کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غسل میں سر دھونے کی کیفیت اور بالوں کو کھولنے کا بیان
حدیث نمبر: 883
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنْ غَسْلِ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَكْفِيكَ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثَ أَكُفٍّ ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! إِنِّي رَجُلٌ كَثِيرُ الشَّعْرِ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان سے سر دھونے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: تین چلّو تم کو کافی ہیں، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو جمَعَ کر کے اشارہ کیا، لیکن اس آدمی نے کہا: اے ابو سعید! میرے بال تو بہت زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیری بہ نسبت زیادہ بالوں والے اور زیادہ پاکیزگی والے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 883
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 576 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11694 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11717»
حدیث نمبر: 884
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ (بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ) قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعِ فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ فَاغْتَسَلَتْ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا الْحِجَابُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں اور سیدہ عائشہؓ کا رضاعی بھائی، سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئے، رضاعی بھائی نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا، پس انھوں نے صاع کے بقدر برتن منگوا کر غسل کیا اور اپنے سر پر تین چلو ڈالے، جبکہ ہمارے اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔
وضاحت:
فوائد: … منکرین احادیث نے انکارِ حدیث کے لیے اس روایت کے ان الفاظ کا سہارا لیا ہے، جن میں پردے کا ذکر نہیں ہے اور انھوں نے طعن کرتے ہوئے کہا کہ یہ احادیث ہیں کہ جن میں ان دو مردوں کے سامنے سیدہ عائشہ ؓغسل کر رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا ابو سلمہ، سیدہ عائشہ ؓکے رضاعی بھانجے تھے، سیدہ ام کلثوم بنت ابو بکر ؓنے ابو سلمہ کو دودھ پلایا تھا اور دوسرا شخص سیدہ کا رضاعی بھائی تھا، اس کا نام عبد اللہ بن یزید تھا۔ یہ دو محرم رشتہ دار تھے اور اِن کے اور سیدہ کے وجود کے درمیان پردہ بھی حائل تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 884
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 251، ومسلم: 320 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24934»
حدیث نمبر: 885
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: كَمْ يَكْفِينِي رَأْسِي فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، قَالَ: إِنَّ شَعْرِي كَثِيرٌ، قَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ وَأَطْيَبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: غسلِ جنابت میں کتنا پانی میرے سر کے لیے کافِیْ ہو گا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنے سر پر تین چلو ڈالتے تھے۔ اس نے کہا: میرے بال تو زیادہ ہیں، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال زیادہ بھی تھے اور پاکیزہ بھی تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 885
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 578 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7412»
حدیث نمبر: 886
عَنْ جَمِيعِ بْنِ عُمَيْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ كُنْتُنَّ تَصْنَعْنَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُؤُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جمیع بن عمیر کہتے ہیں: میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے یہ سوال کیا: تم غسل کے وقت کیا کرتی تھیں؟ سیدہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو نماز والا وضو کر کے اپنے سر پر تین چلّو ڈالتے تھے، لیکن ہم مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ چلّو ڈالتی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 886
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جُمَيع بن عمير۔ أخرجه ابوداود: 241، والنسائي: 11/ 389، وابن ماجه: 574 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26068»
حدیث نمبر: 887
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَجْمَرْتُ رَأْسِي إِجْمَارًا شَدِيدًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَائِشَةُ! أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةً؟))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنے سر کے بالوں کو بڑی مضبوطی سے باندھا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی نہیں ہو کہ ہر بال پر جنابت ہوتی ہے!؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 887
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن عائشة ولضعف شريك النخعي، وخصيفُ بنْ عبد الرحمن الجزري مختلف فيه، وھو الي الضعف اقرب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24797 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25308»
حدیث نمبر: 888
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعْرَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ لَمْ يُصِبْهَا مَاءٌ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ كَذَا وَكَذَا مِنَ النَّارِ)) قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعْرِي، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: كَمَا تَرَوْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علیؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ سیدنا علیؓ نے کہا:یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کی ہے، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کی مذکور تخریج و تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ سیدناعلی ؓکا قول ہے کہ جس نے غسل جنابت کے دوران ایک بال کے بقدر جگہ کو اس طرح چھوڑ دیا کہ اس تک پانی نہ پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ جہنم کی آگ سے ایسے ایسے کرے گا۔ لیکن اس کو مرفوع کا حکم دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بات رائے اور اجتہاد سے تو نہیں کہی جا سکتی، اس کے ساتھ درج ذیل دو مرفوع روایات بھی ہیں، اگرچہ ان میں ضعف ہے، جو کہ بیان کر دیا گیا ہے، لیکن اگر ان تمام کو ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کی کوئی اصل ہے۔
سیدنا ابو ایوب انصاری ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… فَاِنَّ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃً۔)) … پس بیشک ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ (ابن ماجہ: ۵۹۸، یہ منقطع ہے، طلحہ بن نافع نے سیدنا ابو ایوب ؓسے نہیں سنا)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 888
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده مرفوعا ضعيف، عطاء بن السائب اختلط بأخرة وعامة من رفع عنه ھذا الحديث، فانما رواه عنه بعد اختلاطه، روي حمادُبن زيد ھذا الحديث فوقفه علي علي ؓوھو ممن اتفقوا علي انه روي عن عطاء قبل اختلاطه۔ أخرجه ابوداود: 249، وابن ماجه: 599 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1121»
حدیث نمبر: 889
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي؟ قَالَ: ((يُجْزِيكِ أَنْ تَصُبِّي عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی عورت ہوں کہ سر کی مینڈھیوں کو سختی سے گوندھتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تجھے یہ کافی ہے کہ تو سر پر تین دفعہ پانی بہا دے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓنے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں حیض اور جنابت کے غسل کے لیے (سر کی مینڈھیوں) کو کھولوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تجھے تو یہ کافی ہے کہ تو اپنے سر پر پانی کے تین چلو ڈالے اور اپنے آپ پر پانی بہا دے اور اس طرح پاک ہو جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 889
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 330، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26477 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27010»
حدیث نمبر: 890
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَخْرُجْنَ مَعَهُ عَلَيْنَا الضِّمَادُ نَغْتَسِلْنَ فِيهِ وَنَعْرَقْنَ لَا يَنْهَانَا عَنْهُ مُحِلَّاتٍ وَلَا مُحَرَّمَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلتی تھیں،ہم نے سروں پر لیپ کیا ہوتا تھا، اسی حالت میں ہم غسل کرتی تھیں اور پسینہ بھی آتا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو منع نہیں کرتے تھے، ہماری یہ کیفیت حالت ِ احرام میں بھی ہوتی تھی اور احرام کے بغیر بھی۔
وضاحت:
فوائد: … جب امام اسحاق نے یہ روایت بیان کی تو انھوں نے اس کے آخر میں یہ زیادتی کی: وَالضَّمَادُ ھُوَ السُّکُّ۔ … … ضماد سے مراد ایک قسم کی مشک ملی ہوئی خوشبو ہے۔ مسند احمد (۲۴۵۰۲) میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدہ عائشہ ؓکہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلتی تھیں، جبکہ ہم احرام سے پہلے اپنے سروں کو لیپ کر لیتی تھیں، پھر اِس سمیت غسل کرتی رہتی تھیں اور ہم کو پسینہ آتا رہتا تھا اور پھر ہم غسل کرتی تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو منع نہیں کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس حدیث کا تعلق غسل جنابت سے نہیں ہے۔
حدیث نمبر ۸۹۰ میں تو صاف آ رہا ہے کہ احرام اور غیر احرام حالت میں وہ غسل کرتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو منع نہیں کرتے تھے۔ فوائد میں مذکور حدیث میں احرام کی حالت کا ذکر ہے اور متن میں مذکور حدیث میں احرام کے علاوہ حالت کا ذکر بھی ہے۔
اس لیے ازواج مطہرات کے غسل کرنے کو عموم پر محمول کرنا چاہیے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سر کو لیپ کیا ہوا ہو تو غسل کیا جا سکتا ہے۔ خواہ وہ غسل جنابت ہو یا عام غسل۔ غسل جنابت کے لیے بالوں کو کھولنا یا لیپ کو اتارنا ضروری نہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 890
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1830 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25576»
حدیث نمبر: 891
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُؤُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو، هُوَ يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُؤُوسَهُنَّ، أَعَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ، لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فَمَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبیدہ بن عمیر کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ؓعورتوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کے وقت اپنے بال کھول دیا کریں، تو انھوں نے کہا: ابن عمرو پر بڑا تعجب ہے، وہ عورتوں کو غسل کے وقت بال کھول دینے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ خواتین اپنے سر ہی منڈوا دیں، مسئلہ تو یوں ہے کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن میں اکٹھا غسل کرتے تھے، میں اپنے سر پر صرف تین بار پانی ڈالتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ حیض اور جنابت کے غسل کے لیے عورتوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ سارے بال کھول کر ان کو تر کریں، بلکہ ان کو یہ عمل کفایت کرے گا کہ بال کھولے بغیر سر پر تین چلو ڈال دیں، لیکن بالوں کی جڑوں اور سر کے چمڑے تک پانی پہنچنا چاہیے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق سیدہ اسماء ؓ کے حیض کے غسل سے متعلقہ سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ((ثُمَّ تَصُبُّ عَلٰی رَاْسِھَا فَتَدْلُکُہٗ دَلْکًا شَدِیْدًا حَتّٰی تَبْلُغَ شُؤُوْنَ رَاْسِھَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْھَا الْمَائَ، …۔)) … پھر وہ اپنے سر پر پانی ڈالے اور اس کو سختی سے ملے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی بہا دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 231 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24661»