: سورہ سجدہ: … تین رکوعات اور (۳۰) آیات
سورۂ دہر: … دو رکوعات اور (۳۱) آیات
سورۂ جمعہ: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ منافقون: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ دہر: … دو رکوعات اور (۳۱) آیات
سورۂ جمعہ: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
سورۂ منافقون: … دو رکوعات اور (۱۱) آیات
حدیث نمبر: 1648
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الْمَكْتُوبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض نمازوں میں سورۂ سجدہ کی تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … گزشتہ حدیث، اس حدیث سے کفایت کرتی ہے۔
خلاصۂ کلام: پانچوں نمازوں کی قراء ت کے بارے میں مختلف روایات گزری ہیں، اگر کسی نماز میں طویل قراء ت کو اختیار کیا گیا تو دوسری طرف اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ترغیب بھی دلائی گئی، اس سلسلے میں آپ درج ذیل بحث کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ بعض امور میں تکرار نظر آئے گا، لیکن مسئلہ سمجھانے کے لیے ان کا ذکر ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے تخفیف کرتے تھے، لیکن اکیلی نماز میں بہت زیادہ طوالت اختیار کرتے تھے، لیکن آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ الا ماشاء اللہ عوام کو یہ سوچنا چاہئے کہ تخفیف کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نماز میں جتنا اختصار چاہیں، اتنا ہی کر دیا جائے، دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلکی نماز پڑھاتے تھے، تو اس کی مقدار کیا ہوتی تھی؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دینے والے صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ساتھ سورۂ شمس، سورۂ اعلی، سورۂ لیل اور سورۂ علق کی تلاوت کرنے کی تعلیم بھی دی،یہ سورتیں بالترتیب (۱۵)، (۱۹)، (۲۱)، اور (۱۹) آیات پر مشتمل ہیں۔ نماز میں تلاوت کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول عمل یہ ہے: نماز فجر میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ ق اور اس جیسی سورتیں پڑھنا، ساٹھ سے سو آیات اور کبھی سورۂ تکویر کی تلاوت کرنا اور جمعہ کے دن پہلی رکعت میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر کی تلاوت کرنا۔ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس تیس اور آخری دو رکعتوں میں تقریبا پندرہ پندرہ آیات کی تلاوت کرنا اور نماز عصر کی تلاوت اس سے نصف کرنا، اسی طرح ظہر و عصر میں سورۂ لیل، سورۂ اعلی، سورۂ بروج اور سورۂ طارق جیسی سورتوں کی تلاوت کرنا۔ نماز مغرب میں دو رکوع پر مشتمل سورۂ طور کی اور کبھی دو رکوع پر مشتمل سورۂ مرسلات کی اور کبھی اعراف جیسی لمبی سورت کی تلاوت کرنا۔ نمازِ عشاء میں سورۂ تِین کی تلاوت کرنا اور سورۂ شمس اور سورۂ لیل جیسی سورتوں کی تلاوت کرنے کی تعلیم دینا۔ یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں کے چند نمونے، لیکن صحابہ کرام نے ان نمازوں کو خفیف کہا۔ معلوم ہوا کہ اس موضوع پر خفیف کا لفظ عوام الناس کے فہم
کے مطابق علی الاطلاق استعمال نہیں ہو گا، بلکہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے بہرحال امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں کی رو رعایت کرے اور مقتدی لوگوں کو اگر علم ہو جائے کہ جس نماز کو وہ طویل سمجھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی نماز پڑھنے پڑھانے کی تعلیم دی ہے تو پھر انھیں بھی خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سب سے پہلے مقتدی حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کمیّت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں، اگر ان کا امام اس حد سے تجاوز کرے تو وہ اعتراض کر سکتے ہیں، وگرنہ ان کو صبر کے ساتھ خاموش رہنا چاہیے۔ ہاں اگر مقتدیوں میں معروف مریض لوگ ہوں تو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر مقتدی لوگ اپنے اصرار پر برقرار رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث نہ سمجھ پا رہے ہوں تو امام صاحب کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانائی سے کام لے، نماز کے دوران اختصار کرے اور درجہ بدرجہ مقتدیوں کی تربیت کرے اور ان کو اعلی قول و کردار کا مالک بنا کر احادیث ِ رسول کا شائق بنانے کی کوشش کرے۔
خلاصۂ کلام: پانچوں نمازوں کی قراء ت کے بارے میں مختلف روایات گزری ہیں، اگر کسی نماز میں طویل قراء ت کو اختیار کیا گیا تو دوسری طرف اختصار کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ترغیب بھی دلائی گئی، اس سلسلے میں آپ درج ذیل بحث کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں، اگرچہ بعض امور میں تکرار نظر آئے گا، لیکن مسئلہ سمجھانے کے لیے ان کا ذکر ضروری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے تو مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے تخفیف کرتے تھے، لیکن اکیلی نماز میں بہت زیادہ طوالت اختیار کرتے تھے، لیکن آج کل معاملہ اس کے برعکس ہے۔ الا ماشاء اللہ عوام کو یہ سوچنا چاہئے کہ تخفیف کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نماز میں جتنا اختصار چاہیں، اتنا ہی کر دیا جائے، دیکھنا چاہئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلکی نماز پڑھاتے تھے، تو اس کی مقدار کیا ہوتی تھی؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشاء میں سورۂ بقرہ کی تلاوت شروع کر دینے والے صحابی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا تو اس کے ساتھ ساتھ سورۂ شمس، سورۂ اعلی، سورۂ لیل اور سورۂ علق کی تلاوت کرنے کی تعلیم بھی دی،یہ سورتیں بالترتیب (۱۵)، (۱۹)، (۲۱)، اور (۱۹) آیات پر مشتمل ہیں۔ نماز میں تلاوت کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول عمل یہ ہے: نماز فجر میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ ق اور اس جیسی سورتیں پڑھنا، ساٹھ سے سو آیات اور کبھی سورۂ تکویر کی تلاوت کرنا اور جمعہ کے دن پہلی رکعت میں تین رکوعات پر مشتمل سورۂ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورۂ دہر کی تلاوت کرنا۔ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تقریبا تیس تیس اور آخری دو رکعتوں میں تقریبا پندرہ پندرہ آیات کی تلاوت کرنا اور نماز عصر کی تلاوت اس سے نصف کرنا، اسی طرح ظہر و عصر میں سورۂ لیل، سورۂ اعلی، سورۂ بروج اور سورۂ طارق جیسی سورتوں کی تلاوت کرنا۔ نماز مغرب میں دو رکوع پر مشتمل سورۂ طور کی اور کبھی دو رکوع پر مشتمل سورۂ مرسلات کی اور کبھی اعراف جیسی لمبی سورت کی تلاوت کرنا۔ نمازِ عشاء میں سورۂ تِین کی تلاوت کرنا اور سورۂ شمس اور سورۂ لیل جیسی سورتوں کی تلاوت کرنے کی تعلیم دینا۔ یہ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں کے چند نمونے، لیکن صحابہ کرام نے ان نمازوں کو خفیف کہا۔ معلوم ہوا کہ اس موضوع پر خفیف کا لفظ عوام الناس کے فہم
کے مطابق علی الاطلاق استعمال نہیں ہو گا، بلکہ یہ نسبتی لفظ ہے، یعنی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں سمجھا جائے بہرحال امام کو چاہئے کہ وہ مقتدیوں کی رو رعایت کرے اور مقتدی لوگوں کو اگر علم ہو جائے کہ جس نماز کو وہ طویل سمجھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی نماز پڑھنے پڑھانے کی تعلیم دی ہے تو پھر انھیں بھی خاموشی اختیار کرنا چاہئے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سب سے پہلے مقتدی حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کمیّت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں، اگر ان کا امام اس حد سے تجاوز کرے تو وہ اعتراض کر سکتے ہیں، وگرنہ ان کو صبر کے ساتھ خاموش رہنا چاہیے۔ ہاں اگر مقتدیوں میں معروف مریض لوگ ہوں تو ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر مقتدی لوگ اپنے اصرار پر برقرار رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث نہ سمجھ پا رہے ہوں تو امام صاحب کو چاہئے کہ وہ حکمت و دانائی سے کام لے، نماز کے دوران اختصار کرے اور درجہ بدرجہ مقتدیوں کی تربیت کرے اور ان کو اعلی قول و کردار کا مالک بنا کر احادیث ِ رسول کا شائق بنانے کی کوشش کرے۔