کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور¤ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
حدیث نمبر: 988
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَكَانَ النَّبِيُّ إِنَّمَا يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مِنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَلْيُصَلِّ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسی پانچ چیزیں دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، جبکہ مجھ سے پہلے ہر نبی کو خاص طور پر اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے، میرے لیے غنیمتیں حلال قرار دی گئیں، جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھیں، ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اور مسجد بنا دیا گیا ہے، پس جس آدمی کو نماز جہاں بھی پا لیتی ہے، وہ وہیں نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 989
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((جُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ساری زمین میرے لیے اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے، پس میری امت کے جس فرد کو نماز جہاں بھی پا لے، تو اس کے پاس اس کی مسجد اور پاک کرنے والی چیز موجود ہو گی۔
حدیث نمبر: 990
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُوْتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے جوامع الکلم عطا کیے گئے ہیں اور زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … جَوَامِعُ الکَلِم: ان سے مرادیہ ہے کہ بظاہر تو کلام مختصر اور کم حروف والے الفاظ پر مشتمل ہو، لیکن وہ اپنے اندر کئی معانی اور احکام کو سموئے ہوئے ہو۔
حدیث نمبر: 991
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أُعْطِيتُ مَا لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ)) فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هُوَ؟ قَالَ: ((نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَسُمِّيتُ أَحْمَدَ وَجُعِلَ التُّرَابُ لِي طَهُورًا وَجُعِلَتْ أُمَّتِي خَيْرَ الْأُمَمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے وہ چیزیں عطا کی گئی ہیں، جو کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رعب کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے، مجھے زمین کی چابیاں عطا کی گئی ہیں، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، مٹی کو میرے لیے پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے اور میری امت کو سب سے بہترین امت بنایا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 992
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِيَ الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ وَكَانَ مِنْ قَبْلِي يُعَظَّمُونَ ذَلِكَ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والا بنا دیا گیا ہے، نماز جہاں بھی مجھے پا لے، میں تیمم کر کے نماز پڑھ لوں گا، جبکہ مجھ سے پہلے والے لوگوں پر یہ عمل دشوار گزرتا تھا، وہ صرف اپنے گرجا گھروں اور کلیساؤں میں نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 993
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهْرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ فَأَقُولُ: إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَيَقُولُ: ((وَمَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکلتے تھے اور پیشاب کر کے تیمم کر لیتے تھے، جب میں کہتا کہ پانی آپ کے قریب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: میں نہیں جانتا، شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔