کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: غسل کے وقت پردہ کرنا
حدیث نمبر: 861
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ: ((اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی ؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک کپڑا دے کر فرمایا: اس کے ساتھ مجھ پر پردہ کرو اور اپنی پیٹھ میری طرف کر لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 861
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شريك سييء الحفظ، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2911»
حدیث نمبر: 862
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَاءَ لَمْ يُلْقِ ثَوْبَهُ حَتَّى يُوَارِيَ عَوْرَتَهُ بِالْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک حضرت موسی بن عمرانؑ جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اس وقت تک کپڑا نہیں اتارتے تھے، جب تک پردے کے مقامات کو پانی سے نہ چھپا لیتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 862
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13800»
حدیث نمبر: 863
عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَيِيُّ سِتِّيرٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَغْتَسِلَ فَلْيَتَوَارَ بِشَيْءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا یعلی بن امیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ حیادار اور پردے والا ہے، اس لیے جب کوئی آدمی غسل کرنے لگے تو وہ کسی چیز کے ساتھ چھپ جایا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود اور نسائی کی روایت میں یہ اضافہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو کھلی جگہ میں ازار کے بغیر نہاتے ہوئے دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیادار …۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 863
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 4013، والنسائي: 1/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18133»
حدیث نمبر: 864
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسِّتْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا یعلی بن امیہؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ حیا اور پردے کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 864
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه ، عطاء لم يسمع من يعلي، وابنُ ابي ليلي ضعيف، وانظر الحديث السابق ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18131»
حدیث نمبر: 865
عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ (بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَتْ: فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، (الْحَدِيثُ) سَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي غَزْوَةِ فَتْحِ مَكَّةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ہانیؓ سے مروی ہے کہ وہ فتح مکہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گئیں، وہ کہتی ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں پایا کہ آپ غسل فرما رہے تھے اور سیدہ فاطمہ ؓ ایک کپڑے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پردہ کر رہی تھیں، … ۔ (یہ پوری حدیث غَزْوَۃُ فَتْحِ مَکَّۃَ میں آئے گی۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 865
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 280، 357، 3171، 6158، ومسلم: 336 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27923»
حدیث نمبر: 866
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ، فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ! أَلَمْ أَكُنْ أَغْنَيْتُكَ عَمَّا تَرَى؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت ایوب ؑ برہنہ حالت میں غسل کر رہے تھے کہ ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، حضرت ایوبؑ ان کو اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنے لگ گئے، اس کے ربّ نے اس کو یوں آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کیا، جو تجھے نظر آ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے رب! لیکن تیری برکت سے کوئی بے پرواہی نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نہاتے وقت پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اگر دیکھنے والا کوئی آدمی ہو تو یہ پردہ فرض ہے اور اگر کوئی بھی نہ ہو تو مستحب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الغسل من الجنابة وموجباته / حدیث: 866
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 279، 3391، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8144»