کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
حدیث نمبر: 1558
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ اسْتَفْتَحَ ثُمَّ قَالَ (وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ): ((وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ (وَفِي رِوَايَةٍ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ تَبَارَكْتَ (وَفِي رِوَايَةٍ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ) وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ)) وَكَانَ إِذَا رَفَعَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعِظَامِي وَعَصَبِي)) وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: ((سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ)) وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُّ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ فَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَتَهُ فَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، فَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: ((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر کہتے تو (نماز) شروع کرتے پھر کہتے (اور ایک روایت میں ہے : جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے :وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَالِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، ابو نضر کہتے ہیں : وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ ، اور ایک روایت میں ہے : اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ تَبَارَکْتَ۔ اور ایک روایت میں ہے: لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗ فِیْ یَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ تَبَارَکْتَ) وَتَعَالَیْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس دعا کا ترجمہ: میں نے اس ذات کے لیے اپنا چہرہ متوجہ کیا،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یکسو مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یقینا میری نماز ، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا پروردگار ہے، اور جس کا کوئی شریک نہیں،مجھے اسی چیز کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ابونضر کے الفاظ یہ ہیں: اور میں پہلا مسلمان ہوں، اے اللہ تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اے اللہ تو ہی بادشاہ ہے، تیرے علاوہ کوئی الہ نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے اس لیے تو میرے سارے گناہ بخش دے، تیرے علاوہ گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا اور اچھے اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، تیرے علاوہ اچھے اخلاق کی طرف کوئی رہنمائی نہیں کرتا اور مجھ سے برے اخلاق دور کر دے،تیرے علاوہ کوئی بھی برے اخلاق کو مجھے سے دور نہیں کر سکتا، تو بابرکت ہے، اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:میں تیرے لیے حاضر ہوں اور تیرا تابع فرمان ہوں، خیر ساری کی ساری تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے، میں تیرے ساتھ اور تیری طرف ہوں (یعنی مجھے توفیق دینے والا بھی تو ہے اور میری پناہ بھی تیری طرف ہے) تو بابرکت اور بلند ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں۔ اور جب رکوع کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِيْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّيْ وَعِظَامِیْ وَعَصَبِیْ۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے ہی مسلمان ہوا، تیرے لیے عاجزی کر رہے ہیں میرا کان، میری نظر، میرا مغز، میری ہڈیاں اور میرا پٹھا۔ اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کہتے : سَمِعَ اللَّہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ،رَبَّنَاوَلَکَ الْحَمْدُ مِلْء السَّمٰوَا تِ وَالْأَرْضِ وَمَابَیْنَہُمْا وَمِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَئْ ٍبَعْدُ۔ اللہ نے اس کو سن لیا جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب!تیرے لیے ہی تعریف ہے، آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے (درمیان والا خلا) بھرنے کے برابر اور ان کے بعد جس کو تو چاہے اس کے بھرنے کے برابر۔ اور جب سجدہ کرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ لَکَ سَجَدْتُّ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗ فَصَوَّرَہٗفَأَحْسَنَ صُوَرَہٗفَشَقَّ سَمْعَہٗ وَبَصَرَہٗ فَتَبَارَکَاللّٰہُ أَحْسَنُ الْخٰالِقِیْنَ۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے ہی سجدہ کیا،تیرے ساتھ ایمان لایا، تیرے لیے مسلمان ہوا، میرے چہرے نے اس کے لیے سجدہ کیا ہے، جس نے اسے پیدا کر کے اس کی شکل بنائی اور اس کی شکل کو خوبصورت بنایا اور اس کے کان اور نظر کو کھولا، بابرکت ہے وہ اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔ پھر جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔ اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے اگلے پچھلے، ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو اور جو میں نے زیادتی کی اور جو میرے گناہ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے(وہ بھی بخش دے)، تو ہی (لوگوں کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں) آگے کرنے والا اور (اپنی بارگاہِ عالیہ سے) پیچھے کرنے والا ہے، تو ہی معبود برحق ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس طویل حدیث میں جو دعائے استفتاح بیان کی گئی ہے، وہ عام لوگوں کو ان الفاظ کے ساتھ یاد ہے، اسی کو یاد رکھیں: وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰواتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰالَمِیْنَ، لَا شَرِیْکَ لَہٗ،وَبِذٰلِکَأُمِرْتُوَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ،اَللّٰہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّیْ وَأَنَا عَبْدُکَ، ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ جَمِیْعًا،اِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ، وَاہْدِنِیْ لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا یَہْدِیْ لِأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّیْ سَیِّئَہَا لَا یَصْرِفُ عَنِّیْ سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ کُلُّہٗفِیْیَدَیْکَ وَالشَّرُّ لَیْسَ إِلَیْکَ، أَنَا بِکَ وَاِلَیْکَ، تَبَارَکْتَ وََتَعَالَیْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ اس باب میں اور دیگر کتب ِ احادیث میں مختلف قسم کی استفتاح کی دعائیں مذکورہیں، ہمیں بھی چاہیے کہ ساری دعائیںیاد کریں اور اپنی نمازوں میں اہتمام کے ساتھ ہر ایک دعا پڑھیں، ایک نماز میں ایک دعا پراکتفا کرنا چاہیے، کوشش کرنی چاہیے کہ صرف سبحانک اللھم … پراکتفا نہ کیا جائے، اگرچہ ایسا کرنا جائز ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ورائٹی پیش کی ہے، اس کا خیال رکھا جائے۔
تعوذ: … اس باب سے یہ تعوذ پڑھنا ثابت ہوا: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖوَنَفْثِہٖ۔ (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے، اس کے جنون سے، اس کی پھونکوں (یا تکبر) سے اور اس کے وسوسے (یا شعر) سے۔)
درج ذیل تعوذ بھی ثابت ہے
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲۵۸۹، الاوسط لابن المنذر: ۱۳۷۷) میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود (کی شر) سے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1558
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم771 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 729)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 729»
حدیث نمبر: 1559
عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} أَوِ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا أَحْفَظُهُ أَوْ مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ قَبْلَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مسلمہ سعید بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیاکہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھتے تھے یا {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}؟ انہوں نے جواب دیا: تو مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کررہا ہے جو مجھے یاد نہیں یا تجھ سے پہلے اس کے بارے میں کسی نے سوال نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کا شک کرنا، یہ دراصل ان سے نیچے کسی راوی کو شک ہوا ہے، کیونکہ ان کو یہ مسئلہ یاد تھا، جیسا کہ اسی حدیث کے بعض طرق کے مطابق وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابو بکر صدیق، سیّدنا عمراور سیّدنا عثمان قراء ت کا آغاز {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے کرتے تھے۔ (مسند احمد: ۱۱۹۹۱، بخاری: ۱۲۸، مسلم: ۳۹۹) اور یہ بھی ممکن ہے کہ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کو ہی آخری عمر مین یہ مسئلہ بھول گیا ہو، کیونکہ انھوں نے لمبی عمر پائی تھی، بہرحال ایسی صورت میں مثبت کو منفی پر مقدم کیا جائے گا، کیونکہ مثبت زیادتی ٔ علم پر مشتمل ہے اور ایک روایت میں ہے: سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیّدنا ابوبکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان کی اقتدا میں نماز پڑھی اور کسی کو بھی {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا۔ (مسند احمد: ۱۲۸۱۰،مسلم: ۳۹۹) اس باب میں ان ہی روایات کا ذکر چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1559
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، رواه احمد في عدة اماكن بالفاظ مختلفة ومتقاربة، وبعضه رواه الشيخان مثل الرواية الآتية في شرح ھذا الحديث، أخرجه الدارقطني: 1/ 316 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12700)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12730»
حدیث نمبر: 1560
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ قَتَادَةُ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ؟ فَقَالَ: إِنَّكَ لَتَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدناعمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی، میں نے ان میں سے کسی کو {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔قتادہ کہتے ہیں : میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت کس چیز سے شروع کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا:یقینا تو مجھ سے ایسی چیزکے متعلق پوچھ رہا ہے جس کے متعلق مجھ سے کسی نے نہیں سوال نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1560
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، انظر الحديث السابق: 512 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13893)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13930»
حدیث نمبر: 1561
وَعَنْ أَنَسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَكَانُوا لَا يُجْهَرُونَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے ، وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کو جہراً نہیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1561
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن خزيمة: 495، والدارقطني: 1/ 315 و أخرجه مسلم: 399 بلفظ متقارب، وانظر الاحاديث المذكورة في ھذا الباب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12810، 12845)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12876»
حدیث نمبر: 1562
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} لَا يَذْكُرُونَ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} فِي أَوَّلِ الْقِرَاءَةِ وَلَا فِي آخِرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ قراءت {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے شروع کرتے تھے، وہ نہ تو قراءت کے شروع میں {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کو ذکر کرتے اور نہ اس کے آخر میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1562
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 399، وانظر الأحاديث المذكورة في ھذا الباب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13337)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13370»
حدیث نمبر: 1563
عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَلَمْ يَكُونُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَسْمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: نَعَمْ نَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں نماز پڑھی، وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں شروع کرتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں : میں نے قتادہ سے پوچھا: کیا تو نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں ! ہم نے اُن سے اِس کے متعلق سوال کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی اِن اور دیگر روایات کالب لباب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتحہ شریف کے ساتھ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت جہر کے ساتھ نہیں کرتے تھے، نفی سے مراد اسی جہر کی نفی ہے، کیونکہ صحیح ابن خزیمہ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: کانوا یسرون یعنی: وہ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} کی تلاوت سرّی آواز میں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1563
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابو عبد الله السلمي مجھول فيما نحسب، لكنه قد توبع، أخرجه مسلم: 399، لكن لم يسق لفظه وانظر الاحاديث المذكورة في ھذا الباب۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14002»
حدیث نمبر: 1564
عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقْرَأُ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا بُنَيَّ! إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَلْفَ أَبِي بَكْرٍ وَخَلْفَ عُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكَانُوا لَا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} (وَفِي رِوَايَةٍ فَلَا تَقُلْهَا، إِذَا أَنْتَ قَرَأْتَ فَقُلْ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَبْعَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ مِنْهُ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیٹا (یزید) کہتا ہے: مجھے میرے باپ نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھتے ہوئے سنا، جب وہ فارغ ہوئے تومجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے ! اسلام میں نیا کام (ایجاد کرنے) سے بچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیّدناابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ تو قراءت کا آغاز {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} سے نہیں کرتے تھے۔ تو بھی اس کو نہ پڑھا کر اور قراء ت کو {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے شروع کیا کر۔ ان کا بیٹا کہتا ہے: میں نے اپنے باپ کی بہ نسبت ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جسے بدعت انتہائی ناپسند ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1564
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن في الشواھد، أخرجه الترمذي: 244، وابن ماجه: 815 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16787، 20559)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20833»
حدیث نمبر: 1565
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الْقِرَاءَةَ بِـ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {الْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} سے قراءت شروع کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1565
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 498، وابوداود: 783، وابن ماجه: 812، 869 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030، 24791)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25301»
حدیث نمبر: 1566
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً، {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراءت کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الگ الگ اور ایک ایک آیت کر کے تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ}۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے ہے یا خارج از نماز سے؟ اول الذکر صورت زیادہ مناسب اور راجح معلوم ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کیسے ہوتی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاوت میں حروف کو لمبا کر کے پڑھا جاتا تھا۔ پھر انھوں نے {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} میں {بِسْمِ اللّٰہِ}، { الرَّحْمَنِ} اور {الرَّحِیْمِ} کو لمبا لمبا کر کے پڑھا۔ (صحیح بخاری: ۵۰۴۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1566
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4001، والترمذي: 2927 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26583)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27118»