کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیانپانی اور مٹی نہ ہونے کے باوجود نماز کے وجوب کے قائلین کی حجت کا بیان
حدیث نمبر: 1001
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا فِي طَلَبِهَا فَوَجَدُوهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وَضُوءٍ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّيَمُّمَ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ! مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدہ اسماءؓ سے ایک ہار بطورِ استعارہ لیا تھا، تو وہ گم ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ افراد کو اس کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا، ان کو وہ مل گیا، لیکن نماز نے ان کو اس حال میں پا لیا کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، پس انھوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یہ شکایت کی، پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل کر دی، سیدنا اسید بن حضیر ؓ نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر دے، جب بھی تمہارا کوئی ایسا معاملہ بنتا ہے، جس کو تم ناپسند کرتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر و بھلائی بنا دیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث پر باب قائم کیا ہے ((باب اذا لم یجد ماء ولا ترابًا۔)) جب کوئی پانی نہ پائے اور مٹی اسے میسر نہ ہو۔ لوگوں نے تیمم کی مشروعیت سے پہلے پانی نہ ہونے کی صورت میں بغیر وضو کے نماز پڑھی تو آپ نے ان کو اعادہ کا حکم نہیں دیا تو تیمم کی مشروعیت کے بعد اگر مٹی نہیں ملتی تو بھی تیمم کے بغیر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ (فتح الباری، ج:۱، ص: ۲۴۱) (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التيمم / حدیث: 1001
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3773، 4583، ومسلم: 367 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24803»