کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 892
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مُغْتَسَلِهِ حَيْثُ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس غسل خانے میں جنابت والا غسل کرتے تھے، اس سے باہر آ کر پاؤں دھوتے تھے۔
حدیث نمبر: 893
عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِثَوْبٍ حِينَ اغْتَسَلَ فَقَالَ بِيَدِهِ هَٰكَذَا تَعْنِي رَدَّهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ میمونہؓ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کرلیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑا لے کر آئی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو ردّ کر دیا۔
حدیث نمبر: 894
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَتْ: فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً فَقَالَ هَٰكَذَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ لَا أُرِيدُهَا، قَالَ سُلَيْمَانُ (الْأَعْمَشُ أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ): فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ: هُوَ كَذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: لَا بَأْسَ بِالْمِنْدِيلِ، إِنَّمَا هِيَ عَادَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک چیتھڑا پکڑایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ اشارہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نہیں چاہیے، سلیمان اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابراہیم کے لیے ذکر کی، انھوں نے کہا: بات اسی طرح ہی ہے، اور انھوں نے اس کا انکار نہیں کیا اور مزید کہا: کپڑا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطورِتولیہ کپڑا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایسا کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
سیدنا عروہ ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ لَہُ خِرْقَۃٌ یَتَنَشَّفُ بِھَا بَعْدَ الْوُضُوْئِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا، جس سے وضو کے بعد (اعضا) خشک کرتے تھے۔ (ترمذی:۱/۷۴، حاکم:۱/۱۵۴، بیھقی:۱/۱۸۵، صحیحہ: ۲۰۹۹) وضو یا غسل کے بعد اعضاء کو تولیے وغیرہ سے خشک کرنے یا نہ کرنے کا وضو اور غسل کے اجر کی کمی یا زیادتی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، یہ ایک طبعی معاملہ ہے۔
حدیث نمبر: 895
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل شروع کرتے وقت وضو کر لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 896
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَصَلَاةَ الْغَدَاةِ، لَا أَرَاهُ يُحْدِثُ وَضُوءً بَعْدَ الْغُسْلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کرتے، پھر دو سنتیں اور نمازِ فجر ادا کرتے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کے بعد نیا وضو کیا ہو۔