کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اسی باب کی ایک فصل اس شخص کی دلیل کے متعلق جس کے خیال کے مطابق¤تکبیرۂ تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں ہے
حدیث نمبر: 1538
عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علقمہ سے مروی ہے کہ سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا میں تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھوں؟ پھر انھوں نے نماز پڑھی اور صرف ایک دفعہ رفع الیدین کیا۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ رفع الیدین ترک کرنے کا زیادہ دارومدار اسی روایت پر ہے، اس لیے تفصیل کے ساتھ اس کی حقیقت واضح کی جائے گی۔
(ا)سب سے پہلے اس حدیث کے ترجمہ پر غور کریں اور دیکھیںیہ روایت رفع یدین کے اثبات کی دلیل ہے، پوری حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ملے گا جو رکوع جاتے یا اُٹھتے وقت رفع یدین سے منع کرے۔
(ب)تمام احناف اس حدیث کے مخالف ہیں اگر حنفی استدلال کے مطابق صرف ایک رفع یدین ہے تو وہ وتروں میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟ اگر کہیں کہ دوسری دلیل سے تو پھر صحیح بخاری و مسلم کی مسلمہ روایات سے رکوع جاتے اور اُٹھتے وقت بھی رفع یدین کرنا چاہیے آخر اس سے انکار کیوں؟ اور یہ دو رنگی کیوں؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا یا سراسر موم ہو جا یا سنگ ہو جا
یہ حدیث ضعیف ہے۔
(الف): … امام سفیان ثوری مدلس ہیں، جو ہر سند میں عَنْ سے روایت کر رہے ہیں۔
(۱) … امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: وکان یدلس یعنی: سفیان ثوری تدلیس کرتے تھے۔ (الجرح والتعدیل:۴/۲۲۵، وسندہٗصحیح، الکفایۃ للخطیب: ص:۳۶۱)
(۲) … امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ مدلس ہیں۔ (العلل للدارقطنی: ۲/۱۶۹)
(۳) … امام شعبہؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل لابن عدی:۱/۶۹)
(۴) … امام عبداللہ بن مبارکؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل: ۱/۱۰۴)
(۵) … امام ہشیم بن بشیر نے امام عبد اللہ بن مبارک سے کہا: قد کان کبیراکیدلسان، فذکر سفیان الثوری والأعمش یعنی: آپ کے دو بزرگ سفیان ثوری اور اعمش تدلیس کرتے تھے۔ (الکامل: ۱/۹۵، ۲۲۴، ۷/۱۳۵، وسندہٗصحیح)
(۶) … امام سفیان ثوریؒ کے شاگرد امام ابو عاصم ضحاک بن مخلد نبیل کہتے ہیں: نری أن سفیان الثوری انما دلسہ عن أبی حنیفۃ۔ یعنی: ہمارا خیال ہے کہ سفیان ثوری نے ابو حنیفہؒ سے تدلیس کی ہے۔ (سنن الدارقطنی: ۳/۲۰۱، حدیث: ۳۴۲۳)
(۷) … امام بخاریؒ فرماتے ہیں: اعلم الناس بالثورییحییٰ بن سعید لأنہ عرف حدیث صحیحہ من تدلیسہ۔ یعنی: سفیان ثوری کو سب سے زیادہ جاننے والے یحییٰ بن سعیدالقطان ہیں، کیونکہ وہ ان کی مدلَّس روایات میں سے صحیح احادیث کو پہچانتے تھے۔ (الکامل لابن عدی: ۱/۱۱۱، وسندہٗصحیح) معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری کے مدلس ہونے پر اتفاق ہے۔ امام عینی حنفی لکھتے ہیں: سفیان من المدلسین، والمدلس لایحتج بعنعنتہ أِلا أن یثبت سماعہ من طریق آخر۔ یعنی: سفیان (ثوریؒ) مدلس رواۃ میں سے ہیں، (یاد رہے کہ) مدلس کی عن والی اس وقت تک حجت نہیں ہوتی جب تک کسی دوسرے طریق سے اس کا سماع نہ ہو۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری: ۳/۱۱۲) قسطلانی نے ارشاد الساری: ۱/۲۸۶ میں اور کرمانی حنفی نے شرح الکرمانی للبخاری: ۳/۶۲ مین یہی دعویٰ کیا ہے۔ امام ترکمانی حنفی لکھتے ہیں: الثوری مدلس یعنی: سفیان ثوری مدلس ہے۔ (الجوہر النقی: ۸/۲۶۲) امام عینی حنفی (عمدۃ القاری: ۱/۲۱۴)، خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی (بذل المجہود: ۵/۲۳۰)، جناب حسین احمد مدنی دیوبندی (تقریر ترمذی: ص ۳۹۱)، جناب سرفراز صفدر دیوبندی (خزائن السنن: ۲/۷۷)، عبد القیوم حقانی دیوبندی (توضیح السنن: ص۶۱۵)، شیر محمد مماتی دیوبندی (آئینۂ تسکین الصدور: ص ۹۲)، محمد امین اوکاڑوی دیوبندی (مجموعۂ رسائل: ۳/۳۳۱)، ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی بریلوی (فقہ الفقیہ: صـ ۱۳۴)، محمد عباس رضوی بریلوی (واللہ آپ زندہ ہیں: صـ۳۲۱) وغیرھم نے امام سفیان ثوریؒ کو مدلس کہا ہے۔ ثقہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف و غیر معتبر ہوتی ہے، جب تک سماع کی تصریحیا متابعت ثابت نہ ہو جائے۔ دیکھیں: (الجوہر النقی: ۷/۳۷۷، عمدۃ القاری از عینی حنفی: ۱/۲۶۱، البنایہ از عینی حنفی: ۲/۲۹۷، ۶/۵۳۹، فتح القدیر از ابن ہمام حنفی: ۱/۵۲، السعایۃ از عبد الحئی لکھنوی حنفی: ۱/۲۴۷، التعلیق الحسن از نیموی حنفی: صـ ۹۸، ۹۹، ۱۹۸، ایضاح الادلہ از محمود الحسن دیوبندی: صـ ۴۴، تقاریر شیخ الہند: صـ ۳۵، حقائق السنن از عبد الحق دیوبندی بانی دارالعلوم حقانیہ: ۱/۱۵۶، ۱۶۱، توضیح السنن: صـ۵۸۶، فقہ الفقیہ از محمد شریف بریلوی: صـ ۱۳۰)
جناب امین اوکاڑوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: عَنْعَنَہ بالاتفاق ضعف کی دلیل ہے۔ (تجلیاتِ صفدر: ۳/۹۳) امامِ بریلویت احمد رضا خان لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمد میں مردود و نامستند ہے۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۲۹۰) نیز لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس اصولِ محدثین پر نامقبول۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۳۰۷) اس حدیث میں امام سفیان ثوریؒ نے سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث اصولِ محدثین کے مطابق ضعیف اور ناقابلِ حجت ہے۔
(ب) … درج ذیل جلیل القدر ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف ہے: امام بخاریؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ،امامعبداللہبنمبارکؒ،امام ابو حاتم الرازیؒ، امام یحییٰ بن آدمؒ،امامدارقطنیؒ، امام ابن حبانؒ،امامابوداودؒ،امامدارمیؒ، امام محمد بن وضاحؒ،امامبزارؒ،اماممحمدبننصرالمروزیؒ، امام بیہقیؒ،امامحاکمؒ،امامابنعبدالبرؒ،امامنوویؒ، امام ابن القطان الفاسیؒ، امام ابن قدامہ المقدسیؒ وغیرھم۔
چند ایک ائمہ کے تفصیلی اقوال یہ ہیں: امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: لم یثبت عندی حدیث ابن مسعود۔ … یعنی: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میرے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ (سنن الترمذی: تحت حدیث۲۵۶) امام ابوداود نے کہا: ھذا حدیث مختصر من حدیث طویل، ولیس ھو بصحیح علی ھذا اللفظ۔ یعنی: یہ حدیث، ایک طویل حدیث کا اختصار ہے اور یہ ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔ (ابوداود: تحت حدیث: ۷۴۸) امام ابو حاتم رازی نے کہا: ھذا خطأ۔ یعنی: یہ حدیث غلطی ہے۔ (العلل: ۱/ ۹۶) امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ھو فی الحقیقۃ أضعف شیءیعول علیہ، لان لہ عللا تبطلہ۔ یعنی: لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس روایت میں ایسی علّتیں ہیں، جو اس کو باطل قرار دیتی ہیں۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۲۲۲)
(ج) … امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جزء رفع الیدین میں کہا: امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن ادریس کی کتاب دیکھی، جو انھوں نے (اس حدیث کے راوی) عاصم بن کلیب سے لکھی تھی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ نہیں تھے۔ یہی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اہل علم کے نزدیک کتاب کی بات کو زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
(د) … رفع الیدین کے اثبات والی احادیث انتہائی واضح، محکم اور کثیر تعداد میں موجود ہیں، لہٰذا احادیث ِ صحیحہ کی مخالفت کی وجہ سے اس ضعیف کے ضعف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ درج بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ اس ضعیف حدیث سے رفع الیدین کے نسخ پر دعوی کرنامحض عوامیدھوکا ہے۔
(ا)سب سے پہلے اس حدیث کے ترجمہ پر غور کریں اور دیکھیںیہ روایت رفع یدین کے اثبات کی دلیل ہے، پوری حدیث میں کوئی ایسا لفظ نہیں ملے گا جو رکوع جاتے یا اُٹھتے وقت رفع یدین سے منع کرے۔
(ب)تمام احناف اس حدیث کے مخالف ہیں اگر حنفی استدلال کے مطابق صرف ایک رفع یدین ہے تو وہ وتروں میں رفع یدین کیوں کرتے ہیں؟ اگر کہیں کہ دوسری دلیل سے تو پھر صحیح بخاری و مسلم کی مسلمہ روایات سے رکوع جاتے اور اُٹھتے وقت بھی رفع یدین کرنا چاہیے آخر اس سے انکار کیوں؟ اور یہ دو رنگی کیوں؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا یا سراسر موم ہو جا یا سنگ ہو جا
یہ حدیث ضعیف ہے۔
(الف): … امام سفیان ثوری مدلس ہیں، جو ہر سند میں عَنْ سے روایت کر رہے ہیں۔
(۱) … امام یحییٰ بن معینؒ فرماتے ہیں: وکان یدلس یعنی: سفیان ثوری تدلیس کرتے تھے۔ (الجرح والتعدیل:۴/۲۲۵، وسندہٗصحیح، الکفایۃ للخطیب: ص:۳۶۱)
(۲) … امام دارقطنیؒ فرماتے ہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ مدلس ہیں۔ (العلل للدارقطنی: ۲/۱۶۹)
(۳) … امام شعبہؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل لابن عدی:۱/۶۹)
(۴) … امام عبداللہ بن مبارکؒفرماتےہیں: یدلس یعنی: سفیان ثوریؒ تدلیس کرتے ہیں۔ (الکامل: ۱/۱۰۴)
(۵) … امام ہشیم بن بشیر نے امام عبد اللہ بن مبارک سے کہا: قد کان کبیراکیدلسان، فذکر سفیان الثوری والأعمش یعنی: آپ کے دو بزرگ سفیان ثوری اور اعمش تدلیس کرتے تھے۔ (الکامل: ۱/۹۵، ۲۲۴، ۷/۱۳۵، وسندہٗصحیح)
(۶) … امام سفیان ثوریؒ کے شاگرد امام ابو عاصم ضحاک بن مخلد نبیل کہتے ہیں: نری أن سفیان الثوری انما دلسہ عن أبی حنیفۃ۔ یعنی: ہمارا خیال ہے کہ سفیان ثوری نے ابو حنیفہؒ سے تدلیس کی ہے۔ (سنن الدارقطنی: ۳/۲۰۱، حدیث: ۳۴۲۳)
(۷) … امام بخاریؒ فرماتے ہیں: اعلم الناس بالثورییحییٰ بن سعید لأنہ عرف حدیث صحیحہ من تدلیسہ۔ یعنی: سفیان ثوری کو سب سے زیادہ جاننے والے یحییٰ بن سعیدالقطان ہیں، کیونکہ وہ ان کی مدلَّس روایات میں سے صحیح احادیث کو پہچانتے تھے۔ (الکامل لابن عدی: ۱/۱۱۱، وسندہٗصحیح) معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری کے مدلس ہونے پر اتفاق ہے۔ امام عینی حنفی لکھتے ہیں: سفیان من المدلسین، والمدلس لایحتج بعنعنتہ أِلا أن یثبت سماعہ من طریق آخر۔ یعنی: سفیان (ثوریؒ) مدلس رواۃ میں سے ہیں، (یاد رہے کہ) مدلس کی عن والی اس وقت تک حجت نہیں ہوتی جب تک کسی دوسرے طریق سے اس کا سماع نہ ہو۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری: ۳/۱۱۲) قسطلانی نے ارشاد الساری: ۱/۲۸۶ میں اور کرمانی حنفی نے شرح الکرمانی للبخاری: ۳/۶۲ مین یہی دعویٰ کیا ہے۔ امام ترکمانی حنفی لکھتے ہیں: الثوری مدلس یعنی: سفیان ثوری مدلس ہے۔ (الجوہر النقی: ۸/۲۶۲) امام عینی حنفی (عمدۃ القاری: ۱/۲۱۴)، خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی (بذل المجہود: ۵/۲۳۰)، جناب حسین احمد مدنی دیوبندی (تقریر ترمذی: ص ۳۹۱)، جناب سرفراز صفدر دیوبندی (خزائن السنن: ۲/۷۷)، عبد القیوم حقانی دیوبندی (توضیح السنن: ص۶۱۵)، شیر محمد مماتی دیوبندی (آئینۂ تسکین الصدور: ص ۹۲)، محمد امین اوکاڑوی دیوبندی (مجموعۂ رسائل: ۳/۳۳۱)، ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی بریلوی (فقہ الفقیہ: صـ ۱۳۴)، محمد عباس رضوی بریلوی (واللہ آپ زندہ ہیں: صـ۳۲۱) وغیرھم نے امام سفیان ثوریؒ کو مدلس کہا ہے۔ ثقہ مدلس راوی کی عن والی روایت ضعیف و غیر معتبر ہوتی ہے، جب تک سماع کی تصریحیا متابعت ثابت نہ ہو جائے۔ دیکھیں: (الجوہر النقی: ۷/۳۷۷، عمدۃ القاری از عینی حنفی: ۱/۲۶۱، البنایہ از عینی حنفی: ۲/۲۹۷، ۶/۵۳۹، فتح القدیر از ابن ہمام حنفی: ۱/۵۲، السعایۃ از عبد الحئی لکھنوی حنفی: ۱/۲۴۷، التعلیق الحسن از نیموی حنفی: صـ ۹۸، ۹۹، ۱۹۸، ایضاح الادلہ از محمود الحسن دیوبندی: صـ ۴۴، تقاریر شیخ الہند: صـ ۳۵، حقائق السنن از عبد الحق دیوبندی بانی دارالعلوم حقانیہ: ۱/۱۵۶، ۱۶۱، توضیح السنن: صـ۵۸۶، فقہ الفقیہ از محمد شریف بریلوی: صـ ۱۳۰)
جناب امین اوکاڑوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: عَنْعَنَہ بالاتفاق ضعف کی دلیل ہے۔ (تجلیاتِ صفدر: ۳/۹۳) امامِ بریلویت احمد رضا خان لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار و معتمد میں مردود و نامستند ہے۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۲۹۰) نیز لکھتے ہیں: عنعنہ مدلس اصولِ محدثین پر نامقبول۔ (فتاوی رضویہ: ۲/۳۰۷) اس حدیث میں امام سفیان ثوریؒ نے سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث اصولِ محدثین کے مطابق ضعیف اور ناقابلِ حجت ہے۔
(ب) … درج ذیل جلیل القدر ائمہ نے اس حدیث کو ضعیف ہے: امام بخاریؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ،امامعبداللہبنمبارکؒ،امام ابو حاتم الرازیؒ، امام یحییٰ بن آدمؒ،امامدارقطنیؒ، امام ابن حبانؒ،امامابوداودؒ،امامدارمیؒ، امام محمد بن وضاحؒ،امامبزارؒ،اماممحمدبننصرالمروزیؒ، امام بیہقیؒ،امامحاکمؒ،امامابنعبدالبرؒ،امامنوویؒ، امام ابن القطان الفاسیؒ، امام ابن قدامہ المقدسیؒ وغیرھم۔
چند ایک ائمہ کے تفصیلی اقوال یہ ہیں: امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: لم یثبت عندی حدیث ابن مسعود۔ … یعنی: سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میرے نزدیک ثابت نہیں ہے۔ (سنن الترمذی: تحت حدیث۲۵۶) امام ابوداود نے کہا: ھذا حدیث مختصر من حدیث طویل، ولیس ھو بصحیح علی ھذا اللفظ۔ یعنی: یہ حدیث، ایک طویل حدیث کا اختصار ہے اور یہ ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں ہے۔ (ابوداود: تحت حدیث: ۷۴۸) امام ابو حاتم رازی نے کہا: ھذا خطأ۔ یعنی: یہ حدیث غلطی ہے۔ (العلل: ۱/ ۹۶) امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ھو فی الحقیقۃ أضعف شیءیعول علیہ، لان لہ عللا تبطلہ۔ یعنی: لیکن حقیقتیہ ہے کہ اس روایت میں ایسی علّتیں ہیں، جو اس کو باطل قرار دیتی ہیں۔ (التلخیص الحبیر: ۱/ ۲۲۲)
(ج) … امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جزء رفع الیدین میں کہا: امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن ادریس کی کتاب دیکھی، جو انھوں نے (اس حدیث کے راوی) عاصم بن کلیب سے لکھی تھی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ نہیں تھے۔ یہی بات زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اہل علم کے نزدیک کتاب کی بات کو زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
(د) … رفع الیدین کے اثبات والی احادیث انتہائی واضح، محکم اور کثیر تعداد میں موجود ہیں، لہٰذا احادیث ِ صحیحہ کی مخالفت کی وجہ سے اس ضعیف کے ضعف میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ درج بالا حقائق سے معلوم ہوا کہ اس ضعیف حدیث سے رفع الیدین کے نسخ پر دعوی کرنامحض عوامیدھوکا ہے۔
حدیث نمبر: 1539
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَ إِبْهَامَاهُ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے حتی کہ آپ کے انگوٹھے آپ کے کانوں کے برابر ہوجاتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ پوری حدیثیوں ہے: ((کَانَ النَّبِیُُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أِذَا کَبَّرَ لِاِفْتِتَاحِ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ أِلٰی قَرِیْبٍ مِنْ أُذُنَیْہِ ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔)) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آغاز نماز کی (تکبیر تحریمہ) کہتے تو اپنے کانوں کے قریب تک رفع الیدین فرماتے، پھر نہیں لوٹتے تھے (رفع الیدین نہیں کرتے تھے)۔
تبصرہ: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد راوی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱) … امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: ضعیف الحدیث، کان حدیثہ موضوع یعنی: یہ ضعیف الحدیث ہے، گویا اس کی حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ (الجرح والتعدیل: ۹/۲۶۳)
(۲) … اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (نشر الطیب از تھانوی: ۲۴۴)
(۳) … انور شاہ کاشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد سیء الحفظ ہے۔ (العرف الشذی: ۱/۱۶۲)
(۴) … محمد الیاس فیصل دیوبندی ایک دوسری حدیث میں لکھتے ہیں: زیلعی(حنفی) فرماتے ہیں کہ اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (نمازِ پیغمبر: ۸۵)
(۵) … امام ابن ترکمانی حنفی اور امام ابن ہمام حنفی نے بھییزید بن ابی زیاد کا ضعیف ہونا تسلیم کیا ہے۔ (الجوہر النقی: ۱/۳۸۷، ۲/۲۰۸، ۴/۲۶۸، فتح القدیر لابن الھمام: ۲/۱۱۴، ۶/۵۱۵)
(۶) … امام عینی حنفی کہتے ہیں کہ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (عمدۃ القاری: ۲/۲۲۰)
(۷) … عبد القادر القرشی الحنفی (۶۹۶۔۷۷۵ھ) لکھتے ہیں: وقد ضعف الحفاظ ھذا الحدیث من أجل یزید بن أبی زیاد وأنکروا علیہ بسببہ، منھم سفیان بن عیینہ۔ یعنی: اس حدیث کو حفاظ (محدثین) نے یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، اسی کے سبب انھوںنے اس کا انکار کیا ہے، ان محدثین
میں سفیان بن عیینہ بھی شامل ہیں۔ (الحاوی فی بیان آثار الطحاوی: ۱/۴۴۸، ۴۴۹) مزیدیزید بن ابی زیاد کے بارے میں لکھتے ہیں: وقال احمد: لم یکن بالحافظ، وفی روایۃ: لیس حدیثہ بذاک، وقال ابن معین: ضعیف الحدیث، وقال العجلی: کان بآخرہ یلقن، وقال ابو زرعۃ: یکتبحدیثہ ولا یحتج بہ، وقال ابو حاتم: لیس بالقوی، وقال الجوزجانی: سمعتھم یضعفون حدیثہ۔ (ایضاً) نیزیہ بھی ثابت کیا ہے کہ لا یعود کے الفاظ ثابت ہی نہیں ہیں۔
(۸) … محمد ایوب مظاہری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف، کبر فتغیر فصار یتلقن، وکان شیعیا یعنی: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، بڑی عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا، یہ تلقین قبول کرتا ہے اور شیعہ تھا۔ (تراجم الاحبار من رجال شرح معانی الآثار: ۴/۲۴۲)
(۹) … امامِ بریلویت احمد رضا خان بریلوی صاحب نقل کرتے ہیں: یزید بن أبی زیاد وکان یلقن یعنی: یزید بن ابی زیاد تلقین قبول کرتا تھا۔ (فتاوٰی رضویہ: ۲/۴۴۰)
(۱۰) … بوصیری زوائد: ۲/۵۴۹ میں لکھتے ہیں: یزید بن أبی زیاد أخرج لہ مسلم فی المتابعات و ضعفہ الجمھور۔ یعنی: یزید بن ابی زیاد کی امام مسلم ؒنےمتابعاتمیں روایت لی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱۱) … یزید بن ابی زیاد مدلس ہے۔ (طبقات المدلسین لابن حجر: ۴۸، اسماء المدلسین للسیوطی: ۱۰۷)
اہم تنبیہ: … محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لم یعد کا قول یزید بن ابی زیاد کا مدرج قول ہے۔ (المدرج الی المدرج للسیوطی: ۱۶، التلخیص الحبیرلابن حجر: ۱/۱۲۱) امام شعبہ، امام سفیان ثوری، خالد طحان اور دوسرے حفاظ نے ان الفاظ کے بغیریہ حدیث بیان کی ہے۔ امام دارقطنی نے کہا: ان الفاظ کی زیادتی کے بغیر ہی روایت درست ہے، یزید بن ابی زیاد کو چونکہ آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، اس لیے جب اسے ان الفاظ کی تلقین کی گئی تو اس نے تلقین قبول کر لی۔ اس پر مستزاد یہ کہ یزید بن ابی زیاد خود بھی اس زیادتی کا انکار کرتا تھا، علی بن عاصم نے اس زیادتی والی روایت نقل کی، پھر وہ کہتے ہیں: میںکوفہ گیا تو مجھے کہا گیا کہ یزید بن ابی زیاد زندہ ہے، پس میں اس کو ملا اور اس سے یہ حدیث سنی، لیکن اس میں زیادتی والے یہ الفاظ نہیں تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے تو ابن ابی لیلی نے آپ سے جو حدیث بیان کی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ بھی تھے، لیکنیزید نے کہا: مجھے تو وہ الفاظ یاد نہیں ہیں، میں نے پھر اپنا اشکال دوہرایا، لیکن انھوں نے یہی کہا: مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔ (دارقطنی)
الحاصل: … یزید بن ابی زیاد راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے اور مدلس بھی ہے، حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ضعیف اور ثم لَا یَعُوْدُ کے الفاظ کے مدرج ہونے پر اتفاق ہے، لہٰذا اس قسم کی روایت سے حجت پکڑنا سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔ جب حنفی علما نے خود اس حدیث کے راوییزید بن ابی زیاد کو اس طرح ضعیف قرار دیا ہے، تو احناف اس حدیث کو اپنی کتابوں میں درج کرتے وقت اس ضعف کو واضح کیوںنہیں کرتے، کیایہ علمی خیانت نہیں ہے؟ عدم رفع الیدین کے باقی دلائل کا بھییہی حال ہے، جبکہ رفع الیدین کرنے کے دلائل انتہائی واضح اور صحیح ہیں۔
تبصرہ: … یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد راوی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱) … امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں: ضعیف الحدیث، کان حدیثہ موضوع یعنی: یہ ضعیف الحدیث ہے، گویا اس کی حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ (الجرح والتعدیل: ۹/۲۶۳)
(۲) … اشرف علی تھانوی دیوبندی لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (نشر الطیب از تھانوی: ۲۴۴)
(۳) … انور شاہ کاشمیری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد سیء الحفظ ہے۔ (العرف الشذی: ۱/۱۶۲)
(۴) … محمد الیاس فیصل دیوبندی ایک دوسری حدیث میں لکھتے ہیں: زیلعی(حنفی) فرماتے ہیں کہ اس کی سند میںیزید بن ابی زیاد ہے اور وہ ضعیف ہے۔ (نمازِ پیغمبر: ۸۵)
(۵) … امام ابن ترکمانی حنفی اور امام ابن ہمام حنفی نے بھییزید بن ابی زیاد کا ضعیف ہونا تسلیم کیا ہے۔ (الجوہر النقی: ۱/۳۸۷، ۲/۲۰۸، ۴/۲۶۸، فتح القدیر لابن الھمام: ۲/۱۱۴، ۶/۵۱۵)
(۶) … امام عینی حنفی کہتے ہیں کہ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ (عمدۃ القاری: ۲/۲۲۰)
(۷) … عبد القادر القرشی الحنفی (۶۹۶۔۷۷۵ھ) لکھتے ہیں: وقد ضعف الحفاظ ھذا الحدیث من أجل یزید بن أبی زیاد وأنکروا علیہ بسببہ، منھم سفیان بن عیینہ۔ یعنی: اس حدیث کو حفاظ (محدثین) نے یزید بن ابی زیاد کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، اسی کے سبب انھوںنے اس کا انکار کیا ہے، ان محدثین
میں سفیان بن عیینہ بھی شامل ہیں۔ (الحاوی فی بیان آثار الطحاوی: ۱/۴۴۸، ۴۴۹) مزیدیزید بن ابی زیاد کے بارے میں لکھتے ہیں: وقال احمد: لم یکن بالحافظ، وفی روایۃ: لیس حدیثہ بذاک، وقال ابن معین: ضعیف الحدیث، وقال العجلی: کان بآخرہ یلقن، وقال ابو زرعۃ: یکتبحدیثہ ولا یحتج بہ، وقال ابو حاتم: لیس بالقوی، وقال الجوزجانی: سمعتھم یضعفون حدیثہ۔ (ایضاً) نیزیہ بھی ثابت کیا ہے کہ لا یعود کے الفاظ ثابت ہی نہیں ہیں۔
(۸) … محمد ایوب مظاہری دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: یزید بن ابی زیاد ضعیف، کبر فتغیر فصار یتلقن، وکان شیعیا یعنی: یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے، بڑی عمر میں حافظہ بگڑ گیا تھا، یہ تلقین قبول کرتا ہے اور شیعہ تھا۔ (تراجم الاحبار من رجال شرح معانی الآثار: ۴/۲۴۲)
(۹) … امامِ بریلویت احمد رضا خان بریلوی صاحب نقل کرتے ہیں: یزید بن أبی زیاد وکان یلقن یعنی: یزید بن ابی زیاد تلقین قبول کرتا تھا۔ (فتاوٰی رضویہ: ۲/۴۴۰)
(۱۰) … بوصیری زوائد: ۲/۵۴۹ میں لکھتے ہیں: یزید بن أبی زیاد أخرج لہ مسلم فی المتابعات و ضعفہ الجمھور۔ یعنی: یزید بن ابی زیاد کی امام مسلم ؒنےمتابعاتمیں روایت لی ہے، جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(۱۱) … یزید بن ابی زیاد مدلس ہے۔ (طبقات المدلسین لابن حجر: ۴۸، اسماء المدلسین للسیوطی: ۱۰۷)
اہم تنبیہ: … محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ لم یعد کا قول یزید بن ابی زیاد کا مدرج قول ہے۔ (المدرج الی المدرج للسیوطی: ۱۶، التلخیص الحبیرلابن حجر: ۱/۱۲۱) امام شعبہ، امام سفیان ثوری، خالد طحان اور دوسرے حفاظ نے ان الفاظ کے بغیریہ حدیث بیان کی ہے۔ امام دارقطنی نے کہا: ان الفاظ کی زیادتی کے بغیر ہی روایت درست ہے، یزید بن ابی زیاد کو چونکہ آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، اس لیے جب اسے ان الفاظ کی تلقین کی گئی تو اس نے تلقین قبول کر لی۔ اس پر مستزاد یہ کہ یزید بن ابی زیاد خود بھی اس زیادتی کا انکار کرتا تھا، علی بن عاصم نے اس زیادتی والی روایت نقل کی، پھر وہ کہتے ہیں: میںکوفہ گیا تو مجھے کہا گیا کہ یزید بن ابی زیاد زندہ ہے، پس میں اس کو ملا اور اس سے یہ حدیث سنی، لیکن اس میں زیادتی والے یہ الفاظ نہیں تھے۔ میں نے کہا کہ مجھے تو ابن ابی لیلی نے آپ سے جو حدیث بیان کی، اس میں لَمْ یَعُدْ کے الفاظ بھی تھے، لیکنیزید نے کہا: مجھے تو وہ الفاظ یاد نہیں ہیں، میں نے پھر اپنا اشکال دوہرایا، لیکن انھوں نے یہی کہا: مجھے یہ الفاظ یاد نہیں ہیں۔ (دارقطنی)
الحاصل: … یزید بن ابی زیاد راوی جمہور کے نزدیک ضعیف ہے اور مدلس بھی ہے، حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ضعیف اور ثم لَا یَعُوْدُ کے الفاظ کے مدرج ہونے پر اتفاق ہے، لہٰذا اس قسم کی روایت سے حجت پکڑنا سراسر دھوکہ اور فریب ہے۔ جب حنفی علما نے خود اس حدیث کے راوییزید بن ابی زیاد کو اس طرح ضعیف قرار دیا ہے، تو احناف اس حدیث کو اپنی کتابوں میں درج کرتے وقت اس ضعف کو واضح کیوںنہیں کرتے، کیایہ علمی خیانت نہیں ہے؟ عدم رفع الیدین کے باقی دلائل کا بھییہی حال ہے، جبکہ رفع الیدین کرنے کے دلائل انتہائی واضح اور صحیح ہیں۔
حدیث نمبر: 1540
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ وَضْعَ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ تَحْتَ السُّرَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز میں ہتھیلیوں کو ہتھیلیوں پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔
حدیث نمبر: 1541
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى الْيُمْنَى فَانْتَزَعَهَا وَوَضَعَ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ،وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ نکال کر دائیں کو بائیں پر رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 1542
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا فَيَأْخُذُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، وَكَانَ يَنْصَرِفُ عَنْ جَانِبَيْهِ جَمِيعًا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قبیصہ بن ھلب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں امامت کرواتے تھے، آپ اپنے بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں کے ساتھ پکڑتے اور آپ (سلام پھیرنے کے بعدکبھی) دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی بائیں طرف سے۔
حدیث نمبر: 1543
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ، وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھے ہوئے دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) دائیں طرف سے بھی پھرتے تھے اور بائیں طرف سے بھی۔
حدیث نمبر: 1544
(وَفِي لَفْظٍ) وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِهِ وَمَرَّةً عَنْ شِمَالِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ بسا اوقات آپ دائیں طرف سے پھرتے اور کبھی کبھار بائیں طرف سے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی دوسری سند والا متن صحیح ہے، اس سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر باندھنا چاہیے اور امام سلام پھیرنے کے بعد دونوں جہتوں سے پھر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1545
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعُوا الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا يَنْمِي ذَلِكَ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: يَنْمِي يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کو نماز میں بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا۔ ابو حازم کہتے ہیں: میں نہیں جانتا مگر وہ اسے منسوب کرتے ۔ ابو عبد الرحمن کہتے ہیں :یعنی وہ مرفوع بیان کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1546
عَنْ غَضِيفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ، مَا نَسِيتُ (وَفِي رِوَايَةٍ لَمْ أَنْسَ) أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:(جو کچھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا یا دیکھا، اس میں سے) کوئی چیز بھی میں نہیں بھولا، میں یہ بات بھی نہیں بھولا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ہوا تھا۔