کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1633
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّمَاوَاتِ فِي الْعِشَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز عشاء میں سماوات والی سورتوں کی تلاوت کی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … سماوات سے مراد سورۂ بروج اور سورۂ طارق ہیں، جو یوں شروع ہوتی ہیں: { وَالسَّمَائِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۔ وَالسَّمَائِ وَالطَّارِقِ۔}
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1633
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الثاني ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8312»
حدیث نمبر: 1634
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالسَّمَاءِ يَعْنِي ذَاتِ الْبُرُوجِ وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز میں السماء والی یعنی سورۂ بروج اور سورۂ طارق کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1634
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو المھزم ضعفه ابن معين و ابو زرعة وابو حاتم، وقال الدارقطني: يترك، وقال النسائي: متروك الحديث، ورزيق بن ابي سلمي مجھول الحال۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8314»
حدیث نمبر: 1635
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ فِي سَفَرٍ فَقَرَأَ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَمَا سَمِعْتُ إِنْسَانًا أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ (وَفِي أُخْرَى) فَلَمْ أَسْمَعْ أَحْسَنَ صَوْتًا وَلَا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِعشا کی ایک رکعت میں سورۂ تین پڑھی، میں نے ایسا انسان نہیں سنا جو قرأت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچھا ہو۔ ایک روایت میں ہے: میں نے کسی ایسے آدمی کو نہیں سنا جو آواز کے لحاظ سے اور نماز کے لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچھا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1635
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 767، 4952، ومسلم: 464 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18697»
حدیث نمبر: 1636
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا مِنَ السُّوَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز میں سورۂ شمس اور اس جیسی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1636
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 309، والنسائي: 2/ 173 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23382»
حدیث نمبر: 1637
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ: صَلَّى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَصْحَابِهِ وَهُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فِي رَكْعَةٍ فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِي حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدَمَهُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مجلز کہتے ہیں: سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1637
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الالباني: صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 512، والنسائي: 3/ 243، وللوتر بركعة شواھد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19760 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19998»