کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ایک غسل میں یا متعدد غسلوں میں ایک سے زائد بیویوں کے پاس جانے والے کا بیان
حدیث نمبر: 898
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي يَوْمٍ) فَاغْتَسَلَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُسْلًا، فَقُلْتُ: (وَفِي رِوَايَةٍ: فَقِيلَ) يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوِ اغْتَسَلْتَ غُسْلًا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: ((هَٰذَا أَطْيَبُ وَأَطْهَرُ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو اپنی بیویوں کے پاس چکر لگایا اور ہر ایک کے پاس غسلِ جنابت کیا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ آخر میں ایک ہی غسل کر لیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ زیادہ پاکیزہ، طاہر، ہے۔ ایک روایت میں ہے اَزْکٰی وَاَطْیَبُ وَاَطْہَرُ یہ قریب قریب مفہوم والے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 899
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ) بِغُسْلٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس جا کر (ہم بستری کرتے تھے اور آخر میں) ایک غسل کر لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے: قتادہ نے سیدنا انس ؓسے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی طاقت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیس افراد کی قوت دی گئی ہے۔ فوائد: … پہلی حدیث استحباب اور افضلیت پر اور دوسری جواز پر دلالت کرتی ہے، اور اس امر سے متعلقہ تیسرا عمل درج ذیل ہے: سیدنا ابو سعید خدری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی سے مجامعت کرے اور پھر وہ دوبارہ آنا چاہے تو درمیان میں وضو کر لے۔ (صحیح مسلم) اور ابن حبان اور حاکم کی روایت میں ہیں: کیونکہ اس وضو سے دوبارہ آنے کے لیے زیادہ نشاط اور مستعدی پیدا ہو گی۔