کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد¤یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ سَكْتَتَانِ، سَكْتَةٌ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ، وَسَكْتَةٌ إِذَا فَرَغَ مِنَ السُّورَةِ الثَّانِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: كَذَبَ سَمُرَةُ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ: أَنَا مَا أَحْفَظُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَكَتَبَ فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ: صَدَقَ سَمُرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو سکتے کرتے تھے: ایک سکتہ، جب نماز شروع کرتے اور دوسرا، جب رکوع کرنے سے پہلے دوسری سورت کی تلاوت مکمل کرتے۔ بعد میں جب یہ حدیث سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے سامنے ذکر کی گئی تو انہوں نے کہا: سمرہ نے غلط بیانی کی ہے اورایک روایت کے مطابق انھوں نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی بات یاد نہیں ہے، پھر انھوں نے اس کے متعلق سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا، جو مدینہ میں تھے، انہوں نے جواب دیاکہ سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔
حدیث نمبر: 1548
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا مَنْصُورٌ وَيُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى بِهِمْ سَكَتَ سَكْتَتَيْنِ، إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، وَإِذَا قَالَ {وَلَا الضَّالِّينَ} سَكَتَ أَيْضًا هُنَيَّةً، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَكَتَبَ إِلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ أُبَيٌّ: إِنَّ الْأَمْرَ كَمَا صَنَعَ سَمُرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو دو سکتے کرتے، جب نماز شروع کرتے اور جب {وَلَا الضَّالِّین} کہتے تو بھی کچھ دیر خاموش رہتے۔ جب لوگوں نے ان پر اس کا انکار کیا توانہوں نے سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف (خط) لکھا، جس کا انھوں نے یہ جواب دیا کہ یقینا معاملہ اسی طرح ہے جیسے سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1549
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ قَالَ: وَإِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ السُّورَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند ) جب سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سورت کی قراءت سے فارغ ہوتے تو (سکتہ کرتے) ۔
وضاحت:
فوائد: … تین سکتات کی صحت۔ تکبیر تحریمہ کے بعد اور قراء ت سے پہلے والا سکتہ تو بخاری و مسلم کی حدیث سے ثابت ہے۔باقی سکتوں کے حوالہ سے علماء کے ہاں معروف اختلاف چلا آ رہا ہے۔ مولفِ فوائدn نے باقی دو سکتات کی بھی صحت کے بارے بات کی ہے۔ جبکہ حدیث زیرِ مطالعہ کو تخریج میں حسن کے سمرہ سے سماع کے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مرسل قرار دیا گیا ہے۔بعض علماء حسن بصرہ کے سمرہ سے سماع کو ثابت سمجھتے ہیں۔ لیکن علامہ ناصر الدین البانی نے فرمایا ہے کہ اس جگہ اصل ضعف یہ ہے کہ حسن بصری مدلس ہیں اور وہ عَنْ کے ساتھ بیان کر رہے ہیں۔ سماع کی صراحت نہیں کر رہے اور محدثین کے ہاں یہ اصول ہے کہ مدلس کے عنعنہ والی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی۔ (مزید تفصیل دیکھیں: ہدایۃ الرواۃ تحقیق از البانی رحمتہ اللہ علیہ رقم الحدیث: ۲/۷۸۲) (عبداللہ رفیق)
جو اہل علم اس حدیث کی صحت کے قائل ہیں ان کی دلیلیہ ہے کہ حسن کی سمرہ سے معنعن روایات بھی صحیح ہوتی ہیں اس لیے کہ یہ روایت کتاب سے ہے جو کہ بطورِ منادلہ ہے یا اجازہ یا بطورِ وجادہ اور یہ تینوں صورتیں محدثین کے ہاں معتبر
ہیں بشرطیکہ اس کتاب کی نسبت صحیح ثابت ہو اور نسخہ بھی صحیح و مرثوق ہو (دیکھئے: مقدمہ ابن الصلاح مع شرح العراقی صفحہ ۲۰۰ تا ۲۰۲) حسن بصری کے پاس سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب کا موجود ہونا دلائل صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس کتاب میں سے حسن بصری نے ایک حدیث (حدیث العقیقہ) سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی لہٰذا نماز میں دیگر سکتات کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ (از عارفی)
شارحین نے رکوع سے پہلے والے سکتے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ قراء ت اور تکبیر کے درمیان فاصلہ ہو جائے اور امام ذرا سانس لے لے۔
جو اہل علم اس حدیث کی صحت کے قائل ہیں ان کی دلیلیہ ہے کہ حسن کی سمرہ سے معنعن روایات بھی صحیح ہوتی ہیں اس لیے کہ یہ روایت کتاب سے ہے جو کہ بطورِ منادلہ ہے یا اجازہ یا بطورِ وجادہ اور یہ تینوں صورتیں محدثین کے ہاں معتبر
ہیں بشرطیکہ اس کتاب کی نسبت صحیح ثابت ہو اور نسخہ بھی صحیح و مرثوق ہو (دیکھئے: مقدمہ ابن الصلاح مع شرح العراقی صفحہ ۲۰۰ تا ۲۰۲) حسن بصری کے پاس سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب کا موجود ہونا دلائل صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس کتاب میں سے حسن بصری نے ایک حدیث (حدیث العقیقہ) سیّدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی لہٰذا نماز میں دیگر سکتات کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ (از عارفی)
شارحین نے رکوع سے پہلے والے سکتے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ قراء ت اور تکبیر کے درمیان فاصلہ ہو جائے اور امام ذرا سانس لے لے۔
حدیث نمبر: 1550
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَأَيْتَ إِسْكَاتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ أَخْبِرْنِي مَا هُوَ؟ قَالَ: ((أَقُولُ: اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَّ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الْأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ، قَالَ جَرِيرٌ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبرکہتے تو آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان خاموش رہتے، میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ تکبیر اور قراءت کے درمیان اپنی خاموشی کے بارے میں تو مجھے بتلا دیں، اس کی کیا حقیقت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں: دعا کا ترجمہ:اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری ڈال دے، جیسے تونے مشرق و مغرب کے درمیان دوری رکھی ہے۔ اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال۔
وضاحت:
فوائد: … حقیقت میں گناہوںکو پانی، برف اور اولوں سے نہیں دھویا جاتا ہے، اس سے مراد تاکید اور مبالغہ ہے، یعنی ہر گناہ کو بخش دیا جائے اور کسی کو باقی نہ رہنے دیا جائے، جیسے اس کپڑے کی حالت ہوتی ہے، جس کو ان تین چیزوں سے صاف کیا جائے۔