کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
حدیث نمبر: 1551
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ: ((سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ)) ثُمَّ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو قیام کرتے اور اپنی نماز شروع کرتے تواللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھتے: سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰہَ غَیْرُکَ۔ پھر تین مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللَّہُ کہتے، پھر أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ پڑھتے،پھرتین مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے اور پھر یہ پڑھتے: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖوَنَفْخِہٖ وَنَفَثِہٖ۔ دعاؤں کا ترجمہ: اےاللہ! تو پاک ہے اورتیری حمد کے ساتھ،تیرا نام برکت والا ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبودنہیں ہے ۔ نہیں ہے معبودِ برحق مگر اللہ۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جو بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے، شیطان مردود سے اور اس کے جنون او ر تکبر سے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں بہت سننے والے اور بہت جاننے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں شیطان مردود سے اور اس کے جنون، اور اس کے تکبر اور اس کے شعر سے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1551
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، جعفر بن سليمان الضبعي وعلي بن علي مختلف فيھما، أخرجه ابوداود: 775، والترمذي: 242 بالفاظ متقاربة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11473)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11493»
حدیث نمبر: 1552
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ) كَبَّرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور نماز میں داخل ہوتے تو تین دفعہ اللّٰہ اکبر، تین دفعہ لاا لہ الا اللّٰہ اورتین مرتبہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ پھر یہ پڑھتے: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم من ہمزہ ونفخہ ونفثہ۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیثیہ دعائے استفتاح اور تعوذ ثابت ہوا: اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔ أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہِ وَنَفْخِہِ وَنَفْثِہِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي له عن ابي امامة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22177، 22179)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22532»
حدیث نمبر: 1553
عَنْ نَافِعٍ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي التَّطَوُّعِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ثَلَاثَ مِرَارٍ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَمْزُهُ وَنَفْثُهُ وَنَفْخُهُ؟ قَالَ: أَمَّا هَمْزُهُ فَالْمَوْتَةُ الَّتِي تَأْخُذُ ابْنَ آدَمَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ فَذَكَرَ كَهَيْئَةِ الْمَوْتَةِ يَعْنِي يُصْرَعُ) وَأَمَّا نَفْخُهُ الْكِبْرُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جبیر بن مطعم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفل نماز میں تین مرتبہ اَللَّہُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ،تین مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا اور تین مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً پڑھا اور پھر یہ کہا: أَعُوْذُ بِاللَّہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمْزِہٖ وَنَفْثِہٖ ونَفْخِہٖ۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اس کے ھَمْز ، نَفْث اور نَفْخ سے کیا مراد ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ھَمْز سے مراد جنون اور دیوانگی ہے، جو آدم کے بیٹے پر طاری ہو جاتی ہے، پھراس جنون کی کیفیت ذکر کی، جس میں وہ بے ہوش ہو کر گر جاتا ہے ، اور اس کے نفخ سے مراد تکبر اور نفث سے مراد شعر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے یہ دعائے استفتاح ثابت ہوئی: اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَللّٰہُ أَکْبَرُ کَبِیْرًا، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً، سُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَأَصِیْلاً۔ ان تین جملوں کا ترجمہ یہ ہے: اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پہلے جملے میں لفظ کَبِیرا کی تین تراکیب ہو سکتی ہیں: (۱) یہ اُکَبِّرُ کا مفعول ہے، یا (۲) تَکْبِیْرًا محذوف کی صفت ہے، یا (۳) یہ حال ہے جو پورے جملے کے معنی میں تاکید پیدا کر رہا ہے۔
اس حدیث میں صرف صبح و شام کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد تسلسل ہے، یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی جا رہی ہے، جیسے قرآنِ مجید میں ہے {وَ لَہُمْ رِزْقُہُمْ فِیْہَا بُکْرَۃً وَّ عَشِیًّاo} (مریم: ۶۲) اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح اور شام ہو گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو جنت میں ہر وقت رزق ملے گا۔ (عبداللہ رفیق) یا چونکہ صبح و شام کو رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں، اس لیے صرف ان اوقات کا ذکر کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1553
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف الراوي عن نافع بن جبير، أخرجه ابوداود: 765 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16739)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16860»
حدیث نمبر: 1554
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَالَ رَجُلٌ فِي الْقَوْمِ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((عَجِبْتُ لَهَا، فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے یہ کلمات کہے: اَللّٰہُ اَکْبَرُکَبِیْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلاً۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ ساری تعریف اس کی ہے، جو بہت زیادہ ہے۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ الفاظ کہنے والا کون تھا؟ ایک آدمی نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان کلمات پر بڑا تعجب ہواکہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میں نے ان کلمات کو ترک نہیں کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1554
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 601 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4627)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4627»
حدیث نمبر: 1555
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَخَلَ الصَّلَاةَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَسَبَّحَ وَدَعَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَائِلُهُنَّ؟)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ: ((لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تَلَقَّى بِهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ایک دن نماز میں داخل ہوا اور اس نے یہ کلمات کہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْء السَّمٰوَاتِ اور مزید تسبیح بیان کی اور دعا کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کلمات پڑھنے والا کون شخص تھا؟ اس نے کہا: میں تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو یہ کلمات لیتے دیتے ہوئے (جا رہے تھے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1555
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه البزار: 524 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6632)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6632»
حدیث نمبر: 1556
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَنَحْنُ فِي الصَّفِّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا، قَالَ: فَرَفَعَ الْمُسْلِمُونَ رُءُوسَهُمْ وَاسْتَنْكَرُوا الرَّجُلَ وَقَالُوا: مَنِ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ فَوْقَ صَوْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ هَٰذَا الْعَالِي الصَّوْتِ؟)) فَقِيلَ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ((وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ كَلَامَكَ يَصْعَدُ فِي السَّمَاءِ حَتَّى فُتِحَ بَابٌ فَدَخَلَ فِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں صف میں کھڑے تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا: اَللَّہُ اَکْبَرُکَبِیْرًاوَسُبْحَانَ اللَّہِ بُکْرَۃً وَّأَصِیْلًا۔ (اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا۔ وہ پاک ہے، صبح و شام ہم اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔)، مسلمانوں نے (اس کی طرف) اپنے سر اٹھائے اور اس کو برا سمجھا اور کہنے لگے: کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے پوچھا: یہ آواز بلند کرنے والا کون تھا؟ جواب دیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ یہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم میں نے تیرا کلام آسمان میں چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتیٰ کہ اس کے لیے ایک دروازہ کھول دیا گیا اور وہ اس میں داخل ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … صحابہ نے نماز کے اندر ہی کہا کہ کون ہے جو اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے بلند کر رہا ہے؟ یا تو اس جملے کا تعلق زبان حال سے ہے، جس کا پتہ ان کے سر اٹھانے سے چل رہا ہے، یا پھر یہ واقعہ نماز میں حرمت ِ کلام سے پہلے پیش آیا ہو گا، پہلی بات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔)۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوںاور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1556
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عبد الله بن سعيد الھمداني، أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار : 8/ 133 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: )۔ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19347»
حدیث نمبر: 1557
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ الْقَائِلُ؟)) قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا أَرَدْتُ إِلَّا الْخَيْرَ، فَقَالَ: ((لَقَدْ فُتِحَتْ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَمْ يُنَهَّهَا دُونَ الْعَرْشِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیْرًا طَیِّبًا مُّبَارَکًا فِیْہِ۔ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، جو بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت ہے۔) ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: یہ کلمات کہنے والا کون ہے؟ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں اور میرا ارادہ صرف خیر کا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (کلمات) کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور کسی چیز نے عرش سے پہلے ان کو نہیں روکا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1557
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، عبد الجبار بن وائل لم يسمع من ابيه، أخرجه ابن ماجه: 3802، وأخرج بنحوه النسائي: 2/ 145 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19066»