کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: فاتحہ پڑھنے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 1569
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً تَبْلُغُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورۃ فاتحہ نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1569
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 756، ومسلم: 394، وابوداود: 822، وابن ماجه: 837، والترمذي: 247، والنسائي: 2/ 137 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22677) ولفظه عند الدارقطني: 1/ 322، والحاكم، والبيھقي في القراء ة : 21: ((ام القرآن عوض من غيرھا و ليس غيرھا منھا عوضا))۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23053»
حدیث نمبر: 1570
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَصَاعِدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی نماز نہیں،جس نے ام القرآن کی تلاوت نہ کی اور اس سے زیادہ بھی۔
وضاحت:
فوائد: … اگر ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کفایت کرتی ہے تو لفظ فَصَاعِدًا (فاتحہ سے زیادہ) کیوں لایا گیا، کیونکہ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ فاتحہ شریف کے بعد بھی تلاوت ہونی چاہیے؟جواباً درج ذیل دلائل اور لغوی قانون کا مطالعہ کریں: سیّدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم … اور ظہر وعصر کی آخری دو رکعتوں میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۷۷۶، صحیح مسلم: ۴۵۱) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صرف فاتحہ شریف پر رکعت مکمل ہو جاتی ہے، ذہن نشین رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ظہر کی آخری دو رکعتوں میں فاتحہ شریف کے ساتھ مزید قراء ت کرنا بھی ثابت ہے۔ (صحیح مسلم: ۴۵۲)
سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: امرنا نبینا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان نقرأ بفاتحۃ الکتاب وما تیسر۔ یعنی: ہمارے
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سورۂ فاتحہ کی تلاوت کریں اور (اس کے علاوہ) جو آسان لگے۔ (مسند احمد: ۱۰۹۹۸، ابوداود: ۸۱۸، ترمذی: ۲۳۸، ابن ماجہ: ۸۳۹، واسنادہ صحیح علی شرط شیخین) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فی کل صلاۃیقرأ، فما أسمعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أسمعناکم وما أخفی عنا أخفینا عنکم، وان لم تزد علی أم القرآن اجزأت، وان زدت فھو خیر۔ (بخاری، مسلم) یعنی: ہر نماز میں قراء ت ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جو سنایا، ہم بھی تم کو سنا دیتے ہیں، اور جو ہم سے مخفی رکھا، ہم بھی اسے تم سے مخفی رکھتے ہیں، اگر تم سورۂ فاتحہ سے زیادہ تلاوت نہ کرو تو وہی کفایت کرے گی اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو بہت اچھا ہے۔ اہل لغت کہتے ہیں: فا کے بعد والی چیز ضروری نہیں ہوتی، سیبویہ نے باب الاضافہ میں اس کی وضاحت کی ہے، اس فا اور اس کے مابعد کو لانے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئییہنہ سمجھ لے کہ اس سے ماقبل پر ہی اکتفا کرنا ضروری ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر اس حدیث میں فَصَاعِدًا کا لفظ نہ لایا جاتا تو کوئییہ سمجھ سکتا تھا کہ نماز میںسورۂ فاتحہ سے زیادہ تلاوت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اس سورت کا ذکر کیا ہے، اس وہم کو فَصَاعِدًا کے ذریعے دور کر دیا گیااوریہ ثابت کر دیا کہ کم از کم فاتحہ شریف کی تلاوت ہونی چاہیے، اس سے زائد نمازی کی مرضی پر منحصر ہے۔ اس بات کا ذکر امام بخاری نے ((تُقْطَعُ الْیَدُ فِیْ رُبُعِ دِیْنَارٍ فَصَاعِدًا)) کی مثال دے کر جزء القراء ۃ میں اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں بھی کیا ہے۔ (ملخص از مرعاۃ المفاتیح: ۳/ ۱۱۰)
معلوم ہوا کہ فَصَاعِدًا سے مراد یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے اور کوئی اس سے زیادہ تلاوت کرنا چاہے تو افضل عمل ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ساتھ ساتھ سابقہ باب میں گزر جانے والی درج ذیل حدیث پر بھی توجہ کریں: سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ صَلّٰی صَلَاۃً لَمْ یَقْرَأْ فِیْہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ) فِھَی خِدَاجٌ، ھِیَ خِدَاجٌ غَیْرُ تَمَامٍ۔)) قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ لِأَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: إِنِّیْ أَکُوْنُ أَحْیَانًا وَرَائَ الإِْمَامِ، قَالَ أَبُوْ السَّائِبِ: فَغَمَزَ أَبُوْھُرَیْرَۃَ ذِرَاعِیْ، فَقَالَ: یَافَارِسِیُّ! اِقْرَأْھَا فِیْ نَفْسِکَ۔)) (مسلم: ۳۹۵، مسند احمد:۷۸۳۶) یعنی: جس نے نماز پڑھی اور اس میں اس نے ام القرآن یعنی سورۂ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، نامکمل ہے۔ ابو لسائب نے سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: بسا اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں، (تو اس وقت میں فاتحہ کی تلاوت کیسے کروں)؟ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیتے ہوئے میرے بازو کو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ لیاکر۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ان دو احادیث کے راوی سیّدنا عبادہ بن صامت اور سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ہیں، سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خودامام کے پیچھے سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے قائل اور فاعل تھے۔ (کتاب القراء ہ للبیہقی) اور سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی امام کی اقتدا میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرنے کا فتوی دیتے تھے اور فقہ حنفی مین یہ قانون مسلّم ہے کہ راوی اپنی روایت کو زیادہ سمجھتا ہے (العبرۃ بما رأی لا بما روی)۔ جیسا کہ جناب عینی حنفی نے لکھا: الصحابی الراوی اعلم بالمقصود۔ یعنی: حدیث کو روایت کرنے والے صحابی اپنی روایت کے مقصود کو سب سے بڑھ کر سمجھنے والے ہوتے ہیں۔ (عمدۃ القاری) سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ابو سائب کو فتوی دیا کہ اس سورت کو اپنے میں دل پڑھ لیاکر۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ دل میں پڑھنے سے مراد تدبر اور تفکر ہے، پڑھنا مراد نہیں ہے، لیکن اِن کییہ تاویل انتہائی نا قابل قبول ہے، کیونکہ قراء ت عربی زبان کا لفظ ہے، جب تک کوئی لفظ زبان سے ادا نہیں ہوتا، اسے قرائت نہیں کہا جا سکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1570
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 294، وابوداود: 822، و لم يتفرد الزھري في زيادة لفظة فصاعدا بل ھو متابع، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22749 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23129»
حدیث نمبر: 1571
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَا يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجہ ٔ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص ایسی نماز پڑھے، جس میں وہ ام القرآن کی تلاوت نہ کرے تو وہ نماز ناقص ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1571
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 840، والبخاري في القراء ة خلف الامام : 9، والبيھقي في القراء ة خلف الامام : 89، 90 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25099، 26356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26888»
حدیث نمبر: 1572
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْغَدَاةِ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّي لَأَرَاكُمْ تَقْرَؤُنَ وَرَاءَ إِمَامِكُمْ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا لَنَفْعَلُ هَٰذَا، قَالَ: ((فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، آپ پر قراءت بوجھل ہو گئی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فارغ ہو کر پوچھا: میرا خیال ہے کہ تم اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں! اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! بلا شک و شبہ ہم ایسا کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسے نہ کیا کرو (یعنی میرے پیچھے نہ پڑھا کرو) سوائے سورۂ فاتحہ کے، کیونکہ جس نے اس کی تلاوت نہ کی، اس کی کوئی نماز نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … سورۂ مزمل کی اس آیت {فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} کے بارے میں قاسم بن قطلوبغا حنفی اور ملاجیون حنفی لکھتے ہیں: یوجب بعمومہ القراء ۃ علی المقتدی۔ یعنی: یہ آیت ِ کریمہ اپنے عموم کے ساتھ مقتدی پر قراء ت واجب کرتی ہے۔ (خلاصۃ الأذکار از قاسم حنفی: ۱۹۷، نور الانوار: ۱۹۳) مختلف عام دلائل کی روشنی میں مقتدی کو فاتحہ شریف پڑھنے سے روکنے والوں کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز فجر کے بعد یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ امام کے پیچھے واقعی قراء ت نہ کیا کرو، سوائے سورۂ فاتحہ کے۔ یہ حدیث تمام خاص اور عام دلائل کے لیے اور ان میں جمع و تطبیق دینے کے لیے فیصلہ کن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کئی مسائل میں بالاتفاق قرآن مجید کی آیات کو احادیث کی روشنی میں خاص کیا گیا، کیا اس بات پر غور نہیںکیا جاتا کہ قرآن نے خواتین و حضرات کو دن میں پانچ نمازیں پڑھنے اور رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے، لیکن احادیث مبارکہ نے حیض والی عورت کو حیض کی مقدار کے مطابق اور نفاس والی عورت کو زیادہ سے زیادہ چالیس دنوں تک نماز اور روزے سے مستثنی قرار دیا ہے، اورپھر نماز کی قضا کا بھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، اس قانون کی دیگر کئی مثالیں موجود ہیں۔
کیا اس مقام پر ان احادیث کی روشنی میں درج ذیل آیت ِ مبارکہ کی تخصیص نہیں کی جا سکتی؟ {وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗوَاَنْصِتُوْالَعَلَّکُمْتُرْحَمُوْنَ} یعنی: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا کرو اور چپ رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اور اگر مقتدی امام کے سکتوں میں فاتحہ شریف کی آیات پڑھ لے تو پھر تو سرے سے تخصیص کی ضرورت بھی نہیں پڑھتی۔ بہرحال ہمارے خیال پر بھی توجہ دھری جائے کہ جس ہستی پر یہ آیت نازل ہوئی تھی، اسی نے نماز فجر کے بعد یہ اعلان کیا کہ امام کے پیچھے فاتحہ شریف کی تلاوت کرنا ہو گی۔ اب ہم اس آیت سے استدلال کر کے مقتدی کو مطلق طور پر قراء ت سے کیوں روکیں۔ کیااحناف اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جب وہ جہری نمازوں میں اس وقت مسجد میں پہنچتے ہیں، جب امام قراء ت کر رہا ہوتا ہے، تووہ نیت کے الفاظ بھی کہتے ہیں، پھر اللہ اکبر بھی کہتے ہیں، پھر بعض کو سبحانک اللھم … پڑھتے ہوئے بھی سنا جاتا ہے۔ تو کیا اس وقت وہ اس آیت کی مخالفت نہیں کرتے، حالانکہ نیت کے الفاظ کہنا تو بدعت بھی ہیں؟ اگر وہ یہ جواب دیں کہ تکبیر کہنا اور سبحانک اللھم … پڑھنا تو حدیث سے ثابت ہے، تو ہم کہیں گے کہ کئی احادیث سے مقتدی کے لیے فاتحہ شریف کی تلاوت بھی ثابت ہوتی ہے، اس لیے اس کی بھی تخصیص ہونی چاہیے۔
تنبیہ: … اگر مقتدی اس وقت پہنچے جب امام جہراً قراء ت کر رہا ہو تو اسے سبحانک اللھم … یا دوسری کوئی دعائے استفتاح نہیں پڑھنی چاہیے، کیونکہ تلاوتِ قرآن کے وقت صرف فاتحہ شریف پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تکبیر تحریمہ کہنا فرض ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1572
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، قد صرح محمد بن اسحاق بسماعه من مكحول في: 22745 من مسند احمد، أخرجه ابوداود: 823، والترمذي: 311، وابن خزيمة: 1581، وابن حبان: 1792، والدار قطني: 1/ 319، والبيھقي في القراء ة خلف الامام : 109، 111 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22671، 22694)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23070»
حدیث نمبر: 1573
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأْ فِيهَا فَهِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں قراءت نہ کی جائے،وہ ناقص ہے، پھر وہ ناقص ہے، پھر وہ ناقص ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1573
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، الحجاج بن ارطاة، وان كان كثير الخطأ والتدليس، قد توبع ، أخرجه ابن ماجه: 841، والبخاري في القراء ة خلف الامام : 10، والبيھقي في القراء ة خلف الامام : 96، وللحديث شواهد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6903، 7016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7016»
حدیث نمبر: 1574
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ فَيُنَادِيَ أَنْ ((لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ باہر نکل کر یہ اعلان کریں کہ کوئی نماز نہیں ہے، مگر فاتحہ شریف کے ساتھ اور اس سے زیادہ بھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں فَمَا زَادَ (اور اس سے زیادہ بھی) کی وہی تفسیر ہے، جو اس باب کی پہلی حدیث میں لفظ فَصَاعِدًا کی بیان کی جا چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1574
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف جعفر بن ميمون، أخرجه ابوداود: 820، والبخاري في القراء ة خلف الامام : 7، والبيھقي في القراء ة خلف الامام : 41، والحاكم: 1/ 239، وابن حبان: 1791 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9525»
حدیث نمبر: 1575
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے قراءت شروع کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1575
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 128، ومسلم: 399، وانظر: 512 وما بعده ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11991)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12014»
حدیث نمبر: 1576
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ أَسِيرًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ لَا يُقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن سوادہ قشیری کہتے ہیں: مجھے ایک دیہاتی آدمی نے اپنے باپ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی تھا، سے بیان کیا کہ اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ نماز قبول نہیں ہوتی، جس میں ام الکتاب (یعنی فاتحہ شریف) کی تلاوت نہیں کی جاتی۔
وضاحت:
فوائد: … امام بغوی نے کہا: مقتدی کا امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھنا، اس کے بارے میں اہل علم صحابہ و تابعین کا اختلاف پایا جاتا ہے، ایک جماعت کا خیال ہے کہ امام جہری قراء ت کرے یا سرّی، مقتدی کے لیے اس سورت کی تلاوت کرنا واجب اور ضروری ہے، یہ مسلک سیّدنا عمر، سیّدنا عثمان، سیّدنا علی، سیّدنا عبداللہ بن عباس، سیّدنا معاذ، سیّدنا ابی بن کعب سے منقول ہے اور امام مکحول، امام اوزاعی، امام شافعی اور ابو ثور کی بھییہی رائے ہے، ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر مقتدی کے لیے ممکن ہو تو امام کے سکتے میں فاتحہ کی تلاوت کر لے، وگرنہ اس کے ساتھ ہی پڑھتاجائے، … …۔ (شرح السنۃ: ۳/ ۸۴ تا ۸۶) یہی مسلک سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما کا ہے، جو فاتحہ کی فرضیت والی روایات کے راوی بھی ہیں۔ قارئین کرام! کسی مسئلہ میں سلف صالحین کے اختلاف کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ جو رائے اختیار کر لی جائے، اس کی گنجائش ہوتی ہے، مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ متعلقہ مسئلہ کے بارے میں تحقیق کرے اور یقین کے ساتھ ایک رائے قائم کرے۔ مجھے اس ضمن میں سب سے زیادہ تعجب احناف پر ہے، صاحب ہدایہ لکھتے ہیں: وأدنی ما یجزیء من القراء ۃ فی الصلوۃ آیۃ عند أبی حنیفۃ وقالا: ثلاث آیاتقصار او آیۃ طویلۃ لأنہ لا یسمی قاریا بدونہ فأشبہ قراء ۃ ما دون الآیۃ ولہ قولہ تعالی: {فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} من غیر فصل۔ یعنی: امام ابو حنیفہؒکےنزدیک نماز میں کم از کم کفایت کرنے والی قراء ت ایک آیت ہے، لیکن صاحبین کا خیال ہے کہ چھوٹی آیتیں تین اور بڑی ایک ہونی چاہیے، کیونکہ اس کے بغیر تو اسے قاری بھی نہیں کہا جا سکتا، پس وہ ایک آیت سے بھی کم والی قراء ت سے مشابہ ہو جائے گا۔ اور امام ابوحنیفہ کے حق میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: قرآن سے جو آسان لگے وہ پڑھو۔ اس آیت میں (ایک آیتیا زیادہ) کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ (ہدایہ اولین: ص ۱۱۹) حیرانی اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس باب میں کتنی احادیث گزری ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کی قراء ت کو ضروری قرار دیا ہے، بالخصوص وہ حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر کے بعد جہری نمازوں میں بھی مقتدی کو فاتحہ شریف پڑھنے کی حکم دیا۔ لیکن احناف نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} کو جنابِ ابو حنیفہؒکےایک آیت والے قول کی روشنی میں خاص کر دیا کہ ایک آیت ضروری ہے، لیکن مذکورہ بالا احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ تخصیص نہیں کی۔ او اللہ کے بندو! کیا تم نے یہ نہیں سوچا کہ نبی ٔ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو یہ فرماتے ہیں کہ فاتحہ شریف کی تلاوت ضروری ہے، امام ابوحنیفہؒ کا قول یہ ہے کہ ایک آیت ضروری ہے اور ان کے دو شاگردوں کا خیال ہے کہ چھوٹی آیتیں ہوں تو تین اور بڑی ہوں تو ایک ضروری ہے۔ اب کس کی مانو گے؟ اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ جس مقدس ہستی پر {فَاقْرَئُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ} والی آیت سمیت پورا قرآن مجید نازل ہواتھا، اس کی سات آیتوں والی فاتحہ شریف کی تفسیر اور تخصیص کو نظر انداز کر دیا اور بعد والوں کی ایک آیت کی تخصیص کو تسلیم کر لیا جائے۔ امام ابوحنیفہ کے بڑے دو شاگردوں نے ان کے اس فتوے کو مطلق طور پر تسلیم نہیں کیا اور چھوٹی تین آیتوں کی رائے پیش کر دی۔ اگر تم لوگ بھییہ فتوی تسلیم نہ کرو اور احادیث کی روشنی میں سورۂ فاتحہ کی رائے پیش کر دو تو کون سا آسمان زمین پر آ لگے گا؟ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تقلیدی جرم کا نتیجہ ہے، ان لوگوں نے خواہ مخواہ کی ایک فرد کی تقلید کو اپنے اوپر لازم کر لیا، اس کا نتیجہیہ نکلا کہ ان احادیث ِ مبارکہ کی پروا بھی نہ کی جو امام صاحب کے فتوی کے مخالف جا رہی تھیں، حالانکہ امام ابو حنیفہؒ نے تو فرمایا تھا: صحیح حدیث میرا مذہب ہے، جب تم میرے قول کو حدیث کے مخالف پاؤ تو اسے دیوار پر دے مارنا۔ اگر تقلید کرنی ہی تھی تو امام صاحب کا یہی قول مان کر احادیث پر عمل کرنا شروع کر دیتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1576
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الرجل البدوي الذي روي عنه عبد الله بن سوادة، وفي الباب احاديث اخري مذكورة في ھذا الباب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20741 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21021»