حدیث نمبر: 922
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنی بیوی کو حمام میں داخل نہ کرے، جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جا رہی ہو اور جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اس عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، جس کے ساتھ محرم نہ ہو، کیونکہ ان کا تیسرا شیطان ہو گا۔
حدیث نمبر: 923
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي عُذْرَةَ رَجُلٍ كَانَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمَّامَاتِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ فِي الْمِئْزَرِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عذرہؓ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا، سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کو حماموں سے منع کر دیا، پھر مردوں کے لیے ازار پہن کر نہانے کی رخصت دے دی اور عورتوں کو کوئی رخصت نہ دی۔
حدیث نمبر: 924
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ: دَخَلَ نِسْوَةٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي تَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِلَّا هَتَكَتْ سِتْرًا، (وَفِي رِوَايَةٍ: سِتْرَهَا) بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو ملیح کہتے ہیں: اہل شام کی کچھ خواتین، سیدہ عائشہؓ کے پاس گئیں، انھوں نے ان سے کہا: تم ہی وہ خواتین ہو جو حماموں میں داخل ہوتی ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت بھی اپنے گھر کے علاوہ کپڑے اتارے گی، وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان والے پردے کو چاک کر دے گی۔
حدیث نمبر: 925
عَنِ السَّائِبِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نِسْوَةً دَخَلْنَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ فَسَأَلَتْهُنَّ مِمَّنْ أَنْتُنَّ؟ قُلْنَ: مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِهَا خَرَقَ اللَّهُ عَنْهَا سِتْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سائب کہتے ہیں: حمص سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین سیدہ ام سلمہؓ کے پاس آئیں، انھوں نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم حمص علاقے سے ہیں۔ یہ سن کر سیدہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو عورت اپنے گھر کے علاوہ کپڑے اتارے گی، اللہ تعالیٰ اس کے پردے کو چاک کر دے گا۔
حدیث نمبر: 926
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِإِزَارٍ، مَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہو اور جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، وہ (کسی صورت میں) حمام میں داخل نہ ہو۔
حدیث نمبر: 927
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابوہریرہ کی اس حدیث ِ مبارکہ کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ مِنْ ذُکُوْرِ اُمَّتِیْ فَلَایَدْخُلِ الْحَمَّامَ اِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ کَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ مِنْ اِنَاثِ اُمَّتِیْ، فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ۔)) … میری امت کے مردوں میں جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہو، وہ ازار کے بغیر حمام میں داخل نہ ہوں اور میری امت کی جو خواتین اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں، وہ حمام میں داخل ہی نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 928
عَنْ يُحَنَّسَ أَبِي مُوسَى أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهَا يَوْمًا فَقَالَ: ((مِنْ أَيْنَ جِئْتِ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟)) فَقَالَتْ: مِنَ الْحَمَّامِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَنْزِعُ ثِيَابَهَا إِلَّا هَتَكَتْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ سِتْرٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام درداءؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ام درداء! تم کہاں سے آ رہی ہو؟ انھوں نے کہا: جی حمام سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو عورت (اپنے گھر کے علاوہ) کپڑے اتارتی ہے، وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے مابین پردے کو چاک کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 929
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: خَرَجْتُ مِنَ الْحَمَّامِ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مِنْ أَيْنَ يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ؟)) قَالَتْ: مِنَ الْحَمَّامِ، فَقَالَ: ((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! مَا مِنْ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ أَحَدٍ مِنْ أُمَّهَاتِهَا إِلَّا وَهِيَ هَاتِكَةٌ كُلَّ سِتْرٍ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ ام درداء ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جونہی میں حمام سے نکلی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام درداء! کہاں سے؟ میں نے کہا: جی حمام سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو عورت اپنی ماؤں کے علاوہ کسی اور کے گھر میں کپڑے اتارتی ہے، وہ ہر پردے کو پھاڑ دیتی ہے، جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں عورتوں کی حرمت کے تحفظ کی خاطر ایک سنہری اصول یہ بیان کیا گیا ہے کہ عورت کو اپنے گھر کے علاوہ کسی غیر کے گھر میں کپڑے نہیں اتارنے چاہئیں، یہ شرم و حیا کی پیکر عورتوں کی خوبی ہے، جو خواتین اس اصول کی پابند نہیں ہیں، ان میں غیر سنجیدگی اور آوارگی پائی جاتی ہے اور ہمارے معاشرے میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ دھوکہ دے کر یا چوری چھپے ایسی خواتین کی فلمیں بنوا لی گئیں اور پھر ان سے وہ کچھ کروایا گیا، جو کروانے والوں کے جی میں آیا۔