حدیث نمبر: 1615
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقُلْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو معمر کہتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے ؟ انہوں فرمایا: جی ہاں۔ ہم نے کہا: تم اس کو کیسے پہچانتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کی داڑھی کے حرکت کرنے سے۔
حدیث نمبر: 1616
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَفَتَى مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَسَأَلُوهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ: لَا، فَقَالُوا: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ؟ قَالَ: خَمْشًا، هَٰذِهِ شَرٌّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن عبید اللہ بن عباس کہتے ہیں: میں اور کچھ قریشی نوجوان سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ سوال کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر میں قراءت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ وہ کہنے لگے: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دل میں پڑھتے ہوں۔انہوں نے کہا:تمہارا چہرہ چھل جائے، یہ تو اس سے بھی بری بات ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مامور بندے تھے، جو چیز دے کر بھیجے گئے وہ آپ نے پہنچا دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں لوگوں میں سے کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا، ماسوائے اِن تین چیزوں کے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اچھی طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور (خچر پیدا کرنے کے لیے) گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے آخری حصے کا یہ مطلب ہوا کہ تین امور میں اہل بیت کو خاص کیا گیا، جبکہ دوسری روایات میں پہلی اور آخری چیز کا حکم تو دوسرے امتیوں کو بھی دیا گیا ہے۔ علامہ عظیم آبادی نے کہا: یہ دو امور بھی اہل بیت کے حق میں واجب ہیں،یا اس کا معنییہ ہے کہ ان دو چیزوں کا ذکر بطورِ مبالغہ اور تاکید کیا گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سرے سے تخصیص کی نفی کی جا رہی ہے، جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: اِلَّا فِیْ ھٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ۔
حدیث نمبر: 1617
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فَنَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ، فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَغَضِبَ مِنْهَا وَقَالَ: أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَتَتَّهِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض نمازوں میں قراءت کرتے اور بعض میں خاموش رہتے، اس لیے ہم ان نمازوں میں قراءت کرتے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کی اور ان میں خاموش رہتے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔ کسی نے ان سے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دل میں پڑھتے ہوں، لیکن وہ غصہ میں آگئے اور کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تہمت لگائی جا رہی ہے؟
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاوت کرنے کا حکم دیا، آپ نے تلاوت کی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا، وہاں آپ خاموش رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور تیرا ربّ بھولنے والا نہیں ہے۔ (سورۂ مریم: ۶۴) مزید ارشاد ہوا: البتہ تحقیق تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔ (احزاب: ۲۱) حقیقت ِ واقعہ یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ متردد تھے، ان سے مروی روایات میں سے بعض میں سرے سے نفی کی گئی ہے، بعض میں ثابت کیا گیا ہے اور بعض میں انھوں نے شک کا اظہار کیا ہے۔ بہرحال کئی صحابہ کرام سے ظہر و عصر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تلاوت کرنا ثابت ہے۔ مثلا: سیدنا ابو قتادہ، سیدنا خباب، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا جابر بن سمرہ، سیدنا براء بن عازب اور سیدنا انس۔ اس لیے ان مثبت روایات کو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی منفییا شک والی روایت پر ہر صورت میں مقدم کیا جائے گا۔ مزید تطبیق والی بحث میں پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معاملہ واضح ہے۔
حدیث نمبر: 1618
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا؟ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَلَكِنَّا نَقْرَأُ) وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَٰذَا الْحَرْفَ {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا أَوْ عُسِيًّا}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ساری سنتیں یاد کی ہیں، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کی نمازوں میں قراءت کرتے تھے یا نہیں؟ بہرحال ہم تو قراءت کرتے ہیں، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے تھے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْکِبَرِ عِتِیًّایا عُسِیًّا۔}
وضاحت:
فوائد: … ان امور کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ذاتی علم پر محمول کیا جائے گا، ان کو علم نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان امور کا کوئی وجود نہیں تھا۔ جبکہ دوسرے صحابہ کرام نے وضاحت کر رکھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کے قیام میں تلاوت کرتے تھے۔
فوائد: … اگرچہ ہم یہ آیت عِتِیًّا کے الفاظ کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، لیکن اُبی اور مجاہد کی قراء ت عُسِیًّا ہے۔
فوائد: … اگرچہ ہم یہ آیت عِتِیًّا کے الفاظ کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، لیکن اُبی اور مجاہد کی قراء ت عُسِیًّا ہے۔
حدیث نمبر: 1619
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَرْسَلُوا إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، فَقَالَ: قَالَ أَبِي: قَامَ أَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَدْ أَعْلَمْ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مطلب بن عبد اللہ کہتے ہیں: ظہر اور عصر میں قراءت کے بارے میں لوگوں میں بحث ہونے لگی، انھوں نے (فیصلہ کروانے کے لیے) خارجہ بن زید کی طرف پیغام بھیجا، اس نے کہا: میرے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لمبا قیام کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، میں جانتا ہوں کہ یہ حرکت صرف قراءت کرنے کے لیے ہی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1620
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَتْ تُعْرَفُ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ بِتَحْرِيكِ لِحْيَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتا ہے کہ: ظہر کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت آپ کی داڑھی کی حرکت سے پہنچانی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 1621
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نَحْزُرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: فَحَزَرْنَا قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً قَدْرَ قِرَاءَةِ سُورَةِ {الٓم تَنْزِيلُ} السَّجْدَةِ، قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنَ الْأُوْلَيَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگاتے تھے، تو ہم نے ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام کا تیس آیتیں یعنی سورۂ سجدہ کے پڑھنے کے برابر اندازہ لگایا اور ہم نے آپ کے قیام کا دوسری دو رکعتوں میں اس کے نصف کااندازہ لگایا ،ہم نے عصر میں پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کا اندازہ (ظہر کی پہلی دو رکعتوں) کے نصف کے برابر لگایا۔ اور دوسری دو رکعتوں میں پہلی دو کے نصف کا اندازہ لگایا۔؎
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت تیس تیس آیتوں کے برابر ہوتی اور دوسری دو رکعتیں اس قیام کے نصف یعنی پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتیں اور عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر ہوتیں اور اس کی دوسری دو رکعتیں اس سے بھی نصف یعنی سات سات آیات کے برابر ہوتیں تھیں۔
حدیث نمبر: 1622
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي قَزْعَةُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَٰؤُلَاءِ عَنْهُ، قُلْتُ: أَسْأَلُكَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لَكَ فِي ذَلِكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قزعہ کہتے ہیں: میں سیدنا أبو سعید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، ان کے پاس بہت لوگ آئے ہوئے تھے، جب وہ ان سے علیحدہ ہو ئے تو میں نے کہا: جس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کر رہے تھے، میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، انھوں نے کہا: اس میں تو تیرے لیے کوئی خیر نہیں ہے۔لیکن جب میں نے اپنی بات کو دوہرایا تو انھوں نے کہا: ظہر کی نماز کھڑی کر دی جاتی، ہم میں سے ایک آدمی بقیع کی طرف جاتا، قضائے حاجت کرتا، پھر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد کی طرف آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک پہلی رکعت میں ہوتے۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں مذہب سے دوری، اس میں عدم دلچسپی اور عجلت پسندی نے لوگوں کو اس قسم کی احادیث ِ مبارکہ سے بہت دور کر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 1623
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلَى مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى لَا يَسْمَعَ وَقْعَ قَدَمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی پہلی رکعت میں قیام جاری رکھتے، حتی کہ کسی (داخل ہونے والے کے) قدم کی آواز نہ سنتے۔
حدیث نمبر: 1624
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَنَحْوِهَا، وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز میں سورۂ اعلی اور اس جیسی سورتوں کی اور نماز فجر میں اس سے لمبی سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد میں ہی اس حدیث کے دوسرے طرق میں نماز ظہر میں سورۂ لیل، سورۂ بروج اور سورۂ طارق کے پڑھنے کا بھی ذکر موجود ہے۔
حدیث نمبر: 1625
عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: اجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: أَمَّا مَا يَجْهَرُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِرَاءَةِ فَقَدْ عَلِمْنَاهُ، وَمَا لَا يَجْهَرُ فِيهِ فَلَا نَقِيسُ بِمَا يَجْهَرُ بِهِ، قَالَ: فَاجْتَمَعُوا فَمَا اخْتَلَفَ مِنْهُمْ اثْنَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَيَقْرَأُ فِي الْعَصْرِ فِي الْأُوْلَيَيْنِ بِقَدْرِ النِّصْفِ مِنْ قِرَاءَتِهِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو العالیہ کہتے ہیں: تیس صحابہ جمع ہوئے اور انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جن نمازوں) میں بلند آواز سے قراءت کرتے تھے، اس کو تو ہم جانتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جن نمازوں میں) جہری قراءت نہیں کرتے تھے، اب ان کو جہر والی نمازوں پر قیاس تو نہیں کرتے۔ پھر وہ اس امر پر متفق ہو گئے اور ان میں کوئی دو بھی اختلاف کرنے والے نہیں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ظہرکی پہلی دو رکعتوں میں تیس تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے، اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں ظہر کی پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتوں میں اس سے بھی نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ظہر و عصر کی تلاوت کی مقدار کے بارے میں مذکورہ بالا اور دیگر مختلف روایات مروی ہیں، کسی سے طویل مقدار کا ثبوت ملتا ہے اور کسی سے مختصر مقدار کا۔ امام نووی نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: علمائے کرام کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کے حالات کو دیکھ کر اطالت یا اختصار اختیار کرتے تھے، اگر مقتدی لمبی نماز کو پسند کر رہے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور ان کی کوئی مصروفیت بھی نہ ہوتی تو قیام کو لمبا کر دیا جاتا تھا، بصورت ِ دیگر اختصار کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا، کبھی کبھار ایسے بھی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تو یہ ہوتا کہ طویل قیام کیا جائے، لیکن کسی عذر کے جنم لینے کی وجہ سے مختصر قیام کو ترجیح دی جاتی تھی، مثلا بچے کے رونے کی آواز سننا، …۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ بیمار، کمزور اورحاجت مند لوگوں کی وجہ سے تخفیف کو ہی ترجیح دی جائے، اگر یہ وجوہات معدوم ہوں تو طوالت کو اختیار کر لینا چاہیے۔