حدیث نمبر: 909
عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً، قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ يُخَافِتُ بِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ وَرُبَّمَا خَافَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
غُضیف بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں غسل کرتے تھے یا آخر میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں غسل کر لیتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے، پھر میں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے یا آخری حصے میں؟ انھوں نے کہا: کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں نمازِ وتر ادا کرتے تھے اور کبھی آخری حصے میں۔ میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے،میں نے پھر کہا: اس بارے میں آپ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی تلاوت بآواز بلند کرتے تھے یا بآواز پست؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات جہری طور پر تلاوت کرتے تھے اور بسا اوقات سری طور پر، میں نے کہا: اَللّٰہُ أکْبَرُ، ساری تعریف اس اللہ کی ہے، جس نے اس معاملے میں بھی وسعت رکھی ہے۔
حدیث نمبر: 910
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَغْتَسِلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو جاتے تھے اور پانی کو چھوتے تک نہیں تھے، پھر جب بیدار ہوتے تو غسل کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی کو چھوتے تک نہیں تھے۔ ان الفاظ کے دو معانی مراد لیے جا سکتے ہیں، ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کے لیے پانی کو نہیں چھوتے تھے، اس معنی سے وضو کی نفی نہیں ہوتی، دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے نہ غسل، اس معنی سے معلوم ہو گا کہ وضو کو ترک کرنا بھی جائز ہے، اور حدیث نمبر (۹۰۰)کے فوائد میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ سونے سے پہلے جنابت والے آدمی کے لیے وضو کرنا مستحب ہے، ضروری نہیں ہے۔ بہرحال محدثین کا یہ خیال بھی ہے کہ وَلَا یَمَسُّ مَائً کے الفاظ ابو اسحق کی غلطی کا نتیجہ ہیں، اصل روایت ان الفاظ کے بغیر ہے۔
حدیث نمبر: 911
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنْ أَهْلِهِ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنَامُ وَلَا يَمَسُّ مَاءً، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَادَ إِلَى أَهْلِهِ وَاغْتَسَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے پہلے حصے میں اپنی بیوی سے مجامعت کرتے تھے، پھر پانی کو چھوئے بغیر سو جاتے تھے، جب رات کے آخری حصے میں بیدار ہوتے تو پھر حق زوجیت ادا کرتے اور پھر غسل کرتے۔
حدیث نمبر: 912
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَنْتَبِهُ ثُمَّ يَنَامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب جنبی ہو جاتے تو سوجاتے، پھر بیدار ہوتے اور پھر سو جاتے۔