کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1577
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔
حدیث نمبر: 1578
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1579
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَقَالَ: ((هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ مَعِي آنِفًا؟)) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازِعُ الْقُرْآنَ)) فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يُجْهَرُ بِهِ مِنَ الْقِرَاءَةِ حِينَ سَمِعُوا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز سے قراءت کی، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا ابھی تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تبھی تومیں کہتا تھاکہ مجھے کیا ہو گیاہے، مجھ سے قرآن کھینچا جا رہا ہے (یعنی قرآن مجھ سے جھگڑا کر رہا ہے اور اختلاط کی وجہ سے پڑھا نہیں جا رہا)۔ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی تو وہ ان نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تلاوت کرنے سے باز آ گئے، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ آخری جملہ، جس میں لوگوں کے باز آنے کی بات کی جا رہی ہے، یہ امام زہری کا قول ہے، جو مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں مقتدی لوگوں کو امام کے پیچھے جہری قراء ت کرنے سے روکا جا رہا ہے، اگر اس سے یہ استدلال کیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقتدیوں کو مطلق طور پر قراء ت کرنے سے روک رہے ہیں تو حدیث نمبر (۵۲۳) کی روشنی میں اس حدیث کے مفہوم کو سمجھ لیا جانا چاہیے، اس میں بھییہی وجہ بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تلاوت کرنا مشکل ہو گیا تھا، لیکن اس میں ساری تفصیل بیان کر دی گئی ہے، اُس حدیث کا ترجمہ یہ ہے: سیّدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ پر قراء ت بوجھل ہونے لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فارغ ہو کر پوچھا: میرا خیال ہے کہ تم بھی اپنے امام کے پیچھے قراء ت کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں! اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلا شک و شبہ ہم ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو (یعنی میرے پیچھے نہ پڑھا کرو) سوائے سورۂ فاتحہ کے، کیونکہ جس نے اس کی تلاوت نہ کی، اس کی کوئی نماز نہیں۔ یہی مفہوم ابھی آنے والی حدیث نمبر (۵۳۲) میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ قارئین کرام! ہم نے فاتحہ شریف کے بارے میں جمع و تطبیق کی جو صورت پیش کی ہے کہ عام احادیث کو خاص احادیث کی روشنی میں سمجھا ہے، تویہ کوئی ہمارے ذہن کی اختراع یا بعید از قیاس بات نہیں ہے، بلکہ قرآن و حدیث کی کئی نصوص میں مطلق و مقید اور عام وخاص کا قانون بالاتفاق لاگو ہوتا ہے۔
مثلا: … ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کو میرے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے، لیکن دوسری حدیث میں تخصیص کر دی اور مقبرہ اور حمام میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احادیث میں طلوعِ آفتاب، زوال اور غروب آفتاب جیسے مکروہ اوقات میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی، لیکن دوسری حدیث میں مسجد حرام میں ان اوقات میں بھی نماز پڑھنے کی تخصیص کر دی۔ مختلف احادیث میں نیند کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی تخصیص کر دی گئی کہ نیند کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس قسم کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں، کہ ایک مقام پر عام حکم دے دیا جاتا ہے، لیکن دوسرے مقام پر اس کی تخصیص کر دی جاتی ہے، یہی معاملہ مقتدی کے لیے فاتحہ شریف کے پڑھنے کا ہے، کہ اگر ایک حدیث میں مقتدی کو خاموش رہنے کا عام حکم دیا جا رہا ہے تو کئی احادیث میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی تخصیص بھی کی جا رہی ہے۔ یہ شارع علیہ السلام کا حق ہے، ہماری عقل کا مسئلہ نہیں ہے۔
مثلا: … ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ زمین کو میرے لیے مسجد بنا دیا گیا ہے، لیکن دوسری حدیث میں تخصیص کر دی اور مقبرہ اور حمام میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احادیث میں طلوعِ آفتاب، زوال اور غروب آفتاب جیسے مکروہ اوقات میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی، لیکن دوسری حدیث میں مسجد حرام میں ان اوقات میں بھی نماز پڑھنے کی تخصیص کر دی۔ مختلف احادیث میں نیند کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی تخصیص کر دی گئی کہ نیند کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اس قسم کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں، کہ ایک مقام پر عام حکم دے دیا جاتا ہے، لیکن دوسرے مقام پر اس کی تخصیص کر دی جاتی ہے، یہی معاملہ مقتدی کے لیے فاتحہ شریف کے پڑھنے کا ہے، کہ اگر ایک حدیث میں مقتدی کو خاموش رہنے کا عام حکم دیا جا رہا ہے تو کئی احادیث میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی تخصیص بھی کی جا رہی ہے۔ یہ شارع علیہ السلام کا حق ہے، ہماری عقل کا مسئلہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1580
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1581
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَعَلَّكُمْ تَقْرَؤُنَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَنَفْعَلُ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا، إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ أَوْ قَالَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن ابی عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں: انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید امام پڑھ رہا ہوتا ہے تو تم امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم تو ضرور (قراءت)کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک ام القرآن یا فرمایا: فاتحۃ الکتاب کے پڑھنے کے علاوہ (قراءت نہ کرو)۔
حدیث نمبر: 1582
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے باپ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1583
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانُوا يَقْرَؤُنَ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے قراءت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: تم نے مجھ پر قرآن کو خلط ملط کردیاہے۔
حدیث نمبر: 1584
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَٰذِهِ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کثیر بن مرۃ حضرمی کہتے ہیں: سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا ہر نماز میں قراءت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ایک انصاری آدمی کہنے لگا: اب یہ (قراءت تو)واجب ہوگئی ہے۔ لیکن سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے، جبکہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے قریب تھا اور کہا:میرے بھتیجے! میرا خیال تو یہ ہے کہ جب امام لوگوں کی امامت کرواتا ہے تو (قراءت میں بھی) وہی ان کو کفایت کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی رائے یہی تھی، حالانکہ ان کی اپنی روایت کردہ حدیث بھی عام ہے کہ ہر نماز میں قراء ت ہے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث گزر چکی ہیں، جن سے سورۃ الفاتحہ خلف الامام کا ثبوت ملتا ہے اور کئی صحابہ کا بھییہی فتوی ہے۔
حدیث نمبر: 1585
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمِ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: ((قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی ،ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی۔ سورت کی تلاوت کی ،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: تم میں سے کس نے سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَ عْلٰی۔ پڑھی ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں نے( پڑھی ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے پہچان لیا تھا کہ تم میں سے کسی نے مجھ پر اس (کی قراءت) کو الجھا دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام سرّی نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں فاتحہ شریف کے علاوہ بھی تلاوت کرتے تھے، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز کو بلند کرنے سے منع کر دیا ہے۔ مقتدی لوگوں کو چاہیے کہ وہ پست آواز میں تلاوت جاری رکھا کریں۔