کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
حدیث نمبر: 1586
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی عشاء سے پہلے اور اس کے بعد بلند آواز سے قراءت کرے اور نماز پڑھنے والے ساتھیوں کو غلطیوں میں ڈال دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1586
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف، لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه ابويعلي: 497 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 663 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 663»
حدیث نمبر: 1587
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَجْهَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْقُرْآنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایاکہ لوگ مغرب اور عشا کے درمیان ایک دوسرے پر قرآن کی بلند آواز سے قراءت کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1587
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 752»
حدیث نمبر: 1588
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ وَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: ((أَمَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَعْلَمْ أَحَدُكُمْ مَا يُنَاجِي رَبَّهُ وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کو ایک خطبہ دیا، جس میں یہ بھی فرمایا: خبر دار!یقینا جب تم میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اس سرگوشی (کے کلمات) کو سمجھے جو وہ اپنے رب سے کر رہا ہوتا ہے، اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) کوئی بھی نماز میں قراءت کی آواز کو دوسروں پر بلند نہ کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1588
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 13572، وابن ابي شيبة: 2/ 488، والبزار: 726، وابن خزيمة: 2237 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4928، 5349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4928»
حدیث نمبر: 1589
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَامَ يُصَلِّي فَجَهَرَ بِصَلَاتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا ابْنَ حُذَافَةَ! لَا تُسْمِعْنِي وَأَسْمِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے اور بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: ابن حذافہ! مجھے نہ سناؤ، اپنے رب کو سناؤ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1589
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، النعمان بن راشد الجزري ضعفه يحييٰ بن سعيد القطان و احمد والنسائي ويحييٰ بن معين في اكثر الروايات عنه، وقال البخاري: في حديثه وھم كثير، وھو صدوق في الاصل۔ أخرجه البيھقي: 2/ 162 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8309»
حدیث نمبر: 1590
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالْقِرَاءَةِ وَهُمْ فِي قُبَّةٍ لَهُمْ فَكَشَفَ السُّتُورَ وَقَالَ: ((أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَلَا يَرْفَعَنَّ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقِرَاءَةِ أَوْ قَالَ فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو سنا کہ وہ بلند آوازسے قراءت کر رہے تھے، جبکہ وہ ایک خیمے میں تھے، آپ نے پردے ہٹائے او رفرمایا: خبر دار! یقینا تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے سر گوشی کرنے والا ہے، اس لیے کوئی کسی کو تکلیف نہ دے اور کوئی بھی دوسرے کے پاس نماز میں بلند آواز سے قراءت نہ کرے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1332 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11918»
حدیث نمبر: 1591
عَنِ الْبَيَاضِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَنْظُرْ مَا يُنَاجِيهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے او ر ان کی آوازیں قراءت کے ساتھ بلند ہورہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا نمازی اپنے رب تعالیٰ سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے وہ اس ذات سے جو سرگوشی کر رہا ہوتا ہے اس میں غور کرے اور کوئی بھی کسی پر بآواز بلند قرآن کی تلاوت نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ جب ایک نمازی کسی دوسرے نمازی کی قراء ت کی آواز سنے گا تو وہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھ سکے گا اور اس کی توجہ بٹ جائے گی، اس لیے جب لوگ ایک مقام پر نماز پڑھ رہے ہوں تو وہ مکمل خاموشی اختیار کریں، ہاں جب کوئی خلوت میں ہو تو وہ نماز میں بلند آواز سے قراء ت کر سکتا ہے۔ جو لوگ نمازی کے قریب گپیں لگانا شروع کر دیتے ہیں، ان کو اپنے کیے پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ نمازی کے قریب تو قرآن مجید کی تلاوت بھی ناجائز ہے۔ نمازی لوگوں کو ان احادیث سے یہ اندازہ بھی کر لیناچاہیے کہ نماز میں کتنی توجہ کی ضرورت ہے، لیکن اکثر نمازیوں کی صورتحال ہے کہ نماز کے رٹے رٹائے کلمات ہوتے ہیں اور ان کو کوئی شعور نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہوتے ہیں، اس پر مستزاد یہ کہ وہ ان کلمات کو رٹا لگا کر پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ سرے سے قریب سے آنے والی آوازوں سے متاثر ہی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری نمازیں ہمارے ضمیر میں اللہ تعالیٰ کا وہ مقام پیدا نہ کر سکیں، جو ہونا چاہیے تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1591
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 80، والنسائي في الكبري : 3364، والبيھقي: 3/11، عبد الرزاق: 4217 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19231»