حدیث نمبر: 1610
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا (وَفِي رِوَايَةٍ مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ، الْإِمَامِ كَانَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَكَانَ يُطِيلُ الْأُوْلَيَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ) مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ المَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُوْلَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ، وَيَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي الصُّبْحِ) بِطِوَالِ الْمُفَصَّلِ، قَالَ الضَّحَّاكُ: وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ مِنْ هَٰذَا الْفَتَى يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ الضَّحَّاكُ: فَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَكَانَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی، جس کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو، یہ آدمی مدینہ میں امام تھا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں: (یہ سن کر) جب میں نے اس کے پیچھے نماز پڑھی تو دیکھاکہ وہ ظہر کی پہلی دودو رکعتوں کو لمبا اور دوسری دو کو ہلکا کرتا تھا اور مغرب کی پہلی دو میں قصار مفصل کی، عشاء کی پہلی دو میں وسط مفصل کی اور صبح کی نماز میں طوال مفصل کی تلاوت کرتا تھا۔ ضحاک کہتے ہیں: مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سننے والے ایک آدمی نے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے اس نوجوان یعنی عمر بن عبد العزیز کے علاوہ کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا کہ جس کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے زیادہ مشابہ ہو۔ ضحاک کہتے ہیں: پھر میں نے عمر بن عبد العزیز کے پیچھے نماز پڑھی، پھر انھوں نے سلیمان بن یسارکی طرح کاہی طریقہ بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے، اس کی تین قسمیں ہیں، پہلے قول کے مطابق ان کی تفصیلیہ ہے: (۱) طوال مفصل: سورۂ حجرات سے سورۂ بروج تک۔
(۲) وسط مفصل: سورۂ بروج سے سورۂ بینہ {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} تک
(۳)قصار مفصل: سورۂ بینہ سے آخر ِ قرآن تک۔
(۲) وسط مفصل: سورۂ بروج سے سورۂ بینہ {لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} تک
(۳)قصار مفصل: سورۂ بینہ سے آخر ِ قرآن تک۔
حدیث نمبر: 1611
عَنْ جَابِرٍ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَفِي الصُّبْحِ أَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر میں سورۂ لیل، عصر میں بھی اسی طرح کی سورتیں اور فجر میں اس سے لمبی قراءت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1612
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤُمُّنَا يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيُطَوِّلُ فِي الْأُوْلَى، وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يُطَوِّلُ الْأُوْلَى وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَانَ يَقْرَأُ بِنَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے اور پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرتے اور کبھی کبھار (کوئی) آیت بھی سنا دیتے، (اس نماز کی) پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو مختصر اور صبح کی نماز میں بھی اسی طرح کرتے، یعنی پہلی رکعت کو لمبا کرتے اور دوسری کو مختصر اور نمازِ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں بھی (سورۂ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورت) کی تلاوت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1613
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُلُّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ فِيهَا فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو ہمیں سناتے تھے، ہم بھی تمہیں سنا دیتے ہیں اور جو ہم سے مخفی رکھتے، ہم بھی تم سے مخفی رکھتے ہے۔ یعنی: ہم جہری یا سرّی قراءت کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کے پابند ہیں۔
حدیث نمبر: 1614
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُؤُمُّنَا فِي الصَّلَاةِ فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ، فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ فِيهِ، وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ فِيهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: ((لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہماری امامت کراتے تھے، جس میں آپ جہر کرتے، ہم بھی جہر کرتے ہیں اور جس میں سرّی تلاوت کرتے، ہم بھی سری کرتے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کوئی نماز نہیں ہے، مگر قراءت کے ساتھ۔