کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
حدیث نمبر: 1597
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَمُرْنِي بِمَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)) قَالَ: فَقَالَهَا الرَّجُلُ وَقَبَضَ كَفَّهُ وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذَا لِلَّهِ تَعَالَى فَمَا لِنَفْسِي؟ قَالَ: ((قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي)) قَالَ: فَقَالَهَا وَقَبَضَ عَلَى كَفِّهِ الْأُخْرَى وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَقَدْ قَبَضَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ مَلَأَ كَفَّيْهِ مِنَ الْخَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں قرآن نہیں پڑھ سکتا، اس لیے آپ مجھے ایسی چیز کا حکم فرمائیں جو مجھے اس سے کفایت کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: تویہ کہہ لیا کر: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ ۔ (سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ پاک ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، گناہ سے بچنے کی کوئی طاقت نہیں اور نہ ہی نیکی کرنے کی کوئی قوت ہے مگر اللہ (کی مدد) کے ساتھ) اس آدمی نے یہ کلمات کہے اور اپنی ہتھیلی بند کر لی، کیونکہ اس نے ان کلمات کو انگوٹھے سمیت پانچ تک شمار کیا تھا، پھر وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ (کلمات) تو اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، میرے اپنے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (اپنے لیے) یہ کہہ لیا کر: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِیْ وَعَافِنِیْ وَاھْدِنِیْ وَارْزُقْنِیْ۔ ( اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت دے،مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما) اس نے یہ (کلمات) کہے اور اپنی دوسری ہتھیلی کو بھی بند کر دیااور اپنے انگوٹھے سمیت پانچ تک شمار کیا، پھر وہ آدمی چلا گیا، جبکہ اس نے دونوں ہتھیلیاں بند کی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: یقینا اس نے اپنی دونوں ہتھیلیاں خیر سے بھر لی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو نماز کی تعلیم دی اور اسے فرمایا: ((اِنْ کَانَ مَعَکَ قَرْآنٌ فَاقْرَأْ وَاِلَّا فَاحْمَدِ اللّٰہَ وَکَبِّرْہُ وَھَلِّلْہُ ثُمَّ ارْکَعْ۔)) یعنی: اگر تیرے پاس قرآن مجید ہے تو اس کی تلاوت کر، وگرنہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کر، اس کی بڑائی اور تہلیل بیان کر۔ (ابوداود، نسائی، ابن ماجہ) معلوم ہوا کہ جس آدمی کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے پر قدرت حاصل نہ ہو وہ نماز مین یہ کلمات کہہ لیا کرے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ حسب ِ امکان قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ جو آدمی مشرف باسلام ہوتا ہے، اس پر فوراً نماز فرض ہو جاتی ہے، اگر وہ اس مختصر وقت میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل نہ کر سکے، تو ان کلمات کے ساتھ نماز ادا کر کے پہلی فرصت میں فرض قراء ت کی تعلیم حاصل کرے۔