کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: پانی کی موجودگی میں زخم یا سردی کے ڈر کی وجہ سے تیمم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 997
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَ بِالْغَسْلِ فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی عہد ِ نبوی میں زخمی ہو گیا، پس اس کو (جنابت کی وجہ سے) غسل کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ اس غسل سے فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے اُس کو قتل کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ اِن کو ہلاک کرے، کیا جہالت کی شفا سوال میں نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 998
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: ((يَا عَمْرُو! صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ شَدِيدَةِ الْبَرْدِ فَأَشْفَقْتُ إِنْ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ وَذَكَرْتُ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ذات السلاسل والے سال بھیجا، ہوا یوں کہ مجھے شدید سردی والی رات کو احتلام ہو گیا، اب میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا، سو میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو نماز ِ فجر پڑھائی، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس آئے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمرو! کیا تو نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا دی؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھے سخت سردی والی رات کو احتلام ہو گیا تھا اور میں ڈرنے لگا کہ اگر میں نے غسل کیا تو مر جاؤں گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد آ گیا: اور اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تمہاے ساتھ بے حد رحم کرنے والا ہے۔ پس میں نے تیمم کر کے لوگوں کو نماز پڑھا دی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور مزید کچھ نہ کہا۔