کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جب جنبی آدمی سونے، کھانے اور دوبارہ حق زوجیت ادا کرنے کا ارادہ کرے تووہ کیا کرے¤سونے کا ارادہ رکھنے والے جنبی کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 900
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَصْنَعُ أَحَدُنَا إِذَا هُوَ أَجْنَبُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ لِيَنَمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطابؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سے یہ سوال کیا کہ جب ہم میں سے کسی آدمی کو جنابت لاحق ہو جائے اور پھر وہ سونا بھی چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز والا وضو کر لے، پھر سوجائے۔
وضاحت:
فوائد: … مسند احمد (۱۶۵) میں اس حدیث کے الفاظ یوں ہیں: سیدنا عمر ؓنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر ہم میں سے کوئی آدمی جنبی ہو تو کیا وہ سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَتَوَضَّأُ وَیَنَامُ اِنْ شَائَ۔)) … اگر وہ چاہتا ہے تو وضو کر کے سو جائے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ جنابت والے آدمی کے لیے سونے سے پہلے وضو کر لینا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 900
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 287، 289، ومسلم: 306 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 94 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 94»
حدیث نمبر: 901
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِهِ (وَفِيهِ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ؓ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیں اور نماز والا وضو کر لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 263»
حدیث نمبر: 902
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: هَلْ يَنَامُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ وَيَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ)) قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ مَا خَلَا رِجْلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا: کیا کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، البتہ نماز والا وضو کر لے۔ سیدنا ابن عمرؓجب اس طرح کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے، البتہ پاؤں نہیں دھوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓکے عمل کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱)کسی عذر کی بنا پر پاؤں نہ دھوئے
(۲)یہ ثابت کرنے کے لیے پاؤں نہ دھوئے کہ یہ وضو فرض نہیں ہے۔
(۳)عام روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسلِ جنابت کے دوران آخر میں پاؤں دھوتے تھے، ممکن ہے کہ سیدنا ابن عمر ؓنے اس فعل سے استدلال کرتے ہوئے پاؤں نہ دھوئے ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث تقدم مرفوعه برقم (900)۔ ولفظ القسم المرفوع منه عند عبد بن حميد: ((نعم ويتوضأ وضوء ه للصلاة ما عدا قدميه۔)) فجعل قوله ما عدا قدميه مرفوعا مع انه عند غيره موقوف علي ابن عمر۔ وأخرج فعل ابن عمر ھذا مالك في المؤطا : 1/ 48، وابن ابي شيبة: 1/ 60، والبيھقي: 1/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4929 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4929»
حدیث نمبر: 903
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تَرْقُدَنَّ جُنُبًا حَتَّى تَتَوَضَّأَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو جنابت کی حالت میں وضو کیے بغیر ہر گز نہ سو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ ؓسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِذَا کَانَ جُنُبًا وَاَرَادَ اَنْ یَّاْکُلَ اَوْ یَنَامَ تَوَضَّأَ۔ … جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنبی ہوتے اور کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ کرتے تو وضو کرتے تھے۔ (معجم اوسط طبرانی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 903
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «قال الھيثمي: فيه رجل لم يسمّ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9082»
حدیث نمبر: 904
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن خباب کہتے ہیں کہ سیدناابو سعید خدریؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ اس کو جنابت لاحق ہو جاتی ہے، جب کہ وہ سونے کا ارادہ بھی رکھتا ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ان کو حکم دیا کہ وہ وضو کر کے سو جایا کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 904
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 586 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11523 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11543»
حدیث نمبر: 905
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا وَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ تَوَضَّأَ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ وَكَانَ يَقُولُ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ فَلْيَتَوَضَّأْ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنابت لاحق ہو جاتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سونے کا ارادہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سونے سے پہلے نماز والا وضو کرتے اور فرماتے: جو جنابت کی حالت میں سونے کاارادہ رکھتا ہو تو نماز والا وضو کر لیاکرے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ جنبی آدمی کا صبح تک غسل لیٹ کرنا جائز ہے، لیکن ایسی صورت میں اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر کے سوئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «الحديث من فعله صلي الله عليه وآله وسلم صحيح، ومن قوله صلي الله عليه وآله وسلم صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 288، ومسلم: 305 من فعله صلي الله عليه وآله وسلم ، ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25115»