کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز کے افتتاح او ر اس میں خشوع کا بیان
حدیث نمبر: 1524
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطَّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ (وَفِي لَفْظٍ) مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الْوُضُوءُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی چابی وضو ہے اور اس کی تحریم اللہ اکبر ہی ہے اور اس کی تحلیل سلام ہی ہے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: نماز کی چابی وضو او راس کی تحریم اللہ اکبر ہی کہنا او راس کی تحلیل سلام پھیرنا ہی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … تحریم سے مراد یہ ہے کہ وہ تمام امور حرام ہو جاتے ہیں، جو نماز کے اندر ناجائز ہیں، اور تحلیل سے مطلب یہ ہے کہ جو امور نماز کی وجہ سے حرام ہو گئے تھے، وہ حلال ہو گئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز میں داخل ہونے کے لیے صرف اللہ اکبر کہا جائے گا اور نماز سے خارج ہونے کے لیے صرف سلام کہا جائے گا۔ چونکہ حدیث ِ مبارکہ میں مذکورہ آخری دو جملوں میں خبر مقدم اور مبتدا مؤخر ہے، اس لیے معنی میں حصر پیدا ہو گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ ہر اس لفظ سے نماز شروع کی جا سکتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم پائی جاتی ہو، مثلا: اَلرَّحْمٰنُ اَکْبَرُ، اَللّٰہُ اَجَلُّ، اَللّٰہُ اَعْظَمُ لیکن اس موضوع کی احادیث کی روشنی مین یہ رائے درست نہیں ہے، سلف و خلف میں سے جمہور اہل علم نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال و اوامر سے لفظ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ہی ثابت ہوتا ہے، مثلا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تکبیر (یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرُ) کہتے۔ (صحیح مسلم: ۴۹۸) سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہوتے، ہاتھ بلند کرتے اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہتے۔(ابن ماجہ: ۸۰۳) سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ((اِرْجِعْ فَصَلِّ فَاِنَّکَ لَمْ تُصَلِّ)) یعنی لوٹ جا اور (دوبارہ) نماز پڑھ، بلاشبہ تو نے تو نماز نہیں پڑھی۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، بالآخر اس آدمی نے التماس کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے نماز سکھا دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا قُمْتَ اِلَی الصَّلَاۃِ، فَاَسْبِغِ الْوُضُوْئَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ فَکَبِّرْ …۔)) یعنی جب تو نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو مکمل وضوء کر، پھر قبلہ کی طرف متوجہ اور تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہہ …۔ (صحیح بخاری: ۶۲۵۱، صحیح مسلم: ۳۹۷، سنن اربعہ) جبکہ سیّدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیء الصلاۃکے متعلق فرمایا: ((اِنَّہٗلَاتَتِمُّصَلَاۃٌ لِاَحَدٍ مِنَ النَّاسِ حَتّٰییَتَوَضَّأَ، ثُمَّ یُکَبِّرَ …۔)) یعنی کسی کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہو گی جب تک (یہ اعمال اداء نہ کرے) وہ وضوء کرے، پھر تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہے …۔ (ابوداود: ۸۵۷) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے ساتھ نماز شروع کی اور فرمایا: ((صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ۔)) یعنی تم نماز اس طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔ (صحیح بخاری: ۶۳۱) ابن ہمام حنفی اَللّٰہُ اَکْبَرُ کے ساتھ نماز شروع کرنے کو واجب سمجھتے ہیں۔ (فتح القدیر: ۱/۲۸۴) دیگر دلائل بھی موجود ہیں، اس لیے مزید کسی رائے میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1524
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 61، 618، وابن ماجه: 275، والترمذي: 3 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1006، 1072)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1072»
حدیث نمبر: 1525
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى، تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَضَرَّعُ وَتَخَشَّعُ وَتَمَسْكَنُ ثّمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ تَقُولُ تَرْفَعَهُمَا إِلَى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ، تَقُولُ يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ … )) فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، ہر دو رکعتوں میں تشہد پڑھے ، عاجزی کرے، خشوع اختیار کرے اورمسکینی کا اظہار کرے، پھر تو اپنے ہاتھ اپنے رب کی طرف اٹھا اور ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ اپنے چہرے کی طرف کہہ: ا ے میرے رب! اے میرے رب! جو شخص ایسے نہیں کرتا، وہ … ۔ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت بات کہی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال دوران نماز خشوع و خضوع کا اظہار مطلوب ِ شریعت اور روحِ نماز ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1525
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن نافع بن العمياء مجھول، قال البخاري في تاريخه : لم يصح حديثه، وقال الدارقطني: ضعيف، أخرجه الترمذي: 385 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1799 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1799»
حدیث نمبر: 1526
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَٰهُنَا؟ مَا يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ خُشُوعِكُمْ وَرُكُوعِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرا قبلہ یہاں (سامنے کی طرف) سمجھتے ہو؟ (یادر کھو کہ) تمہارے خشوع اور رکوع میں سے کوئی چیز مجھ پر مخفی نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1526
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 418، 741، ومسلم: 423 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8024)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8756»
حدیث نمبر: 1527
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَرَى خُشُوعَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں تمہارا خشوع دیکھتا ہوں ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اعلامِ نبوت میں سے ہے اور عقلی و شرعی طور پر یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے کہ دورانِ نماز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مقتدیوں کی کیفیت کو دیکھ رہے ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے بڑے معجزا ت سے نواز رکھا تھا۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ ادراک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گدی میں تھا، جس کے ذریعے آپ دیکھ لیتے ہوں، یا حقیقی آنکھوں سے ہی نظر آتا تھا۔ بہتر یہ ہے کہ اس کی کیفیت کو اس کے جاننے والے کے سپرد کر دیا جائے اور اس معجزے کو اس طرح تسلیم کر لیا، جس طرح کہ صحابہ کرام نے کیا تھا کہ سن کر چپ ہو گئے اور اس کی کیفیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا۔ بہرحال مقصودِ حدیثیہ ہے کہ رکوع و سجود کو مکمل کرتے ہوئے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1527
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7333)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7329»
حدیث نمبر: 1528
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَلِصَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مطرف اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے سے ہنڈیاکے ابلنے جیسی آواز آ رہی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1528
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسنادھما صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 904 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16312، 16317)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16426»
حدیث نمبر: 1529
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي صَدْرِهِ أَزِيزٌ كَأَزِيزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے سینے میں رونے کی وجہ سے ہنڈیا کے ابلنے جیسی آواز آرہی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1529
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16421»
حدیث نمبر: 1530
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دو رکعتیں پڑھتا ہے اور ان میں وہ غافل نہیں ہوتا تو اللہ اس کے پچھلے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرنا نماز کی روح ہے، یہ دل کی خشیت اور بدن کے سکون سے عبارت ہے۔ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشوع و خضوع کی خاطر کئی صورتوں میں نماز پڑھنے سے منع کر دیا ہے، مثلا جب بھوک لگی ہوئی ہو اور کھانا موجود ہو اور جب بندے نے قضائے حاجت کرنی ہو۔ علی ہذا القیاس۔ درج ذیل احادیث و اقوال سے خشوع کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع مین یہ دعا پڑھتے تھے: ((اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ اَسْلَمْتُ اَنْتَ رَبِّیْ خَشَعَ لَکَ سَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَمُخِّیْ وَعَظْمِیْ وَعَصَبِیْ۔)) (صحیح مسلم: ۱/ ۲۷۳) یعنی: اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا فرمانبردار ہوا، تو میرا رب ہے، تیرے لیے میرے کان، آنکھ، دماغ، ہڈی اور پٹھے نے خشوع کیا۔ ثابت ہوا کہ خشوع کا تعلق قلوب و اذہان اور اعضاء و جوارح سب کے ساتھ ہے۔ سیّدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ الرَّجُلَ لَیَنْصَرِفُ وَمَا کُتِبَ لَہٗاِلَّاعُشْرُصَلَاتِہٖتُسْعُھَا،ثُمُنُھَا،سُبْعُھَا،سُدُسُھَا،خُمُسُھَا، رُبُعُھَا، ثُلُثُھَا، نِصْفُھَا۔)) (ابوداود: ۷۹۶) یعنی: بیشک آدمی نماز سے فارغ ہو رہا ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے نہیں لکھا جاتا، مگر نماز کا دسواں حصہ، نواں حصہ، آٹھواں حصہ، ساتواں حصہ، پانچواں حصہ، چوتھا حصہ، تیسرا حصہ اور نصف۔ یہ حدیث انتہائی قابل غور ہے کہ سب نمازیوں کی نمازوں کی مقدار تو تقریبا ایک ہوتی ہے، مثلا رکعات و تسبیحات کی تعداد، لیکن اجر و ثواب میں اتنی کمی بیشی ہو جاتی ہے، تو اس فرق کی بنیاد معیار پر ہے، سارے نمازی نماز ظہر کی فرض رکعتیں تو چار ہی پڑھتے ہیں، لیکن بعض کا معیار اتنا کم ہوتا ہے کہ اسے پوری نماز کے بجائے دسواں حصہ ثواب ملتا ہے، یقینا اس چیز کی بنیاد خشوع و خضوع پر ہے۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں: ھیئۃ فی النفس یظھر منھا فی الجوارح سکون وتواضع۔ (تفسیر قرطبی: ۱/ ۳۷۴)
یعنی: خشوع دل میں ایسی ہیئت کا نام ہے، جس سے اعضاء میں سکون و تواضع ظاہر ہوتا ہے۔ جناب ِ حسن بصری کہتے ہیں: کان خشوعھم فی قلوبھم فغضوا بذالک ابصارھم وخفضوا لذالک الجناح۔ (الدر المنثور: ۵/ ۳)
یعنی: ان کا خشوع دل میں ہوتا تھا، جس کی بنا پر وہ اپنی آنکھوں کو پست اور پہلو کو جھکا لیتے ہیں۔ جناب جنید کہتے ہیں: الخشوع تذلل القلوب لعلام الغیوب۔ (الضوء المنیر: ۴/ ۳۰۴)
یعنی: علام الغیوب کے سامنے دلوں کی عاجزی و انکساری کا نام خشوع ہے۔ گویا خشوع کا اصل مرکز دل ہے اور اس کا اثر اعضاء و جوارح پر ہوتا ہے۔ سعید بن مسیب نے دیکھا کہ ایک نمازی، نماز میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھر رہا تھا تو انہوں نے کہا: لو خشع قلب ھذا خشعت جوارحہ۔ یعنی: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ علامہ شوکانی کہتے ہیں: وادعی عبد الواحد بن زید اجماع العلماء علی انہ لیس للعبد الا ما عقل من صلاتہ۔ (فتح القدیر: ۳/ ۴۵۹)
یعنی: عبد الواحد بن زید نے اہل علم کے اجماع کا دعوی کیا ہے کہ نماز میں سے بندے کے لیے اتنا حصہ ہے، جتنا وہ سمجھتا ہے۔ اس زمانے میں اکثر لوگوں کی نمازیں خشوع و خضوع سے خالی ہیں، اتنی عظیم عبادت میں رٹے رٹائے کلمات ادا کیے جا رہے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو لمبی نماز میں سکون نہیں آتا، ان کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ نماز باجماعت میں تاخیر ہو رہی ہے یا جماعت سرے سے رہ گئی ہے۔ ہر شخص کو درج بالا احادیث و آثار کی روشنی میں اپنا اپنا جائزہ لینا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1530
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا سند منقطع، فان زيد بن اسلم لم يسمع من زيد بن خالد، أخرجه ابوداود: 905 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17054، 21691)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22033»