کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز کے جامع طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 1510
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّكْبِيرِ، وَالْقِرَاءَةَ بِالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِذَا رَكَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ، وَلَكِنْ بَيْنَ ذَلِكَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَاعِدًا وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز، تکبیر سے اور قراءت {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ} سے شروع کرتے تھے، جب رکوع کرتے تو اپنا سر نہ زیادہ اٹھاتے اور نہ زیادہ جھکاتے، بلکہ اس کے درمیان رکھتے، جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو کھڑے ہوکر سیدھا ہو جانے تک سجدہ نہ کرتے، جب سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو بیٹھ کر برابر ہونے تک (دوسرا) سجدہ نہ کرتے، ہر دو رکعتوں کے بعد اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہ … پڑھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ کوئی (دوران سجدہ) درندے کی طرح بازو بچھائے،جب آپ بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا دیتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور نماز کو سلام کے ساتھ ختم کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت کا بیان ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ اس صورت سے معلوم ہوا کہ دوسجدوںکے درمیان بیٹھنے کے دو طریقے ہیں: (۱) دائیاں پاؤں کھڑا رکھنا اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور (۲) دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا، اسی صورت کو اقعاء کہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپناتے ہوئے مختلف اوقات میں دونوں طریقوں پر عمل کیا کریں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی سنت رہ نہ جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1510
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا مسلم: 498 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030، 25617)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26135»
حدیث نمبر: 1511
عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَلَا أَرِيكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَقُلْنَا: بَلَى، قَالَ: فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ سَجَدَ حَتَّى أَخَذَ كُلُّ عُضْوٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ رَفَعَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قاسم کہتے ہیں: ہم عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ کہنے لگے کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں ؟ ہم نے جواب دیا:کیوں نہیں، قاسم کہتے ہیں: پس انہوں نے کھڑے ہوکر اللہ اکبر کہا، پھر قرا ءت کرکے جب رکوع کیا تواپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے (اور اتنی دیر ٹھہرے کہ) ہر عضو اپنی جگہ پر مطمئن ہو گیا، پھر (رکوع سے) اٹھے (اور اتنی دیر قومہ کیا کہ) ہر عضو نے اپنی جگہ پر قرار پکڑ لیا، پھر سجدہ کیا حتی کہ ہرعضو اپنی جگہ پر پرسکون ہو گیا، پھر ( سجدہ سے) اٹھے، پھردوسری رکعت میں ویسے ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسے ہی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … مطمئن ہونے، قرار پکڑنے اور پرسکون ہونے سے مراد یہ ہے کہ اطمینان کے ساتھ رکوع و سجود اور قومہ و جلسہ کو ادا کیا جائے اور جلدی نہ کی جائے۔ آجکل اکثر نمازیوں کی صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1511
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 5/ 174، وفي الباب احاديث اخري ثابتة۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15371)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15445»
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَةُ ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيَّ أَخْبَرَهُ قَالَ: قُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ قَامَ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ) فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا أُذُنَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى كَانَتَا حَذْوَ مَنْكَبَيْهِ) ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ الْيُسْرَى وَالرُّسْغِ وَالسَّاعِدِ، ثُمَّ قَالَ: لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا فَلَمَّا رَكَعَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ مِثْلَهَا، ثُمَّ سَجَدَ فَجَعَلَ كَفَّيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً (وَفِي رِوَايَةٍ: حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا، ثُمَّ جِئْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي زَمَانٍ فِيهِ بَرْدٌ فَرَأَيْتُ النَّاسَ عَلَيْهِمُ الثِّيَابُ تَحَرَّكُ أَيْدِيهِمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ مِنَ الْبَرْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ پس میں نے دیکھاکہ آپ کھڑے ہو کر قبلہ رخ ہوئے، اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھ کانوں تک یا کندھوں تک اٹھائے۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کی پشت، گٹ اور بازو پر رکھا، جب آ پ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اسی طرح رفع الیدین کیا، رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے ، (رکوع سے) سر اٹھاتے وقت اسی طرح رفع الیدین کیا، پھر سجدہ کیااور اپنی ہتھیلیوں کو اپنے کانوں کے برابر رکھا، جب آپ بیٹھے تو بایاں پاؤں بچھا لیا اور اپنی بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کے کنارے کو دائیں ران پر کیا، پھر (دائیں ہاتھ کی) انگلیاں اس طرح بند کیں کہ انگوٹھے اوردرمیانی انگلی کا حلقہ بنا لیا اور شہادت کی انگلی کو اٹھا کر اس سے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ اس انگلی کو حرکت دے رہے تھے اور اس سے دعا کر رہے تھے۔ اس کے بعد میں ایسے زمانے میں آیا جس میں سردی تھی، میں نے دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے اور سردی کی وجہ سے ان کے ہاتھ کپڑوں کے نیچے سے حرکت کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن نسائی (۸۸۹) کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((وَحَلَقَ حَلْقَۃً ثُمَّ رَفَعَ اِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُیُحَرِّکُھَایَدْعُوْ بِھَا۔)) یعنی: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلقہ بناکر انگلی کو اٹھایا، پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے حرکت دے رہے تھے اور دعا کر رہے تھے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس جملے سمیت مکمل حدیث کو صحیح کہا اور یہی بات راجح ہے۔ بہرحال تشہد کے دروان انگشت ِ شہادت کو حرکت نہ دینا اور صرف اٹھا کر رکھنا بھی درست ہے۔
اس کی دلیل بیان نہیں کی گئی۔ اصل یہ ہے کہ نماز کا جو کام و عمل قابلِ حجت حدیث سے ثابت ہو جائے اس پر عمل ہونا چاہیے اور اس پر ترغیب کا اہتمام بھی۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1512
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: فرأيتهيحركھايدعو بھا فھو شاذ انفرد به زائدة بن قدامة من بين اصحاب عاصم بن كليب ، أخرجه مسلم مختصرا: 401، وأخرجه ابوداود: 727، والنسائي: 2/126 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18866، 18870)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19076»
حدیث نمبر: 1513
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ: أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَعَلَى النَّاسِ ثِيَابٌ فِيهَا الْبَرَانِسُ وَالْأَكْسِيَةُ فَرَأَيْتُهُمْ يَقُولُونَ هَٰكَذَا تَحْتَ الثِّيَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)اس میں ہے: سیّدنا وائل بن حجر کہتے ہیں: میں آپ کے پاس دوسری مرتبہ آیا اور دیکھا کہ لوگوں پر کپڑے تھے، ان میں ٹوپیوں والے ملبوسات اور چادریں بھی تھیں، میں نے دیکھا کہ وہ کپڑوں کے نیچے ایسے کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1513
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 22/ 84، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19082»
حدیث نمبر: 1514
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ أَشَارَ بِسَبَّابَتِهِ وَوَضَعَ الْإِبْهَامَ عَلَى الْوُسْطَى وَقَبَضَ سَائِرَ أَصَابِعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) اس میں ہے: سیّدنا وائل بن حجر کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھا،اور اپنے دائیں بازو کواپنی دائیں ران پر رکھا، پھر انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا، انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھا اور باقی ساری انگلیاں بند کرلیں۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین ذہن نشین کر لیں کہ سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ۹ ھ میں مسلمان ہوئے، یہ اگلے سال سردی کے موسم میں دوبارہ تشریف لائے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری موسم سردا تھا۔ (دیکھئے: عمدۃ القاری: ۵/ ۲۷۴، صحیح ابن حبان: ۳/ ۱۶۹) انھوں نے دونوں موقعوں پر رفع الیدین کی حدیث بیان کی۔ رفع الیدین کے منسوخ ہونے کا بے بنیاد دعوی کرنے والے متنبہ رہیں۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۱۰ ھ میں رفع الیدین کرنے کی دلیل موجود ہے اور گیارہویں سن ہجری کے تیسرے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1514
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه عبد الرزاق: 2522، والطبراني في الكبير : 22/81، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18858)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19064»
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَمَّامٌ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلَى لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَصَفَّ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنَ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا فَكَبَّرَ فَرَكَعَ، فَلَمَّا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ كَفَّيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں داخل ہوئے تو کانوں کے برابر تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کپڑا لپیٹ لیااوراپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا، جب رکوع کرنے لگے تو اپنے ہاتھ کپڑے سے نکالے ، رفع الیدین کیا اوراللہ اکبر کہہ کر رکوع کیا، پھر جب سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو رفع الیدین کیا، جب سجدہ کیا تو اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … پچھلی حدیث کے مطابق اگرچہ صحابہ کرام کپڑوں کے نیچے ہی رفع الیدین کر لیا کرتے تھے، لیکن اس حدیث ِ مبارکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہتمام کا علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رفع الیدین کرتے وقت اپنے ہاتھ کپڑے سے باہر نکالے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1515
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 401 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18866)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19072»
حدیث نمبر: 1516
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ الْبَرَّادُ قَالَ: وَكَانَ عِنْدِي أَوْثَقُ مِنْ نَفْسِي قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَكَبَّرَ فَرَكَعَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفُصِّلَتْ أَصَابِعُهُ عَلَى سَاقَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ مِنْ وَرَاءِ رُكْبَتَيْهِ) وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ وَجَافَى عَنْ إِبْطَيْهِ حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاسْتَوَى جَالِسًا حَتَّى اسْتَقَرَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنْهُ، ثُمَّ سَجَدَ الثَّانِيَةَ فَصَلَّى بِنَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ هَٰكَذَا، ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سالم برّاد کہتے ہیں کہ سیّدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والی نماز نہ پڑھاؤں ؟ پھر انہوں نے اللہ اکبرکہہ کر رکوع کیا، اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھیں اور ان کی انگلیاں ان کی پنڈلیوں پر بکھری ہوئی تھیں (ایک روایت کے مطابق )گھٹنوں سے آگے انگلیوں کے درمیان کشادگی کی ہوئی تھی اور اپنے بازؤں کوبغلوں سے علیحدہ رکھا ہوا تھا، (رکوع میں اتنی دیر لگائی کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹھہر گیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر سیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہر عضو اپنی جگہ پر قرار پکڑ گیا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا، سجدہ میں بازوؤں کو بغلوں سے علیحدہ رکھا اور اتنی دیر لگائی کہ ہر عضو اپنی جگہ پر ٹھہر گیا، پھر سجدے سے سر اٹھایااور بیٹھ کر برابر ہوگئے حتی کہ ہر عضو اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا، پھر دوسرا سجدہ کیا، اس طریقے سے انھوں نے ہمیں چار رکعتیں پڑھا کر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ایسے ہی تھی،نیز کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1516
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مطولا ومختصرا ابوداود: 863، والنسائي: 2/ 186 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17204»
حدیث نمبر: 1517
عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ يَوْمًا: أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَذَلِكَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ فَأَمْكَنَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَمْكَنَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَانْتَصَبَ قَائِمًا هُنَيَّةً ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ فِي الْجُلُوسِ، ثُمَّ انْتَظَرَ هُنَيَّةً ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَصَلَّى صَلَاةً كَصَلَاةِ شَيْخِنَا هَٰذَا يَعْنِي عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ الْجَرْمِيَّ وَكَانَ يَوْمُعَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَيُّوبُ: فَرَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ سَلَمَةَ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ اسْتَوَى قَاعِدًا ثُمَّ قَامَ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَالثَّالِثَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مالک بن حویرث لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ دکھاؤں کہ وہ کیسی تھی؟جبکہ یہ نماز کا وقت نہیں تھا۔ پھر (انھوں نے نماز شروع کر دی) قیام کیا اور اچھا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور اچھا رکوع کیا، پھر ( رکوع سے) اپنا سر اٹھایا اور کچھ دیر سیدھے کھڑے رہے پھر سجدہ کیا، پھر (سجدے سے) اپنا سر اٹھایا، وہ بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے، پھر کچھ انتظار کرکے (دوسرا) سجدہ کیا ۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: انہوں نے ہمارے شیخ سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کی نماز جیسی نماز پڑھائی اور یہ (عمرو بن سلمہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں امامت کرواتے تھے۔ ایوب کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو ایک کام کرتے ہوئے دیکھا تھا، تم وہ کام نہیں کرتے اور وہ یہ ہے کہ وہ پہلی اور تیسری رکعت میں جب دو سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے تو سیدھے بیٹھ جاتے پھر اگلی رکعت کے لیے اٹھتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے میں جلسۂ استراحت کا ذکر ہے، یعنی پہلی اور تیسری رکعت کے دو سجدوں کے بعد کچھ دیر کے لیے بیٹھا جائے اور پھر دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، اس وقت اکثر نمازی اس چیز کو چھوڑ چکے ہیں۔ نیز ان احادیث میں اعتدال اور اطمینان کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1517
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 802، 818 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20539)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20813»
حدیث نمبر: 1518
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَمَعَ قَوْمَهُ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ! اجْتَمِعُوا وَاجْمَعُوا نِسَاءَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ أُعَلِّمُكُمْ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا بِالْمَدِينَةِ، فَاجْتَمَعُوا وَجَمَعُوا نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَتَوَضَّأَ وَأَرَاهُمْ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ فَأَحْصَى الْوَضُوءَ إِلَى أَمَاكِنِهِ حَتَّى لَمَّا أَنْ فَاءَ الْفَيْءُ وَانْكَسَرَ الظِّلُّ قَامَ فَأَذَّنَ فَصَفَّ الرِّجَالَ فِي أَدْنَى الصَّفِّ، وَصَفَّ الْوِلْدَانَ خَلْفَهُمْ، وَصَفَّ النِّسَاءَ خَلْفَ الْوِلْدَانِ، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَكَبَّرَ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ يُسِرُّهَا، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَاسْتَوَى قَائِمًا، ثُمَّ كَبَّرَ وَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَانْتَهَضَ قَائِمًا، فَكَانَ تَكْبِيرُهُ فِي أَوَّلَ رَكْعَةٍ سِتِّ تَكْبِيرَاتٍ وَكَبَّرَ حِينَ قَامَ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى قَوْمِهِ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: احْفَظُوا تَكْبِيرِي، وَتَعَلَّمُوا رُكُوعِي وَسُجُودِي، فَإِنَّهَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي لَنَا كَذَا السَّاعَةَ مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ إِلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمْ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ)) فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! نَاسٌ مِنَ النَّاسِ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ، انْعَتْهُمْ لَنَا يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ، تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافُوا، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا، فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا وَثِيَابَهُمْ نُورًا، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا يَحْزَنُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد الرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو جمع کیا اور کہا: اشعریوں کی جماعت! خود بھی جمع ہو جاؤ اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلو، میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ نماز سکھاتا ہوں جو آپ ہمیں مدینہ میں پڑھایا کرتے تھے۔ پس وہ جمع ہوگئے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں کو بھی جمع کرلیا۔ سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے وضوکیا اور انہیں دکھایا آپ کیسے وضو کرتے تھے، انھوں نے اعضائے وضو تک وضو کا پانی اچھی طرح پہنچایا۔ پھر جب سایہ( مغرب سے مشرق کی طرف) لوٹ آیا اور سایہ مائل ہوگیا تو انھوں نے کھڑے ہوکر (ظہر کی) اذان دی، پھر سب سے آگے مردوں کی صف بنائی،ان کے پیچھے بچوں کی اور بچوں کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی ، پھر اقامت کہہ کر آگے کھڑے ہوگئے، رفع الیدین کیا اور تکبیر کہی پھر سورۂ فاتحہ اور مزید ایک سورت کی سرّاً تلاوت کی، پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا، تین مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور کھڑے ہو کر سیدھے ہوگئے، پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور (سجدے سے) سر اٹھایا، پھر تکبیر کہہ کر سجدہ کیا ، پھر تکبیر کہی اور اٹھ کھڑے ہوئے، پہلی رکعت میں ان کی کل چھ تکبیریں ہو گئیں، جب وہ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تھے تو تکبیر کہی تھی ، جب انھوں نے اپنی نماز پوری کرلی تو اپنی قوم کے طرف منہ کرکے کہا: میری تکبیریں یاد کرلو، اور یہ رکوع و سجود بھی سمجھ لو،کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ نماز ہے جو آپ ہمیں دن کے اسی وقت پڑھایا کرتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نماز پوری کی تھی تو اپنا چہرہ لوگوں کی طرف کرکے فرمایا تھا: لوگو! سنو ،سمجھو اور جان لو کہ اللہ کے بندے، جو نہ نبی ہیں نہ شہید، لیکن ان کے مقام او راللہ کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ دور والے لوگوں سے ایک بدو آیا اور اپنے ہاتھ سے اللہ کے نبی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! لوگوں سے کچھ لوگ، جو نبی ہیں نہ شہید،لیکن ان کے مقام او ر اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے، ہمیں ان کے اوصاف تو بتائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اعرابی کے سوال کی وجہ سے خوش ہوگیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غیر معروف اور قبیلوں سے نکلے ہوئے ایسے لوگ ہیں جن کی آپس میں کوئی قریبی رشتہ داریاں نہیں ہیں، لیکن وہ صرف اللہ کے لیے آپس میں محبت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے حق میں صاف ہیں، قیامت کے دن اللہ ان کے لیے نور کے منبر رکھے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا اور ان چہروں اور کپڑوں کو نور بنادے گا، قیامت کے دن لوگ گھبرائیں گے، لیکن یہ نہیں گھبرائیں گے ، بلکہ یہ اللہ کے وہ ولی ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ پریشان ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا آخری حصہ درج ذیل شاہد کی بنا پر صحیح ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إنَّ لِلّہِ عِبَادًا لَیْسُوْا بِأنْبِیَائَ وَلَا شُھَدَائَ، یَغْبِطُھُمُ الشُّھَدَائُ وَالأنْبَیَائُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، لِقُرْبِھِمْ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ وَمَجْلِسِھِمْ مِنْہُ فَجَثَا أعْرَابِیٌّ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! صِفْھُمْ لَنَا وَجَلِّھِمْ لَنَا۔ قَالَ: قَوْمٌ مِنْ أفْنَائِ النَّاسِ، مِنْ نُزّاعِ الْقَبَائِلِ، تَصَادَقُوْا فِی اللّٰہِ، فَتَحَابُّوْا فِیْہِ،یَضَعُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنَابِرَ مِنْ نُوْرٍ، یَخَافُ الناسُ وَلَا یَخَافُوْنَ، ھُمْ أوْلِیَائُ اللّٰہِ۔ عَزَّوَجَلَّ۔ اَلَّذِیْنَ {لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ}۔)) (مستدرک حاکم: ۴/ ۱۷۰، صحیحہ:۳۴۶۴) اللہ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں، جو انبیا ہیں نہ شہدئ، لیکن شہدا و انبیا اُن پر رشک کریں گے،اس کی وجہ ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب اور اس کے ساتھ مجلس ہو گی۔ ایک اعرابی اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!ہمارے لیے ان کی صفات بیان کرو اور ان کو واضح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ غیر معروف قبائل کے نامعلوم النسب لوگ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کے لیے باہم دوستی رکھیں گے اور اور اسی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کریں گے، قیامت کے روز اللہ عزوجل اُن کے لیے نور کے منبر رکھے گا۔ دوسرے لوگ خوفزدہ ہوں گے، لیکن ان کو کوئی خوف نہیں ہو گا۔یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے اولیا ہیں کہ (فرمانِ الٰہی کے مطابق) جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ تخریـج: … أخرج الحاکم في المستدرک: ۴/۱۷۰۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1518
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 417، وابوداود: 677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22893، 22906، 22918)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23294»
حدیث نمبر: 1519
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلَهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قراءت اور قیام میں چاروں رکعتوں کے درمیان برابری کرتے تھے، البتہ پہلی رکعت کو ذرا لمبا کر لیتے تھے تاکہ (اسی رکعت میں) زیادہ لوگ پہنچ جائیں،مردوں کو بچوں کے آگے اور بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور جب سجدہ کرتے او رجب (سجدے سے) اٹھتے تو اللہ اکبرکہتے اورجب دو رکعتو ں کے بعد بیٹھ کر اٹھتے تو پھر اللہ اکبرکہتے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1519
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب ، انظر الحديث: 278 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22911)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23299»
حدیث نمبر: 1520
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ بْنُ رِبْعِيٍّ يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لَهُ: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا صُحْبَةً وَلَا أَكْثَرَنَا لَهُ تِبَاعَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اعْتَدَلَ قَائِمًا وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَى بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ فَرَكَعَ ثُمَّ اعْتَدَلَ فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ رَفَعَ وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ جَافَى وَفَتَحَ عَضُدَيْهِ عَنْ بَطْنِهِ، وَفَتَحَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَيْهَا وَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ هَوَى سَاجِدًا وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ ثَنَى رِجْلَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَضْوٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ نَهَضَ فَصَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ صَنَعَ كَذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّكْعَةُ الَّتِي تَنْقَضِي فِيهَا الصَّلَاةُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ عَلَى شِقِّهِ مُتَوَرِّكًا ثُمَّ سَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عطاء کہتے ہیں: سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دس صحابہ میں موجود تھے، ان میں ایک سیّدنا ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ تھے، سیّدنا ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تم سب سے زیادہ جانتا ہوں۔ لیکن انھوں نے کہا:تم نہ تو ہماری بہ نسبت قدیم صحبت والے ہو اور نہ ہم سے زیادہ آپ کی پیروی کرنے والے ہو۔ توانہوں نے کہا : کیوں نہیں، (یہ تمہاری بات تو ٹھیک ہے)۔ بہرحال ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اچھا بیان کرو۔ سیّدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے تو سیدھے کھڑے ہوتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ انہیں کندھوں کے برابر کرتے، پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھ اٹھاتے حتی کہ اپنے کندھوں کے برابر کرتے پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرتے اوررکوع میں برابر ہوجاتے، نہ اپنا سر زیادہ جھکاتے اور نہ زیادہ بلند کرتے اور اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھتے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر اٹھتے اور برابر ہوجاتے حتی کہ ہر ہڈی سیدھی ہوکر اپنی جگہ پر لوٹ آتی، پھر سجدہ کرتے ہوئے نیچے جاتے اور اللہ اکبر کہتے ، پھر اپنے بازو اپنے پیٹ سے دور اور کھول کر رکھتے، اور پاؤں کی انگلیاں (قبلہ کی طرف) موڑ کر رکھتے، پھر (سجدہ سے اٹھ کر) بایاں پاؤں موڑ لیتے اور اس پر بیٹھ جاتے اور برابر ہو جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جاتی، ، پھر سجدہ کرتے ہوئے نیچے جاتے او راللہ اکبر کہتے، پھر اپنا پاؤں موڑ لیتے اور اس پر بیٹھ جاتے حتی کہ ہر عضو اپنی جگہ کی طرف لوٹ آتا، پھر اٹھتے تو دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے ۔ جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور انہیں کندھوں کے برابر کرتے جیسے نماز کے شروع میں کرتے تھے، پھر ایسے ہی کرتے حتی کہ جب وہ آخری رکعت ہوتی جس میں نماز کا اختتام ہوتا تو اپنا بایاں پاؤں (نیچے سے دائیں طرف) نکالتے اور اپنی سرین پر تورک کی حالت میں بیٹھ جاتے پھر سلام پھیرتے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات میں نماز کا جامع سا طریقہ بیان کیا گیا ہے، مختلف قسم کی احادیث مذکور ہیں، تفصیلی گفتگو بعد والے مخصوص ابواب میں کی جائے گی۔ رفع الیدین کے مسئلہ میں آخری حدیث قابل توجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد دس صحابہ کرام اس نماز کے نبوی ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں، جس میں رکوع سے پہلے اور بعد میں رفع الیدین کیا گیا، اس سنت کے منسوخ ہونے کا دعوی کرنے والوں کو ہوش کرنا چاہیے۔ آخری حدیث کے آخری جملے میں تورک کا ذکر ہے، اس کی تفصیل درج ذیل ہے: اِقْعَائ کی طرح تَوَرُّک کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک صورت جائز ہے، جبکہ دوسری جائز۔ جائز صورت:نمازی کا آخری تشہد میں دائیں کولھے کو دائیں پیر پر اس طرح رکھناکہ وہ کھڑا ہو اور انگلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہو، نیز بائیں کولھے کو زمین پر ٹیکنا اور بائیں پیر کو پھیلا کردائیں پنڈلی کے نیچے سے دائیں طرف نکالنا۔ اس حدیث میں اسی صورت کا ذکر ہے۔ تورّک کی ناجائز صورت: نماز میںکھڑے ہو کر دونوں ہاتھوںکو دونوں کولھوں کے برابر رکھنا۔
فَصْلٌ مِنْہُ فِیْ حَدِیْثِ الْمُسِیْئِ فِیْ صَلَاتِہٖ
مُسِیْئُ الصّلَاۃ کی حدیث کے متعلق اسی باب کی ایک فصل
تنبیہ: درج ذیل حدیث میں جس صحابی کا ذکر ہے، اس نے اچھے انداز میں نماز ادا نہیں کی تھی، اس لیے اس کو مُسِیْئُ الصّلَاۃ کہتے ہیں، اس کے لفظی معنی ہیں: نماز کو خراب کرنے والا۔ آج کل اکثر لوگوں کی نمازوں میں اس قسم کی خرابیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1520
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 730، 963، وابن ماجه: 862، والترمذي: 304، والنسائي: 2/ 187 (23599)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23997»
حدیث نمبر: 1521
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ: ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَٰذَا فَعَلِّمْنِي، قَالَ: ((إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمِئَنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آیا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا او ر فرمایا: واپس جاکر دوبارہ نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس چلا گیا،اس نے تین دفعہ یہی کام کیا، بالآخراس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اس سے بہتر ادا نہیں کرسکتا، اس لیے آپ مجھے سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو اللہ اکبر کہہ پھر جتنا میسر ہو قرآن کی تلاوت کر، پھر رکوع کر حتی کہ رکوع کی حالت میں مطمئن ہوجائے، پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے، جب( رکوع سے) اٹھو تو کھڑے ہو کر برابر ہو جایا کر، پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے ، پھر (سجدہ سے) اٹھ کر بیٹھ حتی کہ بیٹھنے کی حالت میں مطمئن ہوجا، پھر اپنی ساری نماز میں اسی طرح کر۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں مطلق طور پر قرآن مجید تلاوت کرنے کا حکم دیا گیا ہے، سورۂ فاتحہ کی قید نہیں لگائی گئی، اس حدیث کے اگلے طرق پر غور کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1521
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 757، 793 ومسلم: 397 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9635)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9633»
حدیث نمبر: 1522
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى كَنَحْوٍ مِمَّا صَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: ((أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: ((إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ وَمَكِّنْ لِرُكُوعِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، وَإِذَا سَجَدْتَّ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صحابیٔ رسول سیّدنا رفاعہ بن رافع زرقی ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اس نے آپ کے قریب نماز پڑھی، اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ وہ واپس تو چلا گیا، لیکن پہلے کی طرح نماز ادا کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا، آپ نے پھر فرمایا: نماز دوبارہ پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! تو پھر آپ مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز ادا کروں؟ آپ نے فرمایا: جب تو قبلہ رخ ہوجائے تو اللہ اکبر کہہ، پھر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر اور اس کے بعد جتنا چاہے قرآن پڑھ سکتا ہے، جب تو رکوع کرے تو اپنی ہتھلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھ، اپنی کمر کو پھیلا دے اور اپنے رکوع میں پوری طرح مطمئن ہو جا، جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی کمر کو سیدھا کر حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں کی طرف لوٹ آئیں، جب سجدہ کرے تو مکمل اطمینان کے ساتھ سجدہ کر ،پھر جب تو اپنا سر اٹھائے تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ جا، پھر اسی طریقے کے مطابق رکوع اور سجدے کیا کر۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث ِ مبارکہ کے ان الفاظ ((ثُمَّ اِقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اِقْرَأَ بِمَاشِئْتَ)) یعنی: پھر سورۂ فاتحہ کی تلاوت کر اور پھر (قرآن میں سے) جو چاہے۔ سے پتہ چلتا ہے کہ جن روایات میں صرف یہ الفاظ ہیں: پھر (قرآن میں سے) جو آسان لگے اس کی تلاوت کر وہ کسی راوی کا اختصار ہیں، اصل اور تفصیلی روایت میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مزید تلاوت کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1522
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 858، 861، والنسائي: 2/ 20، وابن ماجه: 460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18995)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19204»
حدیث نمبر: 1523
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ وَقَالَ: ((ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ)) قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ أَوْفِي الرَّابِعَةِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَقَدْ أَجْهَدْتُ نَفْسِي فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ: ((إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وَضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قُمْ فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَٰذَا فَقَدْ أَتْمَمْتَهَا، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَٰذَا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ،ایک آدمی داخل ہوا اور اس نے مسجد کے کونے میں نماز پڑھی ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، جب اس نے آکر سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس چلا جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ ایسے ہی فرمایا، بالآخر وہ تیسری یا چوتھی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں نے حسب استطاعت بہت کوشش کی ہے، تو پھر آپ خود ہی مجھے تعلیم دے دیں اور دکھا دیں کہ میں نماز کیسے پڑھوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جب تو نماز کا ارادہ کرے تو اچھی طرح وضو کر، پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہہ، پھر قراءت کر، پھر رکوع کر حتی کہ رکوع کی حالت میں تو مطمئن ہوجائے، پھر کھڑا ہو جا حتی کہ قومہ کی حالت میں مطمئن ہوجائے ،پھر سجدہ کر حتی کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہوجا، پھر اٹھ حتی کہ جلسہ میں مطمئن ہوجائے ، پھر کھڑا ہوجا (اور اپنی نماز جاری رکھ)،جب تو نے اپنی نماز اس (طریقے) پر پوری کی تو (اس کا مطلب ہو گا کہ) تو نے اسے مکمل کرلیا ہے اور تو ان امور میں سے جس جس کی کمی کرتا جائے تو حقیقت میں تو اپنی نماز میں کمی کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی مرتبہ ہی اس شخص کو صحیح نماز کی تعلیم کیوں نہیں دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت و دانائی سے متصف اور لوگوں کے مزاج کو سمجھنے والے تھے۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وعظ و نصیحت کی جو صورت اپنائی وہ اس آدمی کے لیے زیادہ مفید تھی، اس طرح سے محافظت اور اہتمام کا زیادہ امکان تھا۔ ان احادیث میں بھی عملی نماز کا ایک جامع سا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ قارئین کو یہ نقطہ ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ مسیء الصلاۃ کی حدیث نماز کے تمام فرائض و واجبات اور سنن و مستحبّات کا احاطہ نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ان امور کا ذکر کیا گیا، جو اس سائل کو سمجھانا ضروری تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صفة الصلاة / حدیث: 1523
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18997)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19206»