کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مغرب میں قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 1626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ بَعْضَ إِخْوَتِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي فِدَاءِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ بَهْزٌ فِي فِدَاءِ أَهْلِ بَدْرٍ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَمَا أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالطُّورِ قَالَ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حَيْثُ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ، وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ فَكَأَنَّمَا صُدِعَ قَلْبِي حِينَ سَمِعْتُ الْقُرْآنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بدر والے (قیدی) مشرکوں کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا توآپ نمازِ مغرب پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹنے لگا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے دل کییہ کیفیت سماعِ قرآن کی تأثیر کی وجہ سے تھی، جبکہ وہ اس وقت مسلمان بھی نہیں تھے، ہم کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے، جبکہ ہم مسلمان بھی ہیں۔ سورۂ طور کے دو رکوع اور انچاس آیات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1626
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: فكأنما صدع قلبي حيث سمعت القرآن ۔ أخرجه الطيالسي: 943، وابو يعلي: 7407، وأخرجه البخاري: 4854، ومسلم: 463 بذكر الطور في المغرب فقط۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16735، 16785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16907»
حدیث نمبر: 1627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا ابْنُ جُرَيجٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ لَهُ: مَا لِي أَرَاكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ السُّوَرِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِطُولَي الطُّولَيَيْنِ، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ (وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ لِعُرْوَةَ) مَا طُولَا الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ الْأَعْرَافُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1627
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 764 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21980»
حدیث نمبر: 1628
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَوْ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ بِالْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب یا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف کی تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ اعراف کے چوبیس رکوع اور (۲۰۶) آیتیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1628
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث رقم: 575 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23544 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23940»
حدیث نمبر: 1629
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يَقْرَأُ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَٰذِهِ السُّورَةَ، إِنَّهَا آخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام فضل بنت حار ث رضی اللہ عنہا نے مجھے سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے(یہ بات) یاد کرادی ہے کہ یہ آخری سورت ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مغرب کی نماز میں پڑھتے ہوئے سنا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ مرسلات کے دو رکوع اور پچاس آیات ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1629
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 763، ومسلم: 462 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27422»
حدیث نمبر: 1630
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ مُتَوَشِّحًا فِي ثَوْبٍ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ، مَا صَلَّى بَعْدَهَا حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1630
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخطأ موسي بن داود الضبي، فأدخل حديثا في حديث۔ فقولھا: صلي بنا رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في بيته متوشحا في ثوب، انما ھو من حديث انس، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 13260)، وأما حديث: قرأ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم في المغرب سورة المرسلات، فھو من حديث ام الفضل، وھو حديث صحيح (مسند احمد: 26868) أما ھذا الحديث، فأخرجه النسائي: 2/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27408»
حدیث نمبر: 1631
عَنْ حَنْظَلَةَ السُّدُوسِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ: إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِـ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَقَالَ: وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ، اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میں مغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہ یہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، پہلے اس کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1631
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه البيھقي: 2/ 61 مختصرا بالمرفوع فقط، وأخرجه بطوله ابن خزيمة513 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2550»
حدیث نمبر: 1632
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: تَعَلَّقْتُ بِقَدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عُقْبَةُ بْنَ عَامِرٍ! لَمْ تُقْرَأْ سُورَةٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا أَبْلَغُ عِنْدَهُ مِنْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} قَالَ يَزِيدُ: لَمْ يَكُنْ أَبُو عِمْرَانَ يَدَعُهَا، وَكَانَ لَا يَزَالُ يَقْرَأُهَا فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1632
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 254، والدارمي: 3439 (17241، 17418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17554»