کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ایک سے زائد غسل کی وہ اقسام، جن کا احادیث میں اکٹھا ذکر کیا گیا
حدیث نمبر: 913
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ عَرَفَةَ وَيَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: وَكَانَ الْفَاكِهُ بْنُ سَعْدٍ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَٰذِهِ الْأَيَّامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا فاکہ بن سعدؓ، جو کہ صحبت یافتہ تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمَعَہُ کے دن، عرفہ کے دن، عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے، اسی بنا پر سیدنا فاکہؓ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 914
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: ((يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَابَةِ وَالْحِجَامَةِ وَغُسْلِ الْمَيِّتِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار امور سے غسل کیا جاتا ہے: جمعہ سے، جنابت سے، سینگی لگوانے سے اور میت کو غسل دینے سے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایات تو ضعیف ہے، ان میں سے مسنون غسلوں کی وضاحت آ گے آ رہی ہے، مثلا غسلِ جمعہ، غسلِ جنابت، میت کو غسل دینے سے غسل کرنا۔